Column

وہ سات گناہ ۔۔۔۔

وہ سات گناہ ۔۔۔۔
تحریر : صفدر علی حیدری
انسان کی زندگی دراصل دو چیزوں کے درمیان مسلسل کشمکش ہے: ایک اس کا ظاہر، اور دوسرا اس کا باطن۔
ظاہر میں وہ لباس، دولت اور منصب کے سہارے پہچانا جاتا ہے، مگر باطن میں اس کی اصل پہچان اس کا کردار ہوتا ہے۔ وقت ہمیشہ ظاہری چیزوں کو بدل دیتا ہے، مگر کردار وہ لکیر ہے جو انسان کے نام کے ساتھ جڑ جاتی ہے، یا عزت کی صورت میں یا رسوائی کی صورت میں۔
یہی وجہ ہے کہ بعض انسان زندہ رہ کر بھی معتبر ہوتے ہیں، اور بعض مر کر بھی یاد نہیں رہتے۔
ایک شہر کی کہانی:
کہتے ہیں ایک شہر تھا، جہاں لوگوں کی پہچان ان کے الفاظ سے نہیں بلکہ ان کے اعمال سے ہوتی تھی۔ وہاں ایک اصول عام تھا: ’’ جو شخص اعتماد کھو دے، وہ سب کچھ کھو دیتا ہے‘‘۔ اسی شہر میں ایک بزرگ حکیم رہتا تھا۔ وہ اکثر نوجوانوں کو اکٹھا کر کے ایک بات دہراتا’’ بیٹا! عزت کوئی ایک دن میں نہیں چھنتی، یہ آہستہ آہستہ گرتی ہے، جیسے ریت ہاتھ سے پھسلتی ہے، مگر احساس دیر سے ہوتا ہے‘‘۔ پھر وہ کہتا کہ انسان کی عزت کو کھانے والے سات پوشیدہ گناہ ہیں، ایسے گناہ جو انسان کو اندر سے توڑ دیتے ہیں مگر وہ خود انہیں ہنر سمجھ کر کرتا رہتا ہے۔
پہلا زہر: قرض میں نیت کا فساد
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:’’ اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھائو، اور نہ ہی اسے حاکموں کے پاس لے جائو تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ گناہ کے ساتھ کھا سکو، حالاں کہ تم جانتے ہو ‘‘۔
حکیم کہتا تھا: ’’ قرض صرف رقم کا لین دین نہیں، یہ اعتماد کا سودا ہے‘‘۔
جو شخص قرض لیتے وقت ہی دل میں یہ طے کر لے کہ واپس نہیں کرے گا، وہ دراصل اپنے کردار کی بنیاد میں دراڑ ڈال دیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کی چالاکی کسی پر ظاہر نہیں ہوگی، مگر وقت کے پاس ایسی آنکھیں ہیں جو ہر نیت کو دیکھ لیتی ہیں۔
اور پھر ایک دن آتا ہے جب لوگ اس کے لفظ سننا چھوڑ دیتے ہیں، کیونکہ جس شخص کا وعدہ جھوٹا ثابت ہو جائے، اس کی موجودگی بھی بے وزن ہو جاتی ہے۔
دوسرا زہر: دولت کا بے مقصد بہائو
’’ بے شک فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے ‘‘۔
شہر میں ایک اور منظر عام تھا: کچھ لوگ دولت کو روشنی سمجھ کر اندھیرے میں پھینک رہے تھے۔ حکیم نے کہا: ’’ مال روشنی ہے، مگر اگر اسے اندھیرے میں جلایا جائے تو وہ روشنی نہیں رہتی، دھواں بن جاتا ہے‘‘۔
جب دولت خواہشات کے بازار میں بکھرنے لگتی ہے تو انسان کی سنجیدگی بھی بکھر جاتی ہے۔ لوگ ایسے شخص کو دیکھ کر مسکراتے ہیں، مگر اس کی رائے کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ اور یہی پہلا خاموش زوال ہوتا ہے۔
تیسرا زہر: گھر کی بے قدری
’’ اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچائو ‘‘۔
ایک دن حکیم نے ایک نوجوان سے پوچھا: ’’ تم دوسروں پر تو خرچ کرتے ہو، مگر تمہارے گھر والے کیوں محروم ہیں؟‘‘۔ نوجوان خاموش رہا۔ حکیم نے کہا: ’’ جو درخت اپنی جڑوں کو پانی نہ دے، وہ باہر کے موسموں میں کبھی سایہ نہیں بن سکتا‘‘۔
اہلِ خانہ وہ پہلا آئینہ ہیں جہاں انسان کی اصل تصویر دکھائی دیتی ہے۔ اگر وہاں محبت نہ ہو، تو باہر کی تعریف بھی کھوکھلی ہو جاتی ہے۔
چوتھا زہر: بد اخلاقی کی تلخی
’’ اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہی بات کہیں جو بہترین ہو‘‘، ’’ اور اگر تم سخت مزاج اور سخت دل ہوتے تو لوگ تمہارے پاس سے منتشر ہو جاتے ‘‘۔
ایک کردار تھا جو ہر وقت سچ بولنے کے نام پر لوگوں کو زخمی کرتا تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ سختی سچائی ہے۔
حکیم نے کہا: ’’ سچ وہ ہے جو دل کو جگائے، نہ کہ دل کو توڑ دے‘‘َ
بد اخلاق انسان کی موجودگی میں لوگ سچ نہیں سنتے، صرف اس کی آواز سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور جب لوگ کسی سے بچنے لگیں تو سمجھ لو کہ وہ شخص معاشرے سے گر چکا ہے۔
پانچواں زہر: بے صبری کی آگ
’’ اور انسان جلد باز پیدا کیا گیا ہے‘‘۔
حکیم اکثر کہتا: ’’ جلدی کا پھل ہمیشہ کچا ہوتا ہے، اور کچا پھل ہمیشہ نقصان دیتا ہے‘‘۔
بے صبری انسان کو وہ فیصلے کرنے پر مجبور کرتی ہے جن کا علاج وقت بھی نہیں کر سکتا۔ ایک لمحے کا غصہ بعض اوقات پوری زندگی کی عزت جلا دیتا ہے۔
اور پھر انسان سوچتا رہ جاتا ہے کہ وہ کیسے گر گیا، حالاں کہ وہ خود دوڑا تھا۔
چھٹا زہر: سستی کا زنگ
’’ بے شک منافق اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں حالانکہ وہی انہیں دھوکے میں ڈالنے والا ہے، اور جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو سست ہو کر کھڑے ہوتے ہیں ‘۔
ایک اور شخص تھا جو ہر وقت منصوبے بناتا مگر عمل سے دور رہتا۔ حکیم نے اس سے کہا: ’’ تمہارے خواب تمہیں نہیں گراتے، تمہاری سستی گراتی ہے‘‘۔ سستی انسان کو آہستہ آہستہ غیر ضروری بنا دیتی ہے۔ اور غیر ضروری انسان کی عزت بھی غیر ضروری ہو جاتی ہے۔
ساتواں زہر: نیکی سے تکبر
’’ اور لوگوں سے اپنا رخ نہ پھیرو، اور زمین پر اترا کر نہ چلو‘‘۔
بے شک اللہ کسی اترانے والے فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔
سب سے خطرناک کیفیت وہ ہے جب انسان نیکی کو دیکھ کر جھکنے کے بجائے اسے حقیر سمجھنے لگے۔ حکیم نے آخری بات کہی’’ جو شخص نیکی کے چراغ کو بجھانے کی کوشش کرے، وہ سب سے پہلے اپنی روشنی کھو دیتا ہے‘‘۔ کیوں کہ معاشرہ کبھی برائی کو معیار نہیں بناتا، وہ ہمیشہ نیکی کو پیمانہ بناتا ہے۔
یہ سات گناہ دراصل سات دروازے ہیں، اور ہر دروازہ انسان کو عزت سے دور لے جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ انسان کو کبھی محسوس نہیں ہوتا کہ وہ گر رہا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ آگے بڑھ رہا ہے، حالانکہ وہ دراصل نیچے جا رہا ہوتا ہے۔
اور پھر ایک دن وہ زمین پر ہوتا ہے، تنہا، خاموش، اور بے بس۔
عزت کوئی حادثہ نہیں، یہ کردار کا نتیجہ ہے۔ اور کردار لمحوں میں نہیں بنتا، یہ روزمرہ کے چھوٹے فیصلوں سے بنتا اور بگڑتا ہے۔
جو شخص ان سات راستوں سے بچ جائے، وہ صرف ایک اچھا انسان نہیں رہتا، وہ معاشرے میں ایک ’’ اعتماد‘‘ بن جاتا ہے۔اور اعتماد وہ چیز ہے جو مر کر بھی زندہ رہتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button