تازہ ترینخبریںپاکستان سے

’عمران خان پر حملے میں 3 حملہ آور ملوث تھے‘، جے آئی ٹی کا انکشاف

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان پر وزیر آباد میں ہونے والے حملے کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے سابق وزیر اعظم پر 3 مختلف اطراف سے گولیاں داغے جانے کا انکشاف کیا ہے۔

تحقیقات سے باخبر ایک عہدیدار نے بتایا کہ ’گرفتار ملزم نوید مہر کے علاوہ 3 نامعلوم حملہ آوروں نے نامعلوم ہتھیاروں سےگولیاں فائر کیں جوکہ کافی اونچائی سے چلائی گئی تھیں‘۔

واضح رہے کہ مذکورہ جے آئی ٹی لاہور کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر ایڈیشنل آئی جی غلام محمود ڈوگر کی سربراہی میں حکومت پنجاب نے تشکیل دی تھی، اس میں قانون نافذ کرنے والے مختلف اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکاروں کے بجائے صرف پنجاب کے پولیس اہلکار شامل ہیں۔

عہدیدار نے بتایا کہ ’جے آئی ٹی نے اپنے نتائج میں دعویٰ کیا ہے کہ وزیر آباد میں پی ٹی آئی کے آزادی مارچ کے دوران کنٹینر پر سوار عمران خان کو 3 گولیاں لگیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’جے آئی ٹی کی تحقیقات تقریباً مکمل ہو چکی ہیں اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (پی ایف ایس اے) سے کچھ زیر التوا رپورٹس موصول ہونے کے بعد جلد ہی ایک رپورٹ جاری کی جائے گی‘۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ’جے آئی ٹی کے نتائج نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وزیر آباد میں ریلی کے مقام پر تعینات پولیس اہلکاروں کے ہتھیاروں سے کوئی زخمی نہیں ہوا تھا، پولیس اہلکاروں کے تمام ہتھیاروں کی فرانزک جانچ پی ایف ایس اے نے کی‘۔

انہوں نے کہا کہ ’جے آئی ٹی نے وزیر آباد میں پی ٹی آئی مارچ کے دوران سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے بےانتظامی کا بھی مشاہدہ کیا‘۔

ذرائع نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے سیکیورٹی میں کوتاہی کی ابتدائی رپورٹس کے بعد حکومت پنجاب نے ایک اور اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے جو اس معاملے کی علیحدہ سے تحقیقات کر رہی ہے۔

جے آئی ٹی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر آباد حملے کے دوران فائرنگ میں سابق وزیراعظم عمران خان سمیت 13 افراد گولی لگنے سے زخمی ہوئے۔

نوید مہر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کی تحقیقات میں بھی یہ ثابت ہوا ہے کہ اُس نے عمران خان کے ٹرک پر گولیاں چلائی تھیں۔

قبل ازیں پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما مصدق عباسی نے الزام عائد کیا تھا کہ نوید مہر کے (جھوٹ پکڑنے والے) پولی گرافک ٹیسٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسے اس نوعیت کے حملوں کے لیے باقاعدہ تربیت دی گئی تھی۔

واقعے کی ایف آئی آر 7 نومبر کو درج کی گئی تھی جبکہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت مذکورہ جے آئی ٹی 3 نومبر کو تشکیل دی گئی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button