Column

مہنگائی کا طوفان: عوام کی برداشت کا آخری امتحان

حرفِ جاوید

مہنگائی کا طوفان: عوام کی برداشت کا آخری امتحان

تحریر: جاوید اقبال

یہ صرف مہنگائی نہیں، یہ ایک ایسا معاشی جھٹکا ہے، جس نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔ پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ محض ایک عددی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسے طوفان کی صورت اختیار کر چکا ہے جس کے اثرات ہر گھر، ہر چولہے اور ہر جیب تک پہنچ رہے ہیں۔ جب پٹرول 380روپے فی لٹر اور ڈیزل 520روپے سے تجاوز کر جائے تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا واقعی اس بوجھ کو عوام برداشت کر سکتے ہیں؟ حکومت نے اس اضافے کو عالمی منڈی کی صورتحال اور International Monetary Fund( آئی ایم ایف) سے کیے گئے وعدوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ بلاشبہ عالمی سطح پر خلیجی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ایک حقیقت ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس ساری قیمت کا بوجھ براہِ راست عوام پر ڈال دینا ہی واحد حل تھا؟

یہ کہنا آسان ہے کہ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہو گیا، اس لیے پاکستان میں بھی قیمتیں بڑھانا ناگزیر تھا، مگر یہاں ایک بنیادی نکتہ نظر انداز ہو رہا ہے کہ کیا پاکستان نے کبھی اپنی توانائی کی پالیسی کو اس نہج پر استوار کیا کہ وہ عالمی جھٹکوں کو برداشت کر سکے؟ ہماری معیشت کا المیہ یہی ہے کہ ہم ہمیشہ ردِعمل دیتے ہیں، پیش بندی نہیں کرتے۔ جب عالمی قیمتیں بڑھتی ہیں تو ہم بھی قیمتیں بڑھا دیتے ہیں، مگر جب قیمتیں کم ہوتی ہیں تو عوام کو وہ ریلیف مکمل طور پر منتقل نہیں کیا جاتا، جس سے عوام میں بے چینی اور بداعتمادی بڑھتی ہے۔

حکومت نے موٹر سائیکل سواروں کے لیے 2000روپے ماہانہ سبسڈی کا اعلان کیا ہے، جو بظاہر ایک مثبت قدم لگتا ہے مگر حقیقت میں یہ ریلیف نہایت محدود ہے۔ ایک عام موٹر سائیکل سوار کا ماہانہ پیٹرول خرچ ہزاروں روپے تک پہنچ چکا ہے، ایسے میں یہ سبسڈی وقتی سہارا تو دے سکتی ہے مگر مستقل حل نہیں بن سکتی۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس سبسڈی کا طریقہ کار واضح نہیں، جس سے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ کہیں یہ اعلان عملی شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی غیر موثر نہ ہو جائے۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ دراصل مہنگائی کے ایک وسیع تر طوفان کا آغاز ہوتا ہے۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھتے ہیں، اشیائے خورونوش مہنگی ہو جاتی ہیں، زرعی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور صنعتوں کی پیداواری لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔ یوں ایک ایسا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جس میں ہر چیز مہنگی ہوتی چلی جاتی ہے اور سب سے زیادہ متاثر نچلا اور متوسط طبقہ ہوتا ہے، جو پہلے ہی محدود آمدن میں گزارا کرنے پر مجبور ہے۔

پاکستان کا درمیانی طبقہ اس صورتحال میں سب سے زیادہ دبائو کا شکار ہے۔ نہ تو یہ مکمل طور پر حکومتی سبسڈی کا اہل سمجھا جاتا ہے اور نہ ہی اس کی آمدن اتنی ہوتی ہے کہ وہ مہنگائی کے مسلسل جھٹکوں کو برداشت کر سکے۔ ایک تنخواہ دار شخص کے لیے بڑھتے ہوئے کرائے، مہنگی بجلی اور اب آسمان کو چھوتی پٹرول کی قیمتیں ایک ایسا بوجھ بن چکی ہیں جس نے اس کی مالی منصوبہ بندی کو مکمل طور پر درہم برہم کر دیا ہے۔

ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ زرعی شعبے کے لیے بھی ایک خاموش بحران کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کا زرعی نظام بڑی حد تک ڈیزل پر انحصار کرتا ہے، اور جب اس کی قیمت اس حد تک بڑھ جائے تو اس کا براہِ راست اثر فصلوں کی لاگت اور خوراک کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ کسان کے لیے پیداوار مہنگی ہو جاتی ہے، اور اس کا بوجھ بالآخر صارفین تک منتقل ہوتا ہے، جس سے مہنگائی کا دائرہ مزید وسیع ہو جاتا ہے۔

ٹرانسپورٹ اور کاروباری سرگرمیاں بھی اس اضافے سے بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ مال بردار گاڑیوں کے اخراجات میں اضافہ ہونے سے اشیاء کی ترسیل مہنگی ہو جاتی ہے، جس کا اثر براہِ راست مارکیٹ میں نظر آتا ہے۔ چھوٹے کاروباری افراد اور دکاندار اس اضافی لاگت کو صارفین تک منتقل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جس سے مہنگائی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جنم لیتا ہے اور معیشت کی رفتار سست پڑنے لگتی ہے۔

یہ تمام صورتحال ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا ہماری معاشی پالیسیوں کی ترجیحات درست ہیں؟ اگر ہر بحران میں سب سے آسان حل عوام پر بوجھ ڈالنا ہی ہے تو پھر پالیسی سازی کا مقصد کیا رہ جاتا ہے؟ متبادل توانائی کے ذرائع، موثر پبلک ٹرانسپورٹ، اور تیل کی درآمد پر انحصار کم کرنے جیسے اقدامات پر سنجیدگی سے غور کیوں نہیں کیا گیا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب دئیے بغیر ہم ہر چند سال بعد اسی طرح کے بحرانوں کا سامنا کرتے رہیں گے۔مہنگائی کے اس طوفان کے سماجی اثرات بھی نہایت گہرے ہیں۔ جب لوگوں کی آمدن اور اخراجات میں توازن ختم ہو جاتا ہے تو ذہنی دبا بڑھتا ہے، بے چینی میں اضافہ ہوتا ہے اور بعض اوقات جرائم کی شرح میں بھی اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو جائے، وہاں ترقی اور استحکام کی امید رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اس وقت سب سے اہم ضرورت ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کو بحال کرنے کی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ فیصلے شفاف ہوں، عوام کو اعتماد میں لیا جائے اور ریلیف کے وعدے عملی شکل اختیار کریں۔ صرف بیانات اور پریس کانفرنسز سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ عملی اقدامات ہی وہ چیز ہیں جو عوام کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ریاست واقعی ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

پاکستان اس وقت ایک نازک معاشی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف عالمی دبائو اور مالیاتی معاہدے ہیں اور دوسری طرف عوام کی برداشت کی حد۔ یہ فیصلہ کن لمحہ ہے کہ کیا پالیسی ساز عوام کے اعتماد کو بحال کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا مہنگائی کا یہ طوفان نہ صرف معیشت بلکہ سماجی استحکام کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ کیونکہ آخر میں معاملہ صرف پٹرول کی قیمت کا نہیں بلکہ اس قوم کے مستقبل کا ہے۔

جواب دیں

Back to top button