ColumnJabaar Ch

اسے کہتے ہیں گھر میں گھس کے مارنا۔۔ جبار چودھری

جبار چودھری

یہ کسی بھی قوم کی اجتماعی دانش اور سوچ کا نچلا درجہ ہی ہوتا ہے جب وہ حمایت یا مخالفت، تعریف یا تنقید ایشوز اور مسائل دیکھ کر نہیں بلکہ شخصیات کی حمایت اور مخالفت کو سامنے رکھ کر کرنے لگتے ہیں۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ہمارے وزیر خارجہ نے ہندوستان میں جاکر کیا کیا اور ہم نے بلاول بھٹو کے ساتھ اس کے پیپلز پارٹی سے تعلق کی وجہ سے اپنے گھر میں کیا کیا۔ ہمارے وزیر خارجہ نے جو کچھ ہندوستان کی سرزمین پر جاکر کہا اس کو گھر میں گھس کر مارنا کہتے ہیں اور جو ہم یہاں کر رہے ہیں اس کو نفرت میں اندھے ہوکر اپنے ہی فوجی مارنا کہتے ہیں۔ اگر کسی کی عقل پر اللہ کریم نے پردہ نہیں ڈال دیا تو وہ اپنا منہ کھولنے سے پہلے صرف اتنا سوچ لیتا کہ دشمن کی تنقید کیا معنی رکھتی ہے۔ ہندوستان ہمارا دشمن ہے تو اس کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر کو ہمارے وزیر خارجہ کو پھولوں کے ہار پہنانے چاہئے تھے یا ہذیان بکنا چاہئے تھا جو کہ اس نے بکا؟، ظاہر ہے دشمن دشمن کی تعریف کب سے کرنے لگے بھائی ؟ سچ مانیے مجھے یہاں بلاول کو برا بھلا کہتے لوگوں اور ہندوستان میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف زہر اگلتے۔ تعصب کے مارے منہ سے جھاگ نکالتے جے شنکر میں کوئی فرق نہیں لگا۔ میرے دوست یہاں بلاول بھٹو کی نفرت میں جے شنکر کی تعریف کرتے تب ضرور اچھے لگتے اگر بلاول نے کوئی کمی کی ہوتی۔ کوئی ہندوستان کی محبت میں بات کی ہوتی۔ کوئی پاکستان کی کمزوری دکھائی ہوتی لیکن بلاول تو ہندوستان کی سرزمین پر ایک پاکستانی شیر کی طرح گرجتا رہا۔ بھارت کے صف اول کے چینل انڈیا ٹو ڈے اور اینکرراج دیپ سردیسائی کی بولتی بند کرتا رہا۔ پورے ہندوستان کے سامنے سب کو کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرار دادیں یاد دلاتا رہا۔ بھارتی شہر گوامیں بیٹھ کر پریس کانفرنس میں پاکستان کا کشمیر پر موقف واضح اور کھلے لفظوں میں بیان کرتا رہا اور جب تک بلاول بھٹو ہندوستان کی سرزمین پر موجود رہا بھارتی وزیر خارجہ کی جرات نہ ہوئی کہ وہ پاکستان کے خلاف کوئی بیان دے سکے۔ جب بلاول بھٹو وہاں سے واپس آگئے تو بھارتی وزیر خارجہ نے اپنے ملک کے صحافیوں کے سامنے بیٹھ کر اپنی پسند کے پہلے سے طے شدہ تین سوالوں کے جواب دے اور پاکستان کے خلاف روایتی ہرزہ سرائی کی۔ عجب بات ہے کہ پوری دنیا کے سفارتکار جے شنکر کے اس برتائو اور گفتگو کو عالمی سفارتکار ی کے خلاف کہہ کر اس کی مذمت کر رہے ہیں اور ہم یہاں جے شنکر کاسی وی نکال کراس کا بلاول سے نفرت آمیز اور توہین آمیز طریقے سے موازنہ کر رہے ہیں۔ جے شنکر نے نفرت اور تعصب میں ڈوبے شخص۔ گجرات کے قصائی اور کشمیریوں کے قاتل کے ترجمان کے فرض کے علاوہ کوئی بات ہی نہیں کی۔ اس کی گفتگو لاجک اور منطق سے کوسوں دور۔ سفارتی آداب سے میلوں دور بلکہ برعکس۔ مہمان نوازی کے طے شدہ اور مسلمہ اصولوں کے خلاف اور کثیر الاقوامی فورمز کے آداب کے صریحًا خلاف۔ ہم یہاں کس کی تعریف کر رہے ہیں؟ کیا نفرت انسان کو اتنا اندھا کر دیتی ہے کہ آپ دشمن کی تعریف پر اتر آتے ہیں؟ ایک وقت تھا جب ہم گھر میں سیاست کرتے تھے لیکن باہر پاکستانی ہوتے تھے۔ بھارت کو ہمیشہ منہ توڑ جواب دیتے تھے۔ ایک ہوکر دکھاتے تھے اب ایسا زوال کہ اس جذبے سے بھی گئے ۔ ایسی تقسیم کہ بلاول کو بطور پاکستان کے وزیر خارجہ کے دیکھنے کی بجائے اپنی مخالف سیاسی جماعت کے فرد کے علاوہ اور کسی رول میں دیکھنے کوہی تیار نہیں۔ میں عمران خان کے بارے میں نیک گمان تھا کہ وہ اسی وقت ٹویٹ کرکے ہندوستان کو پیغام دیں گے کہ ہم گھر میں مخالف ہوسکتے ہیں کہ لیکن جب پاکستان کی باری آئے گی تو ہم سب پاکستان ہیں۔ لیکن پہلے دن ان کو بھی توفیق نہ ہوئی بلکہ شیریں مزاری سمیت ان کی پارٹی کے بڑے رہنمائوں نے اپنی نفرت کے اظہار میں بلاول پر ہی تنقید کو زیادہ بہتر خیال کیا۔ پہلے دن پوری پی ٹی آئی نے بلاول کے بجائے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کا ساتھ دیا۔ مجھے تو لگ رہا تھا کشمیر کا سودا پانچ اگست دو ہزار انیس کو نہیں بلکہ کل بلاول یہ کام کرکے آیا ہے۔ کاش میرے پی ٹی آئی کے دوستوں کو اتنا ہی غصہ پانچ اگست کو آیا ہوتا۔ لیکن وہ اس وقت ورلڈ کپ جیت کر آنے کی خوشی میں مدہوش تھے۔اور مجھے تو وہ دن بھی یاد ہے جب بھارتی پائلٹ کی گردن ہمارے ہاتھ میں تھی پوری قوم وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کررہی تھی کہ اس کو جانے مت دیں ۔ یہیں کلبھوشن کی طرح قید کرکے رکھ چھوڑیں لیکن عمران خان کے الفاظ مجھے اچھی طرح یاد ہیں۔ جب اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ( گوکہ وہ بھی اس وقت سیاست ہی کر رہے تھے) نے مشترکہ اجلاس میں کہا کہ ہندوستان کو اس حرکت کی سزا دی جائے تو وزیراعظم عمران خان نے اٹھ کر کہا تھا کہ میں کیا کروں؟ کیا میں بھارت کے ساتھ جنگ لگا دوں؟۔ مجھے اچھا لگا کہ عمران خان صاحب نے ایک دن بعد ہی سہی لیکن چھ مئی کی ریلی کے دوران لاہور میں انہوں نے جے شنکر کے رویے کی مذمت کی، ساتھ ہی انہوں نے بلاول کو بھی کہہ دیا کہ اس کو تیاری کے ساتھ جانا چاہئے تھا۔ یہ بات نہ کہتے تو زیادہ بہتر تھا خیر ان کی مرضی ہے۔ میں نے کل مشترکہ اجلاس میں کی گئی عمران خان کی وہ تقریر دوبارہ سنی آپ بھی سن لیں یوٹیوب پر موجود ہے۔ اس تقریر میں گوکہ ہم فاتح تھے۔ ہندوستان کا پائلٹ اور جہاز ہمارے قبضے میں تھا۔ ہمارے وزیراعظم کا لہجہ فاتحانہ ہونا چاہئے تھا لیکن معذرت خواہانہ تھا۔ عمران خان نے اپنی تقریر میں متعدد بار یہ بات دہرائی کہ ہم نے فلاں سے رابطہ کیا فلاں سے رابطہ کہ معاملات اشتعال تک نہ پہنچ جائیں۔ اس وقت یہ غصہ دکھانے کا وقت تھا لیکن اس وقت حکومت جیت کر بھی ہارنے والوں جیسے لہجے میں بات کر رہی تھی۔ اب تو بلاول بھٹو نے ہندوستان میں کھڑے ہوکر کہا کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق عمل کیا جائے اور پاکستان کی پوزیشن کشمیر پر پہلے دن کی طرح موجود اور واضح ہے۔ یہ بات بحث کے قابل ہوسکتی تھی کہ بلاول بھٹو کو اس وقت بھارت جانا چاہئے تھا یا نہیں۔ اس میں مختلف لوگوں کی رائے مختلف ہے میری رائے میں بالکل جانا چاہئے تھا کیونکہ یہ کوئی بھارت کی ملکیت فورم نہیں ہے یہ کثیر الاقوامی ترقی کا فورم ہے اس کا صرف اس لیے بائیکاٹ کرنا کہ جگہ بھارت ہے خود کو نقصان پہنچانے والی بات ہے۔ ہاں جس طرح بلاول بھٹو نے جانے سے پہلے حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو فون کرکے ان سے مشاورت کی۔ انہیں اعتماد میں لیا اسی طرح بلاول بھٹو کو ایک فون عمران خان یا کم از کم شاہ محمود قریشی کو کر لینا چاہئے تھا تاکہ اس دورے میں پی ٹی آئی کا ان پٹ بھی شامل ہوجاتا اور پی ٹی آئی بھی اس دورے کی ذمہ دار بن جاتی لیکن یہاں بھی سیاست آڑے آئی ہوگی تو یہ رویہ بھی بہتر ہوسکتا تھا۔ اب رہی بات کہ بھارتی وزیر خارجہ کو کس بات کا اتنا غصہ تھا کہ وہ سفارتکاری کے سارے آداب ہی بھول بیٹھے۔ اس کے لیے آسان الفاظ میں بتائے دیتا ہوں۔ ہندوستان میں اس وقت ریاست کرناٹکا کے الیکشن چل رہے ہیں جب جے شنکر پاکستان پر دہشت گردی کے جھوٹے طوفان تول رہے تھے عین اس وقت نریندر مودی کرناٹیکا میں سیاسی جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔ تو پاکستان کے خلاف نفرت ہندوستان میں بڑی توپ سمجھی جاتی ہے تو یہ نفرت کی توپ چلانے کا بہترین وقت تھا۔ دوسری اہم بات کہ یہ بات ہندوستان کی موت کے ہی مترادف تھی کہ چینی وزیر خارجہ ہندوستان میں کانفرنس سے ایک منٹ زیادہ رکے بغیر بلاول بھٹو کے ساتھ گوا سی سیدھا پاکستان آرہا تھا۔ سی پیک ہندوستان کی موت کا پراجیکٹ ہے اور پاکستان میں سی پیک پر دوبارہ کام شروع ہورہا ہے۔ دوسرا اس کانفرنس کے موقع پر روس کے وزیر خارجہ سے بلاول کی ملاقات اتنی طویل ہوگئی کہ دونوں بھارتی وزیر خارجہ کے دئیے گئے عشایئے میں تاخیر سے پہنچے۔ اب بتائیں قبلہ ! بلاول بھٹو نے ہندوستان جاکر کونسا ایسا کام کیا تھا جس سے ہندوستان کو راحت مل رہی تھی۔ اس صورتحال کے بعد ہندوستانی وزیر خارجہ اپنے زخم بھی نہ چاٹتا تو بے چارہ کیا کرتا؟ آخر بلاول نے انہیں گھر میں گھس کے مارا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button