Columnمحمد مبشر انوار

نشانہ،نشانے پر .. محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

 

(گذشتہ سے پیوستہ )
دوسری طرف اپنے دہرے معیار کے ساتھ عالمی برادری میں پاکستان کو اس دہشت گردی سے نپٹنے کا بھی کہا جاتا اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو غیر محفوظ ریاست بھی قرار دے کر،پاکستان کو دہرے دباؤ میں رکھا جاتا۔عالمی میڈیا میں پاکستان کو غیر ذمہ دار ریاست کے طور پر مشہور کیا جاتا، یہاں کے نظام حکومت میں خود ہی نقب لگائی جاتی اور خود ہی اس پر شدید تنقید کی جاتی،خود یہاں کے حکمرانوں کو ڈالروں کی آفرز کی جاتی اور پھر اپنی عدالتوں اور عالمی میڈیا میں پاکستانیوں کو ڈالروں کے عوض خود کو بیچنے کا الزام دیا جاتا۔ ان براہ راست اور مؤثر ترین اقدامات کے باوجود جب دال گلتی نظر نہ آئی تو ہمہ جہتی وار کرتے ہوئے،پاکستانی معیشت کو گڑھے میں دھکیلنے کے انتظامات بھی کئے گئے اور اسے عالمی مالیاتی اداروں کے چنگل میں پھنسا دیا گیا اور آج پھرپاکستان کو کٹہرے میں کھڑا کیا جا چکا ہے اور اب بازو مروڑنے کے لیے معاشی صورتحال کا سہارا لیا گیا ہے۔میثاق جمہوریت کی آڑ میں اور جنرل مشرف کے بدنام زمانہ این آر اوکی بدولت، ہوس اقتدار میں مبتلا سیاستدانوں کو اقتدار کا لالچ دے کر ،اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ،ان کے پاکستان داخلے کی راہ ہموار کروائی گئی۔تب ملک کی معروف سیاسی جماعتوں کے قائدین کے لیے ملکی سیاست کا دروازہ کھلوایا گیا،دوسری طرف مشرف کی حیثیت،افغانستان میں ہونے والی کارروائیوں کی وجہ سے مشکوک ٹھہری لہٰذا انہیں اقتدار سے الگ کرنے کا منصوبہ ترتیب دے دیا گیااور ان
کی ذمہ داریاں،ان سیاستدانوں کے سپرد کرنے کا فیصلہ ہوا۔معاشی اعتبار سے مشرف دور کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت بھی واضح نظر آتی ہے کہ مشرف کے دور حکومت میں معاشی صورتحال قدرے مستحکم رہی کہ مشرف حکومت اس وقت امریکی فرنٹ لائن سٹیٹ کے طور پر بروئے کار تھی اور امریکی نوازشات تواتر کے ساتھ مشرف حکومت پر برس رہی تھیں۔ ڈالروں کی ریل پیل کے باعث،ملکی معیشت اور صنعت کا پہیہ بہت حد تک دباؤ سے باہر تھا اور عوام میں نسبتًا خوشحالی نظر آتی تھی، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں، صارف کی قوت خرید میںتھیں البتہ اشیائے ضروریہ سے زیادہ اشیائے آسائش کی طرف رجحان زیادہ دکھائی دیتاتھا کہ جنرل مشرف اکثر موبائل فون کے صارفین کی کثرت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کرتے کہ یہ سب پاکستان کی خوشحالی کا مظہر ہے۔ بے نظیر کے المناک قتل پر متبادل کے طور پر زرداری پہلے ہی موجود تھے اور اب تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ زرداری کا مشہور زمانہ نعرہ’’پاکستان کھپے‘‘بھی قبل از وقت ہی ترتیب دیا جا چکا تھااور جیسے ہی معاملات اس طرف بڑھے،زرداری نے بلا توقف یہ نعرہ لگا کر
پاکستانی عوام کے دل جیت لیے اور اپنے لیے نرم گوشہ پیدا کرلیا۔بعد ازاں زرداری حکومت نے ایک طرف افغانستان سے اپنے معاملات بہتر بنانے کی کوششیں جاری رکھیں تو دوسری طرف پاکستانی معیشت کو بیرون قرضوںکے بوجھ تلے دبانا شروع کردیا۔آئی ایم ایف ہو یا و رلڈ بنک یا ایشیائی ترقیاتی بنک یا دوست ممالک،قرضوں کا انبارکثیر پاکستانی معیشت پر لاد دیا گیااور ان قرضوں کے عوض جو بنیادی دستاویزی تبدیلیاںنظام معیشت میں ان عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے تجویز کی گئی،ان پر عمل درآمد سے دانستہ گریز کیا گیا۔ان قرضہ جات کو پیداواری منصوبوں کی بجائے ،غیر پیداواری منصوبوں میں جھونک کر،پاکستانی معیشت کو سخت نقصان پہنچایاگیا،جبکہ نہ صرف عالمی مالیاتی ادارے بلکہ عالمی طاقت کی نظریں ان پر مسلسل گڑی تھی لیکن انہوں نے ان سب بے ضابطگیوں سے صرف نظر کئے رکھاجبکہ دنیا کو دکھانے کے لیے پاکستانی حکمرانوں کو تنبیہ کرتے ضرور نظر آئے۔
اس اثناء میں فیٹف جیسی تنظیم کی نظریں بھی پاکستانی اشرافیہ پر تھی اور ان بے ضابطگیوں کے نتیجہ میں ،عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے ملنے والے قرضوں کا استعمال سے زیادہ اشرافیہ کے بیرون ملک کھاتہ جات میں منتقل ہونا اور شنید ہے کہ وہاں سے ان پیسوں کی حوالگی نا پسندیدہ افراد یا تنظیموں کو منتقل ہونے ،کے باعث فیٹف کی گرے لسٹ میں آنا بھی درحقیقت پاکستان کو گھیرنے کے مترادف نظر آتا ہے ۔گذشتہ دنوں اوریا مقبول جان نے اپنے ٹی وی شو میں اس رجیم چینج کے پس پردہ امریکی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف سے قبل حکومتوں نے کس طرح ریاست مخالف معاہدے کرکے،ریاست پاکستان کے مفادات کو ٹھیس پہنچائی ہے اور عمران خان کے حکومت میں آتے ہی کئی ایک بین الاقوامی کمپنیوں کی طرف سے ریاست پاکستان کی طرف سے معاہدوں کی خلاف ورزی پر ،عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا گیا۔عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے والی ان کمپنیوں کی ترجیح یہی رہی کہ کسی نہ کسی طرح ریاست پاکستان کی معاہدوں کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے عائد ہوں اور ان کمپنیوں کو بغیر کام کئے ہی ،بھاری منافع مل سکے۔ عمران خان کی حکومت نے عالمی عدالت انصاف میں مؤقف اپنایا کہ یہ معاہدے بنیادی طور پر ریاست پاکستان کے مفادات کا تحفظ نہیں کرتے لہٰذا ریاست پاکستان ان معاہدوں پر نظرثانی کا حق رکھتی ہے،جسے عالمی عدالت انصاف نے تسلیم کیا اور متاثرہ کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی کرکے، ریاست پاکستان کے مفادات کا تحفظ کیا گیا۔ان کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی سے امریکی منصوبوں پر کاری ضرب لگی،جس نے امریکہ کو عمران حکومت تبدیل کرنے پر مجبور کیا،یہ سب باتیں اوریا مقبول جان نے اپنے ٹی وی شو میں ایک امریکی رپورٹ کی بنیاد پرکی ہیں۔
اس پس منظر میں امریکی صدر کے حالیہ بیان کو مد نظر رکھا جائے اور سیاق و سباق کے مطابق دیکھا جائے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ امریکی ترجیحات اور پاکستانی ایٹمی اثاثوں کے متعلق امریکی و غیر مسلم ریاستوں کے منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ماسوائے طریقہ کار تبدیل کیا جا چکا ہے۔دوسری طرف یہ حقیقت بھی ساری دنیا پر عیاں ہے کہ پاکستانی ایٹمی اثاثوں کا کنٹرول اینڈ کمانڈ سسٹم ،بہترین رہا ہے اور پڑوسی ملک کی طرح کبھی بھی پاکستان کے کسی بھی حصہ میں ،کھلی منڈی میںیورنیم فروخت کے اشتہار نظر نہیں آئے لیکن اس کے باوجود پاکستانی ایٹمی اثاثے غیر مسلم دنیا کی آنکھوں میں کھٹکتے رہتے ہیں۔ امریکی صدر کے حالیہ بیان پر سب سے متعلقہ بیان بھی عمران خان نے دیا ،انہوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ پاکستان کی ذمہ داری کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے بعد ،پاکستان نے کبھی بھی جارحیت کا ارتکاب نہیں کیا جبکہ کرہ ارض پر ایٹمی صلاحیت استعمال صرف اور صرف امریکہ نے کیا ہے،اس کے باوجود بھی امریکہ خودکو ذمہ دار ریاست کیسے کہلا سکتا ہے؟امریکہ اپنے 2003کے منصوبہ پر عمل پیرا تو ہے لیکن اس کی راہ میں پاکستانی ایجنسیاں کھڑی نظر آتی ہیں اور اس کے پہلے دو اقدام ،بقول جنرل حمید گل بہانہ ،ٹھکانہ ،کو عملی طور پر ناکام کر چکی ہے، لیکن اپنے تیسرے اور اصل ہدف کی طرف ان کی پیش قدمی مسلسل جاری ہے اور اس وقت نشانہ، نشانے پر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button