ColumnKashif Bashir Khan

غداری کا فیصلہ کون کرے؟ .. کاشف بشیر خان

کاشف بشیر خان

1970 کے اوائل میں شیخ مجیب الرحمٰن نے ڈھاکہ میں لاکھوں کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ میں جنرل یحییٰ خان صدر پاکستان سے ملا ہوں، میں صدر پاکستان کو بنگالی لیڈر کے طور پر نہیں بلکہ پاکستان کے لیڈر کی حیثیت سے ملا ہوں۔میں نے صدر پاکستان سے 15 مارچ کو اسمبلی کا اجلاس بلانے کا بحیثیت اکثریتی جماعت کے رہنما مطالبہ کیا ہے۔شیخ مجیب نے اس تقریر میں مغربی پاکستان کو کہا تھا کہ وہ اکثریتی حصہ کا منتخب رہنما ہے اور مغربی پاکستان کو بڑا بھائی سمجھتا ہے اور متحدہ پاکستان کی بات کرتا ہے۔شیخ مجیب الرحمن جو 1970 کے انتخابات میں فیصلہ کن اکثریت کے ساتھ انتخابات جیت چکا تھا اورقرار دادلاہور 1940 کے مطابق مشرقی پاکستان کو خود مختاری دینے کی بات کرتا تھا ،جواس وقت کی مقتدرہ قوتوں کو قبول نہیں تھی کیونکہ وہ پہلے ہی پاکستان کے صوبوں کو ختم کر کے ون یونٹ قائم کر چکے تھے۔
شیخ مجیب کے الفاظ تاریخ ساز تھے کہ ملک سے جبر اور مارشل لاء ختم کیا جائے اور مشرقی اور مغربی پاکستان تب ہی بھائیوں کی طرح رہ سکتے ہیں جب مشرقی پاکستان اور باقی صوبوں کو ان کے حقوق دیئے جائیں۔ شیخ مجیب الرحمٰن کی اس تاریخی تقریر میں کہی اس بات سے تو کوئی بھی اختلاف نہیں کر سکتا تھا کہ بنگالیوں نے پاکستان کی آزادی کیلئے خون بہایا تھا اور کہا تھا کہ مستقبل میں بھی اگر ضرورت پڑی تو بنگالی باقی صوبوں کے ساتھ مل کر اپنا خون بہائیں گے اور پاکستان کی آزادی پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ شیخ مجیب الرحمن نے اس تاریخی خطاب میں یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان کو تباہ مت کرو اور جہنم مت بنائو۔مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے مسائل باہمی مذاکرات سے حل کر کے ہم بھائیوں کی طرح رہ سکتے ہیں اور عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ مارنے کی بجائے فوری طور پر اسمبلی کا اجلاس 15 مارچ 1971 کو بلایا جائے اور ملک سے مارشل لاء کا خاتمہ کیا جائے۔آج کے نوجوانوں کیلئے دلچسپی کا باعث شیخ مجیب الرحمٰن کاجلسے کے اختتام پر بنگال زندہ باد اور پاکستان زندہ باد کہنا تھا لیکن ڈھاکہ کی اس تاریخی تقریر کے بعد جو ہوا وہ بہت افسوسناک تھا کہ 25 مارچ 1971 کو عوامی مسلم لیگ پر پابندی لگا دی گئی اور شیخ مجیب الرحمن کو بطور غدار پاکستان گرفتار کر لیا گیا اور پھر مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن شروع کر دیا گیا۔یہ فوجی آپریشن’’آپریشن سرچ لائٹ‘‘ایسے وقت شروع کیا گیا تھا جب شیخ مجیب الرحمان اور ذوالفقار علی بھٹو ڈھاکہ میں مذاکرات کر رہے تھے۔بھٹوجب کراچی پہنچے اور ان سے اخبار نویسوں نے پوچھا کہ آپ کے شیخ مجیب سے مذاکرات کیسے رہے تو ان کا تاریخی جواب تھاکہ’’شکرہے پاکستان بچ گیا‘‘لیکن اگلی ہی صبح پتا چلا کہ مشرقی پاکستان میں بدترین ملٹری آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ شیخ مجیب الرحمان کو غدار قرار دے کر گرفتار کر کے مغربی پاکستان پہنچا دیا گیا اور مشرقی پاکستان جو پاکستانی کا اکثریتی حصہ تھا میں فوجی آپریشن نے بنگالیوں میں احساس محرومی کو شدت دی اور پھر جو کچھ ہوا وہ سیاہ باب ہے۔
بنگلا دیش بننے کے بعدشیخ مجیب کو بعد میں خصوصی طیارے سے براستہ لندن ڈھاکہ بھیجا گیا اور وہ وہاں جاکر بنگلادیش کاپہلا صدر بنا اور پھر اپنےقتل تک وزیر اعظم رہا۔شیخ مجیب الرحمن کو بنگا باندھو(بنگالیوں کا دوست) کا لقب دیا گیا۔بعد میں بنگالیوں نے شیخ مجیب کو الرحمن کو’’جاترجنک بنگا باندھو‘‘(بنگالیوں کا باپ)کا بھی خطاب دیا۔عوامی مسلم لیگ کے پنجاب میں روح رواں ارشدکاظمی نامی شخص ہوا کرتے تھے جن کا انتقال 1982 میں ہوا ۔وہ اپنے انتقال تک کہتے رہے کہ شیخ مجیب الرحمن غدار نہیں تھے اس کی توجیع وہ یہ پیش کیا کرتے تھے کہ 1970 کے انتخابات میں جیت کے بعد جب عوامی لیگ کا اجلاس ڈھاکہ میں بلایا گیا تھا ان کو بھی شرکت کا دعوت نامہ ملا اور جب ارشد کاظمی اس اجلاس میں شرکت کیلئے پہنچے تو شیخ مجیب الرحمن نے اپنی وفاقی کابینہ کا ارکان کی لسٹ بھی فائنل کر لی تھی اور ارشد کاظمی کو کہا کہ میں تمہیں ایران میں سفیر تعینات کر رہا ہوں،تیاری پکڑو۔ارشد کاظمی(جن کے بھتیجےانجم کاظمی کالم بھی لکھتے ہیں)کے بقول جیسے جیسے حالات خراب ہوتے گئے اور اقتدار کی منتقلی ناممکن ہوتی گئی میں نے ایک اجلاس میں شیخ مجیب الرحمن سے پوچھا کہ چونکہ میرا تعلق لاہور سے یعنی مغربی پاکستان سے ہے تو وہاں تو عوامی لیگ اور آپ کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ آپ پاکستان سے علیحدگی چاہتے ہیں۔اس کے جواب میں شیخ مجیب الرحمن نے بھرے اجلاس میں کہا کاظمی(بنگالی لہجہ) ہم انشاللہ حکومت بنانے جا رہے ہیں اور پاکستان کی تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر دونوں حصوں کی ترقی کیلئے کام کریں گے۔تم ایران میں سفیر بننے کی تیاری کرو۔ ارشد کاظمی کی یاداشتوں میں تھا کہ شیخ مجیب نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر میں ایسا کوئی بیان دوں تو مجھے معلوم ہے کہ بھارتی افواج دو گھنٹوں میں مشرقی پاکستان میں گھس جائیں گی۔میں پاگل نہیں ہوں پاکستان متحد رہئے گا اور حکومت ہماری بنے گی جو ملک میں ہمیشہ کیلئے مارشل لاء کا خاتمہ بھی کرے گی لیکن پھر 25 مارچ 1971 کو شیخ مجیب کو غدار قرار دے دیا گیا اور عوامی لیگ پر پابندی لگا کر مشرقی پاکستان میںفوجی آپریشن شروع کر دیا گیا پھر شیخ مجیب کی گرفتاری اور 26 مارچ 1971کوبنگلادیش کی آزادی کا اعلان ہوا۔
مجیب مغربی پاکستان میں تھا کہ مشرقی پاکستان آزاد ہو کر بنگلادیش بن گیا۔ارشد کاظمی مرحوم لکھتے تھے کہ جب مشرقی پاکستان میں شدید شورش اور ملٹری آپریشن جاری تھا تو شیخ مجیب نے انہیں دوران قید ملاقات کیلئے بلایااور کہا کہ دیکھو کاظمی جو میں نہیں چاہتا تھا وہ ہو گیا اور بھارت کی سازش کامیاب ہو گئی۔بطور صحافی اور تاریخ کے طالب علم مجھے آج تک یہ جواب کسی حلقے سے نہیں ملا کہ اگر شیخ مجیب الرحمان غدار وطن تھا اور بنگلادیش بننے کے بعد بھی مغربی پاکستان کے پاس زیر حراست تھا تو پھر اسے اس وقت کیوں رہا کر کے خصوصی جہاز میں لندن پہنچایا گیا تھا؟سقوط ڈھاکہ کے قریباً51 سال کے بعد اب جب ماضی کے واقعات پر پڑی گرد اڑ چکی تو ہمیں سمجھ آرہی کہ پاکستان میں سیاستدانوں کو غدار کہنے کا چلن نیا نہیں ہے۔ محترمہ فاطمہ جناح،ذولفقارعلی بھٹو،شیخ مجیب الرحمان،بینظیر بھٹو،ولی خان اور اب عمران خان کو غدار وطن اور بعد میں کرپٹ قرار دینے کی کوششیں عوام کے سامنے ہیں، اب سوچنے کی باری عوام کی ہے کہ گہرائی میں جا کر سوچیں کہ کیا سب سیاستدان غدار ہیں یا پھر ان کے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ مارنے کیلئے ان کو غداری کے سرٹیفکیٹ جاری کئے جاتے ہیں؟
بطور صحافی میں سمجھتا ہوں کہ گزشتہ دنوں سیلابی صورتحال کی آڑ میں پاکستان بھر میں ہونے والے ضمنی انتخابات کو ملتوی کرنا بھی عوام نے قبول نہیں کیا اور حکومتی امیدواروں کی بدترین متوقع ہار کے تناظر میں اسے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ گردانا جا رہا ہے۔بغیر کسی سیاسی لگی لپٹی کےآج بھی پاکستان میں عوامی رائے اور حمایت کو روندنے کیلئے بہت سے ادارے اکٹھے ہوئے ہیں لیکن ان کے سوچنے کا مقام ہے کہ آج 1971 نہیں اور ذرائع ابلاغ کو بھی ماضی کی طرح کنٹرول کرنا اور اپنی مرضی کیلئے استعمال کرنا ممکن نہیں کہ سوشل میڈیا عوام میں شعور اور معلومات کا ذریعہ بن چکا ہے۔آج سقوط ڈھاکہ کو قریباً 51 سال ہونے کو ہیں اور پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے اوراب کسی کو بھی غدار اور ملک دشمن ثابت کرنا آسان نہیں ہے۔دکھ سے لکھنا پڑتا ہے کہ گو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب بہت سے تھے لیکن مشرقی پاکستان کی پاکستان سے علیحدگی کے تابوت میں آخری کیل وہاں کے عوام کے مینڈیٹ کو بری طرح روندنا ہی تھا۔مجھے پاکستان کے موجودہ حالات دیکھ کر اور ماضی میں ہونے والے سانحہ مشرقی پاکستان کو یاد کر کے خوف آتا ہے۔آج سرکاری میڈیا پر جس شدومد سے حکومتی مشینری اور وزراء کو ایک سیاسی لیڈر(جس کی عوامی پزیرائی بے مثال ہے) کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے اور اسے کبھی اسرائیل اور کبھی یہودیوں کا ایجنٹ قرار دینے کی کوششیں ہو رہی ہیں وہ پاکستان کی سلامتی کے تناظر میں تباہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔
آج پاکستان پھر سے فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ معاشی تباہ حالی اور اقلیتی حکمرانوں کی شدید ترین نااہلی اور ان پر کرپشن پر چلنے والے مقدمات نے عوام میں غم و غصہ بھر رکھا ہے اور ایسے میں دانستہ ضمنی انتخابات کو ملتوی کرنا اور عام انتخابات سے فرار اور گریز ملک میں تباہی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔کسی بھی جمہوری نظام میں حکومت کرنے کا اختیار دیناصرف اور صرف عوام کے ہاتھوں میں ہوتا ہے اور ان کے اختیار کو ضبط کیا جائے تو اس کے نتائج ہمیشہ ہی بدترین اور تباہ کن نکلتے ہیں اور مجھے یہ لکھنے میں کوئی عار نہیں کہ1970 کے بعد تمام ہی انتخابات میں عوامی مینڈیٹ کی توہین ہوتی رہی لیکن اب عوام اپنے مینڈیٹ کے تحفظ کیلئے پرعزم اور پرجوش نظر آرہے ہیں۔ عوام بہترین جج ہیں اور محب وطن اور غدار کو پہچاننے کا مینڈیٹ بھی عوام کے پاس ہی ہونا چاہیے بلکہ جمہوری نظام میں یہ اختیار عوام کے پاس ہی ہوتا ہے۔اس لیے پاکستان کے تمام اداروں اور سیاستدانوں کوعوام کے مینڈیٹ کو چوری کرنے سے باز رہنا ہو گا کہ اسی میں پاکستان کہ سلامتی اور بقا اسی میں پنہاں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button