Column

کرپشن، معاشی بحران اور حل ….. عبدالرشید مرزا

عبدالرشید مرزا …….

آج پاکستان میں بڑھتی ہوئی کرپشن اور معاشی بحران کی وجہ سے وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں عالمی اداروں نے مختلف شعبوں کی درجہ بندی کی ہے ۔ پاکستان میں کرپشن، ٹیکس کی چوری، ٹیکسوں میں بے جا چھوٹ و مراعات، ٹیکسوں کی استعداد سے کم وصولی، حکومت و حکومتی اداروں کے شاہانہ اخراجات، کچھ حکومتی اداروں کی مایوس کن کارکردگی، جائز اور ناجائز طریقوں سے سرمائے کی ملک سے باہر منتقلی، ٹیکس ایمنسٹی قسم کی سکیموں کے وقتاً فوقتاً اجراءاور انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق (4)(1) کے برقرار رہنے سے قومی خزانے کو نو ہزار روپے سالانہ یا پچیس ارب روپے روزانہ کا نقصان ہورہا ہے۔ انٹیلیکچوئل کرپشن سے ہونے والے نقصانات کا حجم اِس سے کہیں زیادہ ہے۔ پاکستان سے کمائی ہوئی ناجائز دولت کا ایک حصہ مختلف اثاثوں کی شکل میں ملک کے اندر ہی موجود رہتا ہے جبکہ دوسرا حصہ جائز اور ناجائز طریقوں سے ملک سے باہر منتقل ہوجاتا ہے۔ کرپشن سے پاکستان کی آمدن میں کمی واقعہ ہوئی جس کی وجہ سے یہ نتائج مرتب ہوئے ہیں ۔

بھوک کی صورتحال کے لحاظ سے دنیا کے 117ملکوں میں پاکستان کا نمبر 94 ہے، یعنی 93ملکوں میں صورتحال پاکستان سے بہتر ہے۔انسانی وسائل کی ترقی کی درجہ بندی میں 189ملکوں میں پاکستان کا نمبر154 ہے یعنی 153ممالک پاکستان سے بہتر ہیں۔ بھارت اور بنگلہ دیش اِس درجہ بندی میں پاکستان سے بہتر ہیں۔بدعنوان ممالک کی فہرست میں 180ممالک میں پاکستان کا نمبر140ہے یعنی اسلامی جمہوریہ پاکستان کا شمار بدعنوان ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں اِس درجہ بندی میں ابتری آئی ہے۔ پاکستان کے مقابلے میں بدعنوانی بھارت میں کم ہے۔ اگر پاکستان کو مختلف شعبوں میں بہتر درجہ بندی حاصل کرنا ہے تو معیشت کی تنظیم نو کرنا ہوگی خصوصاً ٹیکسوں اور توانائی کے شعبے میں، علم پر مبنی معیشت اپنانا ہوگی اور کرپشن کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے (بشمول) احتساب کا موثر نظام اپنانا ہوگا۔ اِس ضمن میں سب سے پہلے ملک میں احتساب کا یکساں نظام نافذ کرنا ہوگا۔

گزشتہ 24برسوں سے ہم وقتاً فوقتاً سمجھتے رہے ہیں کہ یہ بات کوئی راز نہیں کہ ملک کے اندر اربوں روپے کے ایسے اثاثے موجود ہیں جو قومی دولت لوٹ کر (بشمول ٹیکس کی چوری اور دوسرے ناجائز ذرائع سے کما کر) بنائے گئے تھے لیکن اِن کو قومی خزانے میں واپس لانے کے لیے کوئی بھی حکومت موثر قدم نہیں اٹھا رہی حالانکہ ملک کے اندر موجود ہونے کی وجہ سے یہ اثاثے حکومت کی دسترس میں ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے مختلف حکومتیں اِن ناجائز اثاثوں (ملکی پاناماز) کو معمولی شرح ٹیکس پر قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے ٹیکس ایمنسٹی قسم کی سکیموں کا اجراءکرتی رہی ہیں حالانکہ وہ اِس حقیقت کو اچھی طرح سمجھتی تھیں کہ ملک میں کالا دھن اِس کے بعد بھی پیدا ہوتا رہے گا۔ صاف ظاہر ہے کہ ٹیکس ایمنسٹی قسم کی سکیموں کا اجراءمعیشت کی بہتری کے لیے نہیں بلکہ ناجائز دولت رکھنے والوں کے مفاد میں کیا جاتا رہا ہے۔ تحریک انصاف کے چیئر مین کی حیثیت سے مسلم لیگ (ن) کی 2018ءکی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کو مسترد کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ یہ سکیم مجرموں کو بچانے کا ایک شرمناک عمل ہے اور ایمانداری سے ٹیکس دینے والوں کے منہ پر طمانچہ ہے اور جو لوگ اس سکیم سے فائدہ اٹھائیں گے وہ اِن کے معاملات کو اقتدار میں آنے کے بعد اَزسرنو دیکھیں گے۔ وزیراعظم کے عہدہ کا حلف اٹھانے کے بعدبہرحال اِن کی حکومت نے احکامات جاری کیے کہ ِان معاملات کونہ چھیڑا جائے۔

اقتدار میں آنے کے بعد حکومت نے متعدد ٹیکس ایمنسٹی سکیموں کا اجراءکیا۔2019ءمیں پاکستان کی تاریخ کی سب سے کم شرح ٹیکس پر ایک ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا اجراءکیا۔ اس سکیم کے ضمن میں ایف بی آر کی جانب سے جو اشتہارات قومی اخبارات میں شائع کرائے گئے اِن میں تنبیہ کی گئی تھی کہ جو لوگ اس سکیم سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے اِن کے ملک کے اندر موجود ناجائز اثاثے ضبط کرلیے جائیں گے اور اِن کو سات سال کے لیے جیل بھی جانا پڑ سکتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی پ ±رعزم انداز میں کہا تھا ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی میعاد گزرنے کے بعد ناجائز اثاثے رکھنے والوں کے خلاف کریک ڈاﺅن کیا جائے گا اور یہ کہ ملک کے اندر موجود اِن ناجائز اثاثوں کی تفصیلات حکومت کے پاس موجود ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے وزیراعظم اِسی مافیا کا حصہ تمام معلومات ہونے کے باوجود خاموش ہیں یہ ملک و قوم کی بدقسمتی ہے کہ ناجائز اثاثے رکھنے والے طاقتور طبقوں کے دباﺅ کی وجہ سے حکومت اِس ضمن میں اقدامات اٹھانے سے گریزاں ہے۔حکومت نے 2020ءمیں تعمیراتی شعبے کے لیے ایک اور ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے اجراءکیا۔ اِس سکیم کی وجہ سے اب تک تعمیراتی شعبے میں 1000 ارب روپے کی سرمایہ کاری ہوچکی ہے ،چوری سے کمایا گئے پیسے کی تعمیراتی شعبہ پر سرمایہ کاری ہوئی لیکن حکومت کو ٹیکسوں کی مد میں نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ یہ سکیم آج بھی جاری ہے اور حکومت پر دباﺅ ہے کہ اِس سکیم کی مدت میں توسیع کی جائے۔

تحریک انصاف کی حکومت کا سب سے بڑا ایجنڈا کرپشن کے خاتمے کا تھا لیکن اِس حوالے سے کوئی تیاری نظر نہیں آئی۔ ملک کی معیشت بہتر نہیں ہوئی، بے روزگاری میں اضافہ ہوا اور بار بار تلخ انداز میں کہنا کہ کسی کو نہیں چھوڑوں گا اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ خوف کی وجہ سے رشوت کے ریٹ میں اضافہ ہوا کیونکہ لوگ اب کہتے ہیں کہ پکڑا جاو ¿ں گا بڑا رسک لینے کے لیے بڑی رقم چاہیے۔ عمران خان کی حکومت میں زیادہ تروہی لوگ شامل ہیں جو پہلے اِس وقت کی اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ حکومت میں تھے اور خود اِن پر بھی کرپشن کے الزامات ہیں اب ذرا سوچئے جن لوگوں پر ماضی میں کرپشن کے الزامات ہوں وہ کرپشن کو کیسے ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

قیام پاکستان سے آج تک کسی بھی حکومت نے مسائل کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے اقدامات نہیں کیے، امیر اور غریب کے مابین فرق بڑھتا چلا گیا، ملک کی اِسی فیصد سے بھی زائد آبادی کے لیے زندگی مشکل تر ہوتی گئی، اِس مشکل زندگی کے نتیجے میں رشوت کا بازار گرم ہوا ہے۔ سرکاری و نیم سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں موجود ہر دوسرا شخص جیب کاٹنے کے عمل میں شریک ہے۔

کرپشن کرنے والے افراد کوجیل نہ بھیجا جائے بلکہ ملک کے اندر موجود اِن ناجائز اثاثوں پر ملکی قوانین کے تحت ٹیکس وصول کیا جائے۔ ماہرین کے مطابق اگر ملک کے اندر موجود اِن اثاثوں پر ملکی قوانین کے تحت ٹیکس وصول کیا جائے تو ایک سال کے اندر ایک ہزار ارب روپے کے اضافی ٹیکس کی وصولی ممکن ہے۔اِن رقوم کو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button