ColumnKashif Bashir Khan

تجربہ کاروں نےکیا کر دیا؟ ۔۔ کاشف بشیر خان

کاشف بشیر خان

 

پریشان حال پاکستانی بجلی کے بلوں کے ڈسے ہوئے ہیں اور میری زندگی میں پہلا موقعہ ہے کہ لوگ بجلی کے بل ملنے سے پہلے ہی خوف و ہراس کا شکار ہو کر سہمے پھر رہے ہیں۔خوف و ہراس کا شکارتو وہ ہوں گے ہی کہ پچھلے چند مہینوں سے عوام کے بجلی کےبلوں میں بتدریج ظالمانہ اضافوں نے عوام کو مٹی چاٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔جس ملک میں پٹرول قریباً 250 کا ایک لیٹر بک رہا ہو اور لوگوں کی نقل و حرکت پر اس مہنگے پٹرول کی وجہ سے رکاوٹیں ہوں ،وہاں ترقی خاک ہو گی۔یہاں تو عوام کی زندگیاں پہاڑ جیسی سخت ہو چکی ہیں۔بہت سے ایسے گھرانوں کو جانتا ہوں جن کے گھر میں آنے والی انکم 15 سے 20 ہزار ہے اور ان کے بجلی کے بل ہی 20 سے 22 ہزار آرہے ہیں۔دنیا بھر کے تمام ممالک میں عوام کو بنیادی سہولیات سستے داموں فراہم کرنا ریاست کی حکومتوں کا فرض ہوتا ہے، جسے نبھانے کے بعد ہی ریاست کے باشندوں (عوام)کی زندگیاں سہل ہوتی ہیں۔نہ چاہتے ہوئے بھی بھارت میں دہلی کی حکومت کی جانب سے کرپشن پر قابو پا کر عوام کو فری پانی اور 200 یونٹ تک فری بجلی مہیا کیے جانے کاذکر کرنا پڑ رہا ہے جبکہ پاکستان میں عوام کو بیوقوف بنا کر پہلےدو سو اور پھر تین سو یونٹ بجلی پر فیول ایڈجسٹمنٹ ختم کرنے کا جھوٹا لارا لگایا گیا۔ایک بزرگ جن کی عمر قریباً 80 سال ہے اور ان کے گھر میں ان کے علاوہ کمانے والا کوئی مرد بھی نہیں، کی دو بیٹیاں ہیں جو بیاہ کے بعد اپنے گھروں کو جا چکی ہیں، میرے پاس میرے دوست وحید اکرم کی وساطت سے تشریف لائے اور انہوں نے مجھے کہا کہ میرا بل 9970 روپے آیا ہے جبکہ میرے استعمال شدہ یونٹ 242 ہیں۔جب میں نے بل چیک کیا تو اس بل میں فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں 3690 شامل تھے جبکہ باقی ٹیکسوں کی مد میں 1622 الگ شامل کئے گئے تھے۔بل کے مطابق 242 یونٹ کے بجلی کے نرخ 4660 تھے جبکہ ٹوٹل بل 9970 میں سے 5300 روپے قریباً ٹیکسوں کی مد میں صارف کی جیب پر ڈاکہ مارا گیا۔ قارئین شاید یقین نہ کریں لیکن میں نے اس بل کی تصحیح یا درستگی کے لیے ایس ڈی او سے لیکر ایس ای تک رابطہ کیا لیکن ان کی مجبوری عیاں تھی کہ گو حکومت نے فیول ایڈجسٹمنٹ میں 200 اور پھر 300 یونٹ تک چھوڑ دینے کا اعلان کیا لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے اور اس ظالمانہ ٹیکس کو صرف موخرکیا گیا ہے جبکہ جس بزرگ کا میں نے اوپر ذکر کیا ان کے بل بارے میں نے جب سرکل کے ایس ای سے بات کی تو انہوں نے مجھے کال کر کے بتایا کہ ہمارے پاس ان کو ریلیف دینے کو کچھ بھی نہیں کہ یہ فیول ایڈجسٹمنٹ جو اگست کے بلوں میں ڈالا گیا ہے، جون کا ہے اور حکومتی ایسے اعلانات جن میں عوام کو ریلیف دینے کے جھوٹے دعوے کئے جاتے ہیں ہماری محکمہ کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں ہیں اور عوام کا غیض و غضب کا شکار بجلی سپلائی کرنے والی کمپنیاں بن رہی ہیں جبکہ اس ظالمانہ اور عوام کش ٹیرف جو کسی طور پر بھی منصفانہ نہیں، کے لاگو کرنے میں محکمہ کا کوئی عمل دخل نہیں بالخصوص الیکٹرسٹی سپلائی کرنے والی کمپنیوں کا۔
عوام آج تباہ و برباد ہو چکے اور جہاں عالمی مالیاتی ادارے کی ڈکٹیشن پر عوام پر قیامت خیز ٹیکس اور مہنگا تیل مسلط کیا گیا وہاں اشیاء ضروریات کی
قیمتیں پہنچ سے باہر کر دی گئیں۔مجھےتو ان 80 سالہ بزرگ کا چہرہ نہیں بھولتا جن کو صرف 242 یونٹ بجلی استعمال کرنے کے سنگین جرم کی سزا اس بڑھاپے میں 9970 روپے کی صورت میں ادا کرنے کی صورت ملی۔اب سوچنے کی بات ہے کہ ملک میں تاریخ کی سب سے بلند شرح مہنگائی اور کروڑوں لوگوں کی سیلاب کی وجہ سے بے گھر اور تباہ و برباد ہونے کے بعد حکومتی کارکردگی اور اقدامات کیا ہیں؟کسی بھی سیاسی حمایت و مخالفت سے قطع نظر شدید مالی بحران اور سیلابی تباہی کے شکار پاکستان کے پچھلے 15دنوں میں ملک کے وزیر اعظم کے بیرونی دوروں اور لندن میں موجود سابق سزا یافتہ وزیر اعظم سے اہم تعیناتی پر صلاح مشورے قابل افسوس اور حکمرانوں کی عوام کے دکھوں سے بے اعتنائی کے بدنما تصویر پیش کر رہے ہیں۔اس ملک کو موجودہ صورتحال کا شکار کرنے والوں کا اس بدترین صورتحال میں اپنی جیبوں سے کچھ بھی نہ نکالنا بھی عوام کو نظر آرہا ہے۔میرے لیے حیرت کا مقام ہے کہ بیرون ملک سے بطور امداد ملنے والے سامان کی سندھ کی حکمران جماعت کے ایک کرتا دھرتا کے ڈیرے سے انتظامیہ اور پولیس کے ذریعے برآمدگی بھی نہایت ہی شرمناک اور انسانیت سے عاری فعل ہے جس کی ہر طبقہ کی طرف سے مذمت کی جانی چاہیے کہ اس جیسے قبیح کارناموں نے دنیا میں ہر اس شخص کو سیلاب زدگان کی مدد کےآگے رکاوٹ کھڑی کرنے کا مکروہ کام کیا ہے جو سیلاب زدگان کی مدد کرنا چاہ رہے ہیں۔ عمران خان کے بقول انہوں نے سیلاب زدگان کے لیےمختلف ٹیلی تھونز کے ذریعے قریباً 15 ارب روپے اکٹھے کئے ہیں۔میری عمران خان سے اپیل ہے کہ اگر انہوں نے اپنی بنی گالہ کی رہائش گاہ کو شوکت خانم میموریل ہسپتال کے
نام وصیت نہیں کیا تواب جتنی عزت،شہرت اور عروج عوام نے انہیں دیا ہوا ہے تو اس وقت میں وہ اپنی بنی گالا کی رہائش گاہ کا بڑا حصہ بھی سیلاب زدگان کی نذر کر سکتے ہیں۔ ویسے بھی ماضی کے عمران خان اور اب کے عمران خان میں زمین آسمان کا فرق ہے اور کسی زمانے میں یونانی دیوتاؤں کی مانند پلے بوائے کی طرح جس شخص کی دنیا دیوانی تھی وہ آج درویش دکھائی دیتا ہے،لیکن آج جس حالت میں پاکستان کے عوام رہ رہے ہیں ،وہ نہایت خطرناک اور بارود کے بڑے ڈھیر کی مانند ہیں۔یقین جانئے مرکزی حکومت کے اللے تللے اور حکومتی معاشی جبر پر مبنی فیصلوں پر اطمینان اور عوام سے بے حسی کسی بہت بڑے طوفان کا پیش خیمہ یا نقطہ عروج ثابت ہو سکتا ہے جس کے بعد پاکستان میں کوئی بھی طاقت ور گروہ نہیں بچے گا اور عوام سب کچھ اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں۔حکومتی معاشی پالیسیوں کے معاملات ایسے شخص کو سونپ دیئے گئے ہیں جو پریس کانفرنسوں میں نااہل حکومت کے ہاتھوں عوام کی بدترین حالت پر مذاق اڑاتا ہے۔ اس کااولین کام صرف اور صرف عالمی مالیاتی ادارے کی ڈکٹیشن پر عوام کو غریب سے غریب کرنے کے بعد پھر سے مہنگائی آنے کے اعلانات پر ختم اپنی پریس کانفرنسوں کا اختتام عوام کے غم و غصے کو انتہاؤں تک پہنچا رہا ہے۔دوسری جانب ملک کے وزیر اعظم کا لندن میں عالمی رہنماؤں کے ساتھ مسکراتے ہوے سیلفیاں اور تصویریں بھی عوام کی آنکھوں میں خون اتار رہی ہیں۔بے حسی سی بے حسی ہے جو حکمرانوں کی حرکتوں میں نظر آرہی ہیں۔پاکستان کے مستقبل سے اہلیان پاکستان مایوس ہوتے دکھائی دے رہے ہیں کہ غربت،مہنگائی، بےروزگاری و لامکانی سے تو ہمارے نبیﷺ نے پناہ مانگی تھی۔میرے لیے حیرت کا باعث پاکستان کے اس مشکل ترین دور میں وفاقی وزراء اور وزیر اعظم کی غیر سنجیدگی اور نومبر میں اہم تعیناتی کو اپنے ہاتھوں(سزا یافتہ سابق وزیر اعظم کی ہدایات پر) سرانجام دینے کی خواہش ہے۔ستمبر جا رہا اور نومبر میں قریباً ڈیڑھ ماہ باقی ہے۔اگر ملک کے عوام کی حالت یہی رہی تو پھر کسی بھی دن اس ملک میں کچھ بھی ہو سکتا ہے کہ عمران خان کی غیر مقبولیت سے زیادہ عوام میں غصہ ان تجربہ کار اور بےحس حکمرانوں کے خلاف ہے جنہوں نے آج عوام کو زندہ درگور کردیا ہے۔آنے والے دنوں میں عوام پر تو گزری سو گزری حکمرانوں کیلئے بہت سخت دکھائی دے رہے ہیں۔یہ حکمران پاکستان کو مارچ 2022 کے بعد معاشی طور پر تباہ کر کے خود بھی ایسی بند گلی میں پہنچ چکے ہیں کہ جس کا نتیجہ نہ صرف ان کی سیاسی موت ہے بلکہ انہیں شدید عوامی غم وغصہ کا سامنابھی کرنا پڑ سکتا ہے۔چند کلومیٹر پر محیط مرکزی حکومت اب وزیر داخلہ کے نعروں اور دھمکیوں کے سہارے نہیں بچ سکتی اور اگر لانگ مارچ کی کال آگئی تو پھر اسلام آباد کے چاروں طرف سے گھیراؤ کا سامنا کرنا اس عوام کش حکومت کے بس کی بات نہیں ہو گی اور شنید یہ ہی ہے کہ اگر ایسا ہوا تو’’کسی جانب‘‘ سے کوئی مدد ان حکمرانوں کو نہیں ملنے والی۔عوام آج خالی دامن لیے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر انہیں اس حال میں پہنچانے والوں کو بددعائیں دیتے دکھائی دے دیئے۔
ان بار بار آزمانے ہوئےحکمرانوں سے عوام اگر عوام دوست حکمرانی کی امید رکھتے تھے تو پھر عوام کو دیوانہ ہی کہا جائے گا کہ ان کا مقصد تو کھربوں روپے کے کرپشن کیس ختم کروانا اور اوور سیز پاکستانیوں کے ووٹ کا حق ختم کرنا تھا۔یہ دونوں بڑے کام انہوں نے کر لیے اب انہیں عوام سے کیا لینا وہ زندہ رہیں یا مر جائیں۔کیا ہوا اگر نواز شریف ابھی تک واپس نہیں آ سکے، مریم صفدر تو جلد بیرون ملک جا رہی ہیں۔یہ حکومت گرتی ہوئی دیوار ہے اور چند اور بیرون ملک دوروں اور فوٹو سیشن کروانے کے بعد چلے ہی جائیں گے،لیکن ملک تاریک کر دیا میرے ملک کے تجربہ کاروں نے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button