Column

پاکستان کا جغرافیائی کارڈ: مستقبل کی معیشت یا نیا جیو اسٹریٹجک امتحان؟

پاکستان کا جغرافیائی کارڈ: مستقبل کی معیشت یا نیا جیو اسٹریٹجک امتحان؟
تحریر: خواجہ عابد حسین
پاکستان نے روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو اپنی بحیرہ عرب کی بندرگاہوں کے ذریعے زمینی تجارتی راستے فراہم کرنے کی پیشکش کر کے ایک بار پھر اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کو معاشی طاقت میں بدلنے کی کوشش کی ہے۔ اقوام متحدہ کے اقتصادی فورم میں ہونے والے حالیہ بیانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسلام آباد خود کو محض ایک راہداری نہیں بلکہ ایک فعال تجارتی مرکز کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ پیشکش پاکستان کے معاشی مستقبل کو بدل سکتی ہے یا یہ بھی ماضی کے منصوبوں کی طرح کاغذی خواب ثابت ہوگی؟
کراچی اور گوادر: گرم پانیوں تک رسائی کا دروازہ
پاکستان طویل عرصے سے یہ موقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کی بندرگاہیں خصوصاً Port of Karachiاور Gwadar Port وسطی ایشیا کی خشکی میں گھرے ممالک کے لیے گرم پانیوں تک سب سے مختصر راستہ فراہم کرتی ہیں۔ عالمی سپلائی چین میں تبدیلی اور روایتی سمندری گزرگاہوں پر بڑھتے دبا نے اس بیانیے کو نئی اہمیت دی ہے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ قازقستان کی ایک کھیپ جون 2024ء میں پاکستان کے راستے متحدہ عرب امارات پہنچی، جبکہ 1800سے زائد بین الاقوامی TIRٹرانزٹ شپمنٹس اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان عملی طور پر اس نظام کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ گوادر میں وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے 100ایکڑ ٹرمینل مختص کرنا بھی اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
علاقائی راہداریوں کا جال: امکانات اور خطراتپاکستان کی پیشکش دراصل کئی راہداریوں کے امتزاج پر مبنی ہے، جن میں ترکی، آذربائیجان، ایران، چین اور ٹرانس افغان روابط شامل ہیں۔ خاص طور پر China-Pakistan Economic Corridorکو اس پورے تصور کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی تسلسل میں سکھر، حیدرآباد موٹر وے (M۔6) کو شمال-جنوب تجارتی ڈھانچے کی آخری کڑی کہا جا رہا ہے، جس میں تقریباً 30فیصد گارنٹی شدہ ایکویٹی کی پیشکش غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بنائی گئی ہے۔
لیکن یہاں چند بنیادی سوالات بھی جنم لیتے ہیں: کیا پاکستان کی داخلی سیاسی و معاشی عدم استحکام طویل المدتی سرمایہ کاری کو متاثر نہیں کرے گا؟، افغانستان کے راستے تجارت کی راہ میں سکیورٹی خدشات کس حد تک رکاوٹ بن سکتے ہیں؟، روس کے ساتھ بڑھتا ہوا تجارتی تعاون مغربی پابندیوں کے تناظر میں پاکستان کے لیے سفارتی دبائو کا باعث تو نہیں بنے گا؟
پاکستان کا مستقبل: راہداری ریاست یا معاشی مرکز؟
پاکستان کی معیشت طویل عرصے سے درآمدات اور بیرونی قرضوں پر انحصار کرتی آئی ہے۔ اگر یہ راہداری منصوبہ شفافیت، علاقائی ہم آہنگی اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے ساتھ آگے بڑھتا ہے تو ملک کو ٹرانزٹ فیس، لاجسٹکس انڈسٹری، گودام سازی، ویلیو ایڈڈ سروسز اور روزگار کے نئے مواقع میسر آ سکتے ہیں۔ یہ تبدیلی پاکستان کو صرف ایک منڈی نہیں بلکہ ایک ’’ ٹرانزٹ اکانومی‘‘ میں ڈھال سکتی ہے۔ تاہم محض سڑکیں اور بندرگاہیں کافی نہیں ہوتیں۔ کسٹمز اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن، سیاسی تسلسل اور علاقائی اعتماد سازی ناگزیر ہیں۔ اگر ہم نے ماضی کی طرح بدانتظامی، تاخیر اور شفافیت کی کمی کو دہرایا تو یہ سنہری موقع بھی ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔ روس اور وسطی ایشیا کو راستہ دینے کی پیشکش دراصل پاکستان کے اپنے مستقبل کی پیشکش ہے۔
یہ فیصلہ کن لمحہ ہے: کیا ہم اپنے جغرافیے کو معاشی طاقت میں بدل سکیں گے یا پھر یہ بھی محض ایک سفارتی بیان بن کر رہ جائے گا؟
وقت اس سوال کا جواب دے گا، مگر یہ طے ہے کہ اگر وژن کے ساتھ عمل نہ ہو تو جغرافیہ بھی بے معنی ہو جاتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button