Column

سرمایہ کاری کے فروغ سے اقتصادی استحکام

سرمایہ کاری کے فروغ
سے اقتصادی استحکام
پاکستان کی معیشت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں پائیدار ترقی کے لیے ٹھوس اور موثر اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ موجودہ حکومت کی جانب سے سرمایہ کاری کے فروغ کو اولین ترجیح قرار دینا ایک مثبت اور بروقت قدم ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے حالیہ اجلاس میں دی جانے والی ہدایات اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ حکومت معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ سرمایہ کاری کسی بھی ملک کی اقتصادی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہے بلکہ صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافہ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے یہ اور بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہے، جہاں آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور انہیں روزگار فراہم کرنا ایک بڑا چیلنج ہی۔ وزیراعظم کی جانب سے ریگولیٹری تعمیل کو آسان اور کم خرچ بنانے کی ہدایت ایک اہم پیش رفت ہے۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بیوروکریسی، پیچیدہ قوانین اور اجازت ناموں کا مشکل نظام رہا ہے۔ سرمایہ کار اکثر طویل اور پیچیدہ طریقہ کار سے گھبرا کر دوسرے ممالک کا رخ کر لیتے ہیں۔ ایسے میں اگر حکومت واقعی ان رکاوٹوں کو کم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ سرمایہ کاری کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کرے گا۔ ڈیجیٹائزیشن کا عمل بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ لائسنسنگ اور دیگر سرکاری سروسز تک رسائی کو ڈیجیٹل بنانے سے نہ صرف شفافیت میں اضافہ ہوگا بلکہ کرپشن کے امکانات بھی کم ہوں گے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اسی ماڈل کو اپنایا ہے جہاں زیادہ تر سرکاری امور آن لائن انجام دئیے جاتے ہیں، جس سے وقت اور وسائل دونوں کی بچت ہوتی ہے۔ پاکستان میں اس عمل کی رفتار تیز کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل، کا قیام بھی ایک مثبت پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس ادارے کا مقصد ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں ان کے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جا سکے۔ اگر یہ ادارہ مثر انداز میں کام کرتا ہے تو یہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے، جو کسی بھی سرمایہ کاری کے لیے بنیادی عنصر ہوتا ہے۔ اجلاس میں پیش کی جانے والی بریفنگ کے مطابق رواں مالی سال میں جولائی سے مارچ تک برآمدات میں خصوصی اقتصادی زونز کا حصہ صرف 3.7فیصد رہا، جسے 2028ء تک 8فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ ہدف بظاہر قابل حصول نظر آتا ہے، تاہم اس کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ خصوصی اقتصادی زونز میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، توانائی کی دستیابی، اور کاروباری آسانیوں کو یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ یہ زونز حقیقی معنوں میں برآمدات کے مراکز بن سکیں۔ حکومت کی جانب سے بزنس-ریڈی ایکشن پلان کی تیاری بھی خوش آئند ہے، جو صوبوں کی مشاورت سے ترتیب دیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان اکثر پالیسیوں کی موثریت کو متاثر کرتا ہے۔ اگر یہ پلان واقعی تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تیار کیا جاتا ہے تو اس کے بہتر نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ پاکستان ریگولیٹری رجسٹری کا قیام بھی ایک اہم قدم ہے۔ اس کے ذریعے تمام قوانین، اجازت نامے اور ضوابط کو ایک جگہ پر جمع کیا جائے گا، جس سے سرمایہ کاروں کو واضح معلومات میسر آئیں گی۔ اس سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ غیر یقینی صورتحال میں بھی کمی آئے گی، جو سرمایہ کاری کے لیے ایک بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے۔ تاہم، ان تمام اقدامات کے باوجود کچھ بنیادی مسائل ایسے ہیں جن پر فوری توجہ دینا ضروری ہے۔ توانائی کا بحران، امن و امان کی صورتحال، اور پالیسیوں کا تسلسل ایسے عوامل ہیں جو سرمایہ کاروں کے فیصلوں پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ اگر حکومت واقعی سرمایہ کاری کو فروغ دینا چاہتی ہے تو اسے ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا۔ مزید برآں، سرمایہ کاروں کا اعتماد صرف پالیسی اعلانات سے بحال نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات اور مستقل مزاجی ضروری ہوتی ہے۔ ماضی میں کئی اچھی پالیسیاں صرف اس وجہ سے ناکام ہوئیں کہ ان پر تسلسل کے ساتھ عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت اپنی پالیسیوں پر نہ صرف فوری بلکہ طویل المدتی بنیادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ برآمدات میں اضافے کے لیے مقامی صنعتوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا بھی ناگزیر ہے۔ عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے کے لیے معیار، جدت اور لاگت میں توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ صنعتکاروں کو جدید ٹیکنالوجی اپنانے کے لیے مراعات فراہم کرے اور تحقیق و ترقی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے حکومت کی حالیہ کوششیں درست سمت میں ایک قدم ہیں، تاہم ان کے ثمرات حاصل کرنے کے لیے مربوط حکمت عملی، موثر عمل درآمد اور تمام اداروں کے درمیان ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ اگر یہ اقدامات سنجیدگی سے جاری رکھے گئے تو پاکستان نہ صرف اپنی معیشت کو مستحکم کر سکتا ہے بلکہ خطے میں ایک مضبوط اقتصادی طاقت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
فتح۔IIمیزائل، دفاعی خودانحصاری کی مثال
پاکستان کی جانب سے فتح۔IIمیزائل سسٹم کی کامیاب مشق ایک اہم دفاعی پیش رفت کی عکاس ہے، جو نہ صرف ملک کی عسکری صلاحیتوں میں اضافے کو ظاہر کرتی ہے بلکہ خطے میں اسٹرٹیجک توازن کے تناظر میں بھی خاصی اہمیت رکھتی ہے۔ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات میں، جہاں سیکیورٹی چیلنجز مسلسل پیچیدہ ہو رہے ہیں، اس نوعیت کی پیش رفتیں قومی سلامتی کے لیے ناگزیر سمجھی جاتی ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ میزائل مقامی طور پر تیار کیا گیا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان دفاعی ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کی جانب موثر انداز میں گامزن ہے۔ جدید ایویانکس اور نیویگیشنل نظام سے لیس فتح۔IIمیزائل نہ صرف درست نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ اس کی بقا اور موثریت بھی اسے ایک قابلِ اعتماد دفاعی ہتھیار بناتی ہے۔ اس طرح کی ٹیکنالوجی کی تیاری ملک کے سائنس دانوں اور انجینئرز کی محنت، قابلیت اور عزم کا مظہر ہے۔ اس تربیتی مشق کا مقصد صرف میزائل کا تجربہ کرنا نہیں بلکہ فوجی دستوں کی پیشہ ورانہ تربیت کو مزید بہتر بنانا اور مختلف تکنیکی پہلوں کی تصدیق کرنا بھی تھا۔ یہ عمل اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ کسی بھی ممکنہ صورتحال میں افواج پاکستان مکمل طور پر تیار ہوں۔ اس کے ساتھ مختلف ذیلی نظاموں کی کارکردگی کا جائزہ لے کر ان میں مزید بہتری لانا بھی ایک مثبت قدم ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس مشق کا مشاہدہ اعلیٰ عسکری قیادت اور اسٹرٹیجک اداروں کے ماہرین نے کیا، جو اس منصوبے کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔ صدر مملکت، وزیراعظم اور مسلح افواج کے سربراہان کی جانب سے سائنسدانوں اور انجینئرز کو خراجِ تحسین پیش کرنا اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ قومی دفاع میں ان کا کردار نہایت کلیدی ہے۔ تاہم، یہ بھی ضروری ہے کہ دفاعی ترقی کے ساتھ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کو بھی ترجیح دی جائے۔ مضبوط دفاع کسی بھی ملک کو جارحیت سے بچانے کا ذریعہ ضرور ہوتا ہے، مگر پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششیں بھی اتنی ہی اہم ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو برقرار رکھتے ہوئے خطے میں امن، مکالمے اور تعاون کو فروغ دینے کی پالیسی پر بھی قائم رہے۔

جواب دیں

Back to top button