ColumnQadir Khan

پاکستان مخالف سازشی تھیوریاں، افواہیں اور پراپیگنڈے

پاکستان مخالف سازشی تھیوریاں، افواہیں اور پراپیگنڈے
قادر خان یوسف زئی
پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ایک ایسے باب کی داستان ہے جو نہ صرف خطے کی تاریخ بدل رہی ہے بلکہ عالمی سفارتکاری کے نقشے پر بھی ایک نیا نقطہ بنا رہا ہے۔ جب ایران اور امریکہ کے درمیان تنائو اپنے عروج پر پہنچا، جب اسرائیلی حملوں نے ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا اور جب پورا خطہ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑا نظر آ رہا تھا تو پاکستان نے وہ کردار ادا کیا جو نہ تو کسی نے سوچا تھا اور نہ ہی کسی نے توقع کی تھی۔ یہ کوئی ڈرامائی فلم کا منظر نہیں بلکہ سفارتی حقیقت کا حصہ ہے جس میں پاکستان نے پیغامات کی منتقلی، اسلام آباد میں براہ راست اور بالواسطہ بات چیت کی میزبانی اور ایک عارضی جنگ بندی تک کا راستہ ہموار کیا۔ مگر اس کامیابی نے نہ صرف ہمارے ازلی دشمنوں کو بلکہ چند ایسے ممالک کو بھی ناخوش کر دیا جنہیں قرآن کی زبان میں برادرانِ یوسف کہا جا سکتا ہے۔ وہ ناخوشی اب سازشی تھیوریوں، افواہوں اور پروپیگنڈے کی شکل میں سامنے آ رہی ہے۔
اس تنازع کا پس منظر سادہ نہیں تھا۔ امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر کیے گئے حملوں نے نہ صرف ایرانی خودمختاری کو چیلنج کیا بلکہ علاقائی استحکام کو شدید خطرے میں ڈال دیا۔ آبنائے ہرمز کی بندش کا اندیشہ، جوہری تنصیبات پر حملے اور ممکنہ وسیع پیمانے کی جنگ کا سائے نے پوری دنیا کو فکرمند کر دیا۔ اس صورتحال میں پاکستان، جو ایران کا براہ راست ہمسایہ ہے اور امریکہ کے ساتھ بھی تاریخی روابط رکھتا ہے، نے ایک غیر جانبدار اور ذمہ دارانہ موقف اپنایا۔ وزارت خارجہ کے بیانات سے واضح ہے کہ پاکستان نے دونوں فریقین کے درمیان پیغامات کی منتقلی کا کام کیا، امریکی تجاویز کو ایران تک پہنچایا اور ایرانی جوابات کو واشنگٹن تک۔ یہ صرف ایک سادہ سہولت کار کا کردار نہیں تھا بلکہ فعال ثالثی کا حصہ تھا جس میں پاکستان نے اپنے لیڈرشپ کی سطح پر کوششیں کیں۔ وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق دار، اور فوجی قیادت بالخصوص فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اسلام آباد ٹالکس کی میزبانی میں کلیدی کردار ادا کیا۔
اپریل2026ء کے وسط میں اسلام آباد میں ہونے والی ان بات چیتوں نے ایک اہم سنگ میل قائم کیا۔ دونوں فریقین کے اعلیٰ سطح کے وفود نے یہاں ملاقاتیں کیں،15نکاتی امریکی پلان پر بحث ہوئی اور ایرانی جوابات کا تبادلہ ہوا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ18اپریل2026ء کو ایک دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان ہوا جو بعد میں مزید توسیع پا گیا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے بار بار یہ واضح کیا کہ پاکستان کی پالیسی اصول پسندانہ سفارتکاری پر مبنی ہے۔ ہم نے کوئی فریق نہیں بنایا، کوئی خفیہ معاہدہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی کی طرف جھکا دکھایا۔ یہ صرف پیغامات کی منتقلی اور بات چیت کی میزبانی تھی جس کا مقصد خطے میں امن اور استحکام تھا۔ وزارت خارجہ کے سرکاری بیانات میں بار بار یہ لفظ استعمال ہوا ہے کہ پاکستان ایک غیر جانبدار، تعمیری سہولت کار اور ثالث ہے۔ قطر، آسٹریا، جرمنی سمیت کئی ممالک نے اس کوشش کو سراہا اور پاکستان کی قیادت کو مبارکباد دی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب پاکستان نے یہ کردار ادا کیا تو کچھ حلقوں میں اتنی بے چینی کیوں پیدا ہوئی؟ کیوں ازلی دشمنوں نے، جو ہمیشہ سے پاکستان کی کوئی بھی کامیابی برداشت نہیں کر سکتے، اس سفارتی کامیابی پر جل اٹھیں، سازشی تھیوریوں کا بازار گرم کر دیا؟ جواب سادہ مگر تلخ ہے۔ پاکستان کی یہ کامیابی اسے عالمی سطح پر ایک اہم کھلاڑی بنا رہی ہے۔ ایک ایسا ملک جو نہ امریکہ کا اڈہ ہے، نہ اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے اور نہ ہی ایران کے ساتھ صرف سرحدی رشتہ رکھتا ہے بلکہ دونوں کے ساتھ متوازن روابط برقرار رکھتا ہے۔ یہ توازن ہی پاکستان کی طاقت ہے۔ مگر جب یہ توازن کامیاب ہو جائے تو حسد پیدا ہوتا ہے۔ بھارت اور اسرائیل تو ویسے بھی پاکستان کی کوئی بھی مثبت پیش رفت کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ان کے پراپیگنڈے میں پاکستان کو ہمیشہ مشکوک دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بلخصوص جب ان کی آنکھوں میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت ایک کانٹے کی طرح چبھ رہی ہے۔
یہ سازشی تھیوریاں خاص طور پر مئی2026ء میں CBSنیوز کی ایک رپورٹ کے بعد شدت اختیار کر گئیں جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایرانی طیارے پاکستان کے نور خان ایئر بیس پر اترے۔ فوری طور پر امریکی کانگریس میں سوالات اٹھے، سینیٹر لنڈسے گراہم جیسے لوگوں نے پاکستان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ مگر وزارت خارجہ نے اسے فوری طور پر مسترد کر دیا۔ وزارت خارجہ کا موقف واضح تھا کہ یہ رپورٹ گمراہ کن اور سنسنی خیز تھی۔ کوئی ایرانی فوجی طیارہ نہیں اترا تھا بلکہ اگر کوئی طیارہ آیا بھی تو وہ اسلام آباد ٹالکس کے بعد سفارتی لاجسٹکس کا حصہ تھا اور یہ بات دونوں فریقین کو شفاف طور پر بتائی گئی تھی۔ پاکستان نے کوئی خفیہ کھیل نہیں کھیلا۔ یہ بات خود صدر ٹرمپ نے بھی تسلیم کی جب انہوں نی پاکستان کی قیادت کو ثالثی کے لیے سراہا اور کہا کہ یہ بالکل عظیم کام تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے کوئی معجزہ نہیں کیا۔ نہ ہی کوئی جوہری حملہ روکا گیا کیونکہ ایسا حملہ ہوا ہی نہیں تھا۔ حملے روایتی تھے جو جوہری تنصیبات پر ہوئے مگر پاکستان نے سفارتی ذرائع سے اضافہ کو روکا۔ یہ کوئی تاریخی بے مثال جدوجہد نہیں تھی بلکہ ایک ذمہ دارانہ خارجہ پالیسی کا نتیجہ تھا جو پاکستان ہمیشہ سے اپناتا آیا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح سے لے کر آج تک ہماری پالیسی کا مرکزی نقطہ امن، مکالمہ اور علاقائی استحکام رہا ہے۔ ہم نے کبھی جنگ کی طرف قدم نہیں بڑھایا بلکہ ہمیشہ بات چیت کا راستہ تلاش کیا۔ اسی پالیسی کا تسلسل ہے کہ آج ایران اور امریکہ دونوں پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں۔ ایران ہمسایہ ہے، مشترکہ سرحد، مشترکہ ثقافت اور مشترکہ مفادات ہیں۔ امریکہ کے ساتھ بھی دفاعی، معاشی اور اسٹریٹجک تعلقات ہیں۔ یہ توازن برقرار رکھنا آسان نہیں مگر پاکستان نے یہ کر دکھایا۔
اس پورے عمل میں پاکستان کی قیادت کا کردار قابل ستائش ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ذاتی طور پر دونوں وفود سے ملاقاتیں کیں۔ نائب وزیراعظم اسحاق دار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مذاکراتی عمل میں حصہ لیا۔ یہ کوئی ایک شخص کا کارنامہ نہیں تھا بلکہ قومی سطح کی کوشش تھی۔ وزارت خارجہ نے بار بار یہ واضح کیا کہ پاکستان کی آفیشل پالیسی صرف سرکاری بیانات سے ہی جانی جائے گی۔ کوئی ان نام نہاد سورسز پر یقین نہ کیا جائے جو میڈیا میں افواہیں پھیلا رہے ہیں۔ یہ بات اہم ہے کیونکہ دشمن عناصر ہمیشہ اندرونی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان کی یہ سفارتی کامیابی اس کی خارجہ پالیسی کی پختگی کا ثبوت ہے۔ بات چیتوں کی توسیع، استحکام کی ضمانت اور علاقائی امن کی تلاش میں پاکستان کا کردار اہم رہے گا۔ جو لوگ اسے کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ دراصل پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت سے خوفزدہ ہیں۔

جواب دیں

Back to top button