ColumnImtiaz Aasi

عمران خان کی آنکھ اور تشدد

عمران خان کی آنکھ اور تشدد
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے الزام لگایا ہے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھ جیل میں تشدد سے ضائع ہوئی ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا ملک میں انصاف ناپید ہے اور ایسے حالات میں پی ٹی آئی کے لوگوں کو سڑکوں پر نکلنا ہوگا۔ گو یہ ناچیز جیلوں کا ترجمان نہیں تاہم حقیقت سے عوام کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔ سوال ہے عمران خان کوئی عام قیدی نہیں وہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا بانی اور سابق وزیراعظم ہے۔ عمران خان کی آنکھ کا مسئلہ گزشتہ کئی ماہ سے چل رہا ہے اتنے عرصہ میں سلمان اکرم راجا نے عمران خان پر تشدد سے متعلق کوئی بات نہیں کی لیکن اب کئی ماہ بعد جب ان کی آنکھ کا علاج معالجہ ہورہا ہے انہیں عمران خان پر تشدد کی بات کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے۔ آخر عمران خان پر جیلوں والوں نے کیوں تشدد کیا ہوگا۔ جیلوں کی بیرکس میں بہت سے قیدی رہتے ہیں جہاں ان کے درمیان لڑائی جھگڑا معمول ہوتا ہے ایسی صورت میں جیل والے قیدیوں پر مار پیٹ ضرور کرتے ہیں لیکن بانی پی ٹی آئی کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ پہلی بات یہ ہے عمران خان کو عام قیدیوں سے بالکل الگ تھلگ رکھا گیا ہے جہاں پرندہ پر نہیں مار سکتا۔ ہاں البتہ ان کا مشقتی ضرور ان کے قریبی سیل میں کھانا پکانے کے لئے ہوتا ہے لہذا جب عمران خان خان کا کسی قیدی سے کوئی جھگڑا نہیں نہ ہی وہ جیل مینوئل کے برخلاف کسی جرم کے مرتکب ہوئے ہیں تو ان پرتشدد کا الزام سمجھ سے بالاتر ہے۔ جہاں تک سلمان اکرم راجا کی بات ملک میں انصاف ناپید ہے ہم ان کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ حکومت نے آئین میں ترمیم اور ججوں کے تبادلے کرکے من پسند ججوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ تعینات کرکے واقعی بانی پی ٹی آئی کے لئے انصاف ناپید کر دیا ہے۔ ہم ذرا ماضی کی طرف لوٹیں تو میاں نواز شریف جب وطن واپس آئے تو چند دنوں میں ان کے خلاف مقدمات کا تصفیہ کر دیا گیا ہے لیکن عمران خان کی سزائوں کے خلاف اپیلیں ابھی تک تصفیہ طلب ہیں۔ سلمان اکرم راجا نے پی ٹی آئی کے لوگوں کو سڑکوں پر نکلنے کی دعوت دی ہے۔ دراصل پی ٹی آئی کے ورکرز سانحہ ڈی چوک میں ہونے والی ہلاکتوں سے دل برداشتہ ہیں چنانچہ یہی وجہ ہے وزیراعلیٰ کے پی کے کئی مرتبہ احتجاج کی کال دے چکے ہیں ماسوائے کے پی کے لوگوں کے پنجاب اور دیگر صوبوں کے لوگ سڑکوں پر آنے کو تیار نہیں ہیں۔ درحقیقت بانی پی ٹی آئی کے ساتھ طالع آزمائوں اور مفاد پرست لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی جیسے ہی بانی پر کڑا وقت آیا وہ بتدریج ساتھ چھوڑتے چلے گئے۔ بانی پی ٹی آئی نے ایسے ایسے لوگوں کو وزارتیں دی جو کبھی کونسلر منتخب نہیں ہوئے تھے چنانچہ وقت بدلنے کی دیر تک تمام لوگ ساتھ چھوڑ گئے جو عمران خان کے لئے بڑا سبق ہے۔ اگرچہ سلمان اکرم راجا نے پی ٹی آئی کے ورکرز کو سڑکوں پر آنے کی ترغیب دی ہے مگر پارٹی ورکر کے کسی احتجاجی تحریک میں شرکت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے ۔ بانی کی بہنوں نے کئی بار پارٹی رہنمائوں اور ورکرز کو اڈیالہ آنے کی دعوت دی لیکن بہت کم تعداد میں لوگوں نے ان کی آواز پر لیبک کہا۔ اب بانی کی بہن حلیمہ بی بی نے اوورسیز پاکستانیوں سے عمران خان کی رہائی کے لئے کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے جو اس بات کا اعتراف ہے ملک میں پی ٹی آئی ورکرز سڑکوں پر آنے کو تیار نہیں ہیں۔ دراصل پارٹی ورکر اسی صورت میں سڑکوں پر آتے ہیں جب انہیں اس بات کا یقین ہو مشکل وقت آنے پر پارٹی ان کا ساتھ دے گی۔ سانحہ نو مئی کے مبینہ طور پر ملوث رہنمائوں اور ورکرز کو فوجی عدالتوں سے سزائیں ہو چکی ہیں لیکن ان کے مقدمات کی پیروی کرنے والا کوئی نہیں ہے جو پارٹی ورکر کی حوصلہ شکنی کا باعث بنی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے احتجاج کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو کوئی جماعت ایسی نہیں جس نے طاقتور حلقوں کی آشیرباد کے بغیر حکومت کے خلاف احتجاج کیا ہو۔ نواز شریف حکومت کے خلاف عمران خان نے وفاقی دارالحکومت میں طویل دھرنے کے باوجود وہ نواز شریف کو اقتدار سے علیحدہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے لیکن اس دھرنے کے پیچھے جو قوتیں تھیں ان سے کون واقف نہیں؟، یہ بات ہم کئی بار کہہ چکے ہیں عمران خان اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد اپوزیشن میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرتے تو شائد جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں ہوتے۔ بعض نادان دوستوں کے کہنے پر انہوں نے طاقتور حلقوں سے ٹھان لی جس کے نتیجے میں جیل اس کا مقدر بن گئی۔ اگرچہ عمران خان قوم کو امریکہ کی غلامی اور اقتدار کو طاقتور حلقوں کے اثر و رسوخ سے باہر رکھنے کی جدوجہد کر رہے ہیں لیکن وہ کامیاب اسی صورت میں ہو سکتے ہیں جب پوری قوم انتخابات میں دھاندلی کے خلاف اٹھ کھڑی ہو۔ بنگلہ دیش کی مثال دیکھ لیں جب بنگال کے لوگ سڑکوں پر نکلے تو شیخ حسینہ واجد کو اقتدار چھوڑنا پڑا یہاں تک کہ اسے ملک چھوڑنا پڑ گیا۔ ایران میں حضرت آیت اللہ خمینی کا اسلامی انقلاب دنیا میں مثال بن گیا حالانکہ پہلوی خاندان کو امریکہ کی پوری آشیر باد حاصل تھی تاہم جب عوام نے آیت اللہ خمینی کا ساتھ دیا رضا شاہ پہلوی کو ملک بدر ہونا پڑ گیا۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں سیاسی رہنمائوں کی اکثریت کرپٹ ہے عوام ایسے لیڈروں کا کبھی ساتھ نہیں دیتے۔ نواز شریف کی مثال لے لیں جب اقتدار سے ہٹا یا گیا تو عوام نے خاطر خواہ احتجاج نہیں کیا نہ وہ سڑکوں پر نکلے۔ نواز شریف بعض پارٹی رہنمائوں سے اسی بات پر نالاں رہے کہ ان کی حمایت میں عوام کو سڑکوں پر لانے میں پارٹی رہنما ناکام رہے۔ عمران خان کو جیل جانے کے بعد پارٹی ورکرز اور رہنمائوں سے جو توقعات تھیں وہ اس پر پورا اترنے میں بری طرح ناکام رہے بلکہ پریس کانفرنس کرکے اپنی وابستگیاں بدل لیں ۔

جواب دیں

Back to top button