Column

آئی ایم ایف کی نئی شرائط اور پاکستانی عوام کی بڑھتی مشکلات

آئی ایم ایف کی نئی شرائط اور پاکستانی عوام کی بڑھتی مشکلات
غلام مصطفیٰ جمالی
پاکستان ایک بار پھر ایسے معاشی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں حکومتی فیصلے، عالمی مالیاتی دبا اور عوامی مشکلات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارہ International Monetary Fundیعنی آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان پر نئی شرائط عائد کیے جانے کے بعد ملک میں ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر کب تک پاکستانی عوام مہنگائی، ٹیکسوں اور بڑھتے ہوئے مالی بوجھ کا سامنا کرتے رہیں گے؟ ایک طرف حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے ناگزیر ہے جبکہ دوسری جانب عوام کا کہنا ہے کہ ان تمام معاشی فیصلوں کا بوجھ صرف غریب اور متوسط طبقے پر کیوں ڈالا جا رہا ہے۔
پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے معاشی بحرانوں، سیاسی عدم استحکام اور مالیاتی کمزوریوں کا شکار رہا ہے۔ ہر آنے والی حکومت نے معیشت کو سنبھالنے کے لیے بیرونی قرضوں اور عالمی مالیاتی اداروں کا سہارا لیا، مگر ان قرضوں کے ساتھ آنے والی شرائط نے ہمیشہ عوامی مشکلات میں اضافہ کیا۔ موجودہ صورتحال بھی کچھ مختلف دکھائی نہیں دیتی۔ آئی ایم ایف کی نئی شرائط میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، نئے ٹیکسوں کا نفاذ، پٹرولیم لیوی میں اضافہ، نیب کی خودمختاری، سرکاری اداروں میں شفافیت اور خصوصی اقتصادی زونز کی مراعات ختم کرنے جیسے نکات شامل ہیں۔
ان شرائط کے بعد سب سے زیادہ تشویش بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کو لے کر پائی جا رہی ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی توانائی کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ گھریلو صارفین ہوں یا صنعتی شعبہ، ہر طبقہ مہنگی بجلی اور گیس کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہے۔ جب بجلی مہنگی ہوتی ہے تو صرف بل ہی نہیں بڑھتے بلکہ صنعتوں کی پیداواری لاگت بھی بڑھ جاتی ہے، جس کا اثر اشیائے خورونوش سمیت ہر چیز کی قیمت پر پڑتا ہے۔ یوں مہنگائی کا ایک نیا طوفان جنم لیتا ہے۔ عام آدمی جو پہلے ہی آٹے، چینی، گھی، دودھ اور دیگر ضروری اشیاء کی بڑھتی قیمتوں سے پریشان ہے، اس کے لیے بجلی اور گیس کے مزید مہنگے بل ایک عذاب بن جاتے ہیں۔
آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق حکومت آئندہ مالی سال میں 430ارب روپے کے اضافی ٹیکس عائد کر سکتی ہے۔ ان ٹیکسوں کا بوجھ بھی بالآخر عوام پر ہی منتقل ہوگا۔ پاکستان میں پہلے ہی ٹیکس کا نظام غیر متوازن سمجھا جاتا ہے جہاں تنخواہ دار طبقہ اور عام صارفین زیادہ بوجھ برداشت کرتے ہیں جبکہ بااثر طبقے کئی سہولیات اور رعایتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ایسے میں نئے ٹیکس عوامی بے چینی میں مزید اضافہ کریں گے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں لاکھوں نوجوان بے روزگار ہوں، کاروبار سست روی کا شکار ہوں اور غربت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہو، وہاں نئے ٹیکس معاشی سرگرمیوں کو مزید متاثر کر سکتے ہیں۔
پٹرولیم لیوی کی مد میں 1727ارب روپے وصول کرنے کی تجویز بھی عوام کے لیے ایک نئی آزمائش ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کا اثر روزمرہ زندگی کے ہر شعبے پر پڑتا ہے۔ جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو کرایے بڑھتے ہیں، سبزیوں اور دیگر اشیاء کی ترسیل مہنگی ہو جاتی ہے اور یوں ہر چیز کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ غریب آدمی جو پہلے ہی محدود آمدنی میں زندگی گزار رہا ہے، اس کے لیے یہ صورتحال انتہائی تکلیف دہ بن جاتی ہے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے نیب کی خودمختاری اور شفافیت میں اضافے کی شرط بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ پاکستان میں احتساب کا نظام ہمیشہ سیاسی تنازعات کا شکار رہا ہے۔ مختلف حکومتوں پر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ انہوں نے احتسابی اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ اگر نیب کو واقعی ایک آزاد اور شفاف ادارہ بنایا جاتا ہے تو اس سے بدعنوانی کے خلاف اقدامات مضبوط ہو سکتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا سیاسی نظام اس قسم کی آزاد احتسابی روایت کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے؟
اسی طرح سرکاری خریداریوں اور ریگولیٹری نظام میں شفافیت لانے کی شرائط بظاہر مثبت دکھائی دیتی ہیں۔ پاکستان میں کرپشن اور بدانتظامی ہمیشہ ایک بڑا مسئلہ رہی ہیں۔ اگر حکومتی اداروں میں شفافیت آئے، مالی نظم و ضبط بہتر ہو اور وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جائے تو یقیناً معیشت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ مگر ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ صرف پالیسیاں بنانے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ ان پر عمل درآمد زیادہ اہم ہوتا ہے۔
خصوصی اقتصادی زونز کی مراعات ختم کرنے کی تجویز بھی صنعتی شعبے کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔ پاکستان پہلے ہی سرمایہ کاری کے بحران سے دوچار ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار سیاسی عدم استحکام، توانائی بحران اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کی وجہ سے پاکستان آنے سے ہچکچاتے ہیں۔ اگر صنعتی مراعات کم کی جاتی ہیں تو اس سے سرمایہ کاری مزید متاثر ہو سکتی ہے۔
اس کا براہ راست اثر روزگار کے مواقع پر پڑے گا اور بے روزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی معیشت اس وقت ایک پیچیدہ صورتحال سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف حکومت کو بیرونی قرضوں کی ادائیگی، زرمبادلہ کے ذخائر اور بجٹ خسارے جیسے مسائل کا سامنا ہے جبکہ دوسری طرف عوام مہنگائی اور بے روزگاری سے پریشان ہیں۔ حکومت کا موقف یہ ہے کہ اگر آئی ایم ایف پروگرام نہ لیا جائے تو ملک دیوالیہ ہونے کے خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔ یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے کیونکہ پاکستان کی معیشت کو فوری مالی امداد کی ضرورت رہتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ آخر کب تک پاکستان قرضوں کے سہارے اپنی معیشت چلاتا رہے گا؟
اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں معاشی اصلاحات کا عمل ہمیشہ ادھورا رہا ہے۔ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، برآمدات بڑھانے، زرعی اصلاحات کرنے، سرکاری اداروں کو منافع بخش بنانے اور غیر ضروری اخراجات کم کرنے جیسے بنیادی اقدامات پر سنجیدگی سے کام نہیں کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہر چند سال بعد پاکستان کو ایک نئے مالی بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور پھر آئی ایم ایف کے دروازے پر جانا پڑتا ہے۔
پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے صرف قرضے لینا کافی نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر ایسی پالیسیاں بنانا ہوں گی جو ملک کو خود کفیل بنا سکیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں سیاسی عدم استحکام نے بھی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، پالیسیاں تبدیل ہوتی رہتی ہیں اور سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال کا شکار رہتے ہیں۔ جب تک سیاسی استحکام نہیں آئے گا، معاشی استحکام بھی ایک خواب ہی رہے گا۔
پاکستانی عوام اس وقت شدید ذہنی دبائو اور معاشی پریشانی کا شکار ہیں۔ متوسط طبقہ سکڑتا جا رہا ہے جبکہ غریب طبقہ مزید غربت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ نوجوانوں میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور تعلیم یافتہ افراد بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرون ملک جانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ یہ صورتحال کسی بھی ملک کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے کیونکہ جب نوجوان مایوسی کا شکار ہوں تو معاشرے میں بے چینی بڑھنے لگتی ہے۔
آئی ایم ایف کی شرائط پر ہونے والی بحث میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا حکومت عوام کو اعتماد میں لے رہی ہے؟ جمہوری نظام میں عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ کون سے فیصلے کیوں کیے جا رہے ہیں اور ان کے کیا نتائج برآمد ہوں گے۔ اگر عوام کو صرف مہنگائی، ٹیکسوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے جبکہ حکمران طبقہ مراعات سے لطف اندوز ہوتا رہے تو پھر عوامی ردعمل فطری بات ہے۔
پاکستان کو اس وقت صرف معاشی نہیں بلکہ اخلاقی اور انتظامی اصلاحات کی بھی ضرورت ہے۔ جب تک کرپشن، نااہلی اور اقربا پروری کا خاتمہ نہیں ہوگا، تب تک کوئی بھی معاشی پالیسی مکمل کامیابی حاصل نہیں کر سکتی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام پر مزید بوجھ ڈالنے سے پہلے اپنے اخراجات کم کرے، شاہانہ طرز زندگی ختم کرے اور قومی وسائل کے ضیاع کو روکے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ آئی ایم ایف کی بعض شرائط اصلاحات کے لیے ضروری سمجھی جا سکتی ہیں، مگر اصل مسئلہ ان شرائط کا بوجھ عوام پر منتقل ہونا ہے۔ اگر حکمران طبقہ اور طاقتور اشرافیہ بھی اسی طرح قربانی دے جس طرح عام آدمی دیتا ہے تو شاید عوام میں برداشت پیدا ہو سکتی ہے۔ مگر جب غریب کے لیے بجلی، گیس، آٹا اور پیٹرول مہنگا ہو جبکہ طاقتور طبقہ مراعات سے مستفید رہے تو پھر عوام میں غصہ اور مایوسی بڑھتی ہے۔
پاکستان ایک زرعی، معدنی اور انسانی وسائل سے مالا مال ملک ہے۔ اگر درست منصوبہ بندی، دیانت دار قیادت اور مستقل مزاج معاشی پالیسیاں اپنائی جائیں تو ملک معاشی بحرانوں سے نکل سکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت وقتی سہارا لینے کے بجائے طویل المدتی معاشی اصلاحات پر توجہ دے۔ برآمدات میں اضافہ، مقامی صنعتوں کی بحالی، زرعی شعبے کی ترقی، تعلیم اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور توانائی کے متبادل ذرائع پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پاکستانی عوام نے ہمیشہ مشکل حالات میں صبر اور حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے، مگر اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں عوامی برداشت کی حد کم ہوتی جا رہی ہے۔ اگر مہنگائی اور بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے سماجی اور سیاسی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی مشکلات کو سنجیدگی سے سمجھے اور ایسے فیصلے کرے جن سے عام آدمی کو بھی ریلیف مل سکے۔
آئی ایم ایف کی نئی شرائط ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھا رہی ہیں کہ پاکستان کب اپنے پائوں پر کھڑا ہوگا؟ کب ملک کو قرضوں اور بیرونی دبائو سے نجات ملے گی؟ اور کب عوام کو مہنگائی، ٹیکسوں اور معاشی بے یقینی سے سکون ملے گا؟ یہ سوالات صرف حکومت کے لیے نہیں بلکہ پورے نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ اگر آج بھی سنجیدہ اصلاحات نہ کی گئیں تو آنے والے برسوں میں حالات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کو اس وقت اتحاد، دیانت داری، بہتر حکمرانی اور حقیقی معاشی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوام کو ایک محفوظ اور مستحکم مستقبل دیا جا سکے۔
غلام مصطفیٰ جمالی

جواب دیں

Back to top button