میگنا کارٹا کی زندہ لاش۔۔۔۔

میگنا کارٹا کی زندہ لاش۔۔۔۔
روشن لعل
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر کیے جانے والے میزائل حملوں کے دوران ’’ علی خامنہ ای‘‘ کی ہلاکت کے بعد کچھ لوگ یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ آنے والے وقت میںان کا ذکر کن لفظوں میں کیا جائے گا۔ جن لوگوں کو یہ فکر ستائے جارہی ہے کہ آنے والے وقت میں علی خامنہ ای کو کن لفظوں میں یاد کیا جائے گا انہیں اس بات کا فیصلہ تاریخ پر چھوڑتے ہوئے فی الوقت صرف یہ غور کرنا چاہیے کہ جس موقف اور جواز کے تحت ’’ علی خامنہ ای‘‘ کو ہلاک کیا گیا اس کی اخلاقی و قانونی حیثیت کیا ہے۔ جو لوگ، مقامی و عالمی سطح پر پاکستان کے سی سی ڈی جیسے اداروں کی کاروائیوں کی اس وقت تک حمایت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ خود ایسی کارروائیوں کا شکار نہ ہوجائیں ، انہیں کسی عمل کا تسلیم شدہ قانونی و اخلاقی پہلوئوں کے مطابق جائزہ لینے کی طرف مائل کرنا آسان کام نہیں ہے۔ اگرچہ عصر حاضر میں تسلیم شدہ قوانین اور اخلاقیات سے صرف نظر کو عمومی فعل بنا دیا گیا ہے مگر ان ارتقائی مراحل کو تاریخ کے صفحوں سے حذف کرنا اب بھی ممکن نہیں ہو سکا جنہیں طے کرتے ہوئے انسانوں کے مہذب اور انسانی اقدار کے پاسدار ہونے کا معیار وضع کیا گیا تھا۔
تہذیب کے ارتقائی سفر کے دوران ناتوانوں پر طاقت کے بے رحمانہ استعمال کو روکنے کی غرض سے انسانی حقوق کا جو چارٹر طے ہوا اس کے لیے سال 1215میں تحریر کردہ ’’ میگنا کارٹا‘‘ کو اہم ترین سنگ میل قرار دیا جاتا ہے۔ میگنا کارٹا سے قبل ، شہنشاہی، طاقت اور اختیارات کے صوابدیدی استعمال کو کسی اصول ضابطے کا پابند بنانے کا کوئی تصور موجود نہیں تھا۔ اس دور میں جب شاہی طاقت کے، عام لوگوں پر غاصبانہ استعمال کو خدائی منشا قرار دیا جاتا تھا، تب ، بادشاہ ، کو کسی لارڈ ، نواب یا جاگیر دار تک کو جیل میں ڈالنے کا صوابدیدی اختیار حاصل تھا۔ ایسے حالات میں انگلینڈ کے بادشاہ جان نے جب اپنی مرضی سے عائد کردہ ٹیکس کی عدم وصولی پر جاگیر داروں کو جیل میں ڈالا تو جاگیر داروں کے ایک گروہ نے اس کے خلاف بغاوت کا اعلان کر دیا۔ اس بغاوت کے نتیجے میں بادشاہ کو جاگیر داروں کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ کرنے پر مجبور ہونا پڑا جس میں طے کیا گیا تھا کہ آئندہ بادشاہ ، جاگیر داروں پر ٹیکس عائد کرنے یا انہیں جیل میں ڈالنے کے لیے شاہی اختیارات کا استعمال اپنی صوابدید کے مطابق نہیں بلکہ طے شدہ حدود اور شرائط کے تحت کرنے کا پابند ہوگا۔ اس معاہدہ کو میگنا کارٹا کہا جاتا ہے۔ یوں جس بادشاہ کے احکامات کو قبل ازیں خدائی منشا کا ’’ پرتو‘‘ قرار دیا جاتا تھا اسے میگنا کارٹا کے ذریعے انسانوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا پابند بنا دیا گیا۔
گو کہ انسانی حقوق سے وابستہ چارٹر کی تشکیل کے لیے میگنا کارٹا کو بنیاد بنا کر پیش کیا جاتا ہے لیکن درحقیقت میگنا کارٹا میں عام انسانوں یا رعایا کے حقوق کے تحفظ کی کوئی شق موجود نہیں تھی۔ رعایا اور عوام کا فرق یہ ہے کہ کسی بادشاہت کے زیر تسلط زندگی گزارنے والوں کو رعایا اور جمہوری سماج میں شہریت کے حقوق سے مستفید ہونے والوں کو عوام کہا جاتا ہے۔ رعایا محکومیت، جبکہ عوام شہریت کی عکاسی کرتے ہیں۔ رعایا کا لفظ قدیم یا شاہی نظامِ حکومت کی یادگار ہے جس کے مطابق حاکم کی حاکمیت کے آگے ، افراد فرض سمجھ کر سرجھکائے رکھتے ہیں ، اس کے برعکس عوام جدید جمہوری دور کا لفظ ہے جو اطاعت کی بجائے ایسی شہری آزادیوں سے وابستہ ہے جن کے حصول کے لیے حقوق اور فرائض میں توازن رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
امریکہ کے ٹرمپ اور اسرائیل کے نیتن یاہو، نے ایران پر ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی تیاریوں کا الزام عائد کر کے جو میزائل کشی کی ہے ، اسے عالمی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے طاقت کے صوابدیدی اور غاصبانہ استعمال کے علاوہ کچھ اور نہیں سمجھا جاسکتا۔ امریکہ کی سپر پاور حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایران کے خلاف جس غاصبانہ رویے کا مظاہرہ کیا وہ ایسے رویوں کے اظہار کی واحد مثال نہیں ہے۔ ٹرمپ سے قبل، امریکی صدور باراک اوبامہ اور جو بائیڈن کی ایک وجہ شہرت دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی تھی لیکن آج کل ، صدر، ٹرمپ کی پہچان یہ ہے کہ وہ طے شدہ عالمی قوانین اور اصولوں کے خلاف جنگ کرنے والا امریکی صدر ہے۔ ٹرمپ، طے شدہ اصولوں کو جوتے کی نوک پر رکھنے کا عملی مظاہر ہ صرف بیرونی دنیا نہیں میں بلکہ امریکہ کے اندر بھی کئی مرتبہ کر چکا ہے۔ ٹرمپ نے امریکہ کے اندر تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے اور بندر بانٹ کی طرح مختلف ملکوں کی درآمدات پر مختلف شرح سے ٹیرف عائد کرتے وقت ، جس طرح سے اندھا دھند اپنے صوابدیدی اختیارات کا استعمال کیا امریکی عدالتیں اس کے خلاف فیصلے دے چکی ہیں۔ ایسے فیصلوں کو تسلیم کرنے کی بجائے ، ٹرمپ نے اپنے پروپیگنڈا سیل کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف عدالتوں کے ججوں بلکہ ان وکیلوں کی خلاف بھی محاذ کھڑا کر دیا جو اس کے خلاف پیش ہوتے رہے۔ مختلف امریکی اخباروں میں ٹرمپ اور اس کے حواریوں کے اس طرح کے رویوں کو اصولوں کے خلاف جنگ قرار دے کر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ ایران پر حالیہ حملے کے بعد کچھ امریکی اراکین نے پارلیمنٹ نے ٹرمپ کو یہ کہتے ہوئے ہدف تنقید بنایا کہ اس حملے سے قبل اس کی کانگریس سے منظوری قانونی حاجت تھی جس کا خیال نہیں رکھا گیا۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے ، ایٹم بم بنانے کے جس الزام کو جواز بنا کر ایران پر حملہ کیا اس الزام کے درست یا غلط ہونے کا فیصلہ کرنے کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ ،’’ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی‘‘ موجود ہے۔ طے شدہ اصولوں کے مطابق، اس ادارے کو اپنا کام کرنے کا موقع دینے کی بجائے ، ٹرمپ نے خود ہی مدعی وکیل اور منصف بن کر ایران پر لگائے گئے الزام کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے اس پر حملہ کر دیا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ جس ملک برطانیہ میں عالمی انسانی و جمہوری حقوق کے چارٹر کی بنیاد بننے والے ’’ میگنا کارٹا ‘‘ کو تحریر کیا گیا تھا اس برطانیہ کے وزیر اعظم کیر سٹارنر نے ٹرمپ کے ایران پر غاصبانہ حملے کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا ہے۔
ٹرمپ کی طرف سے ایران پر آمرانہ اور غاصبانہ رویوں کے تحت حملہ کرنے کے بعد، تہذیب کی وہ عمارت لرز اٹھی ہے جسے انسانیت کے مشترکہ اثاثے کی طور پر میگنا کارٹا کو بنیاد بنا کر گزشتہ کئی صدیوں کے دوران استوار کیا گیا تھا۔ میگنا کارٹا ، تحریر ہونے کے کئی صدیوں بعد ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے ، طاقتور، متوسط اور کمزور ملکوں کے درمیان توازن پیدا کرنے کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ بنایا گیا تھا۔ یہ ادارہ اقوام عالم کے درمیان جمہوری تعلقات استوار کرنے میں مکمل کامیاب تو نہیں ہو سکا لیکن بتدریج اس سمت میں آگے بڑھتا رہا جو میگنا کارٹا نے متعین کی تھی۔ دوسری مدت کے لیے امریکہ کا صدر بننے کے بعد ٹرمپ، غاصبانہ رویوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے جس طرح جمہوری اصولوں کو پامال کر رہا ہے اس سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ میگنا کارٹا جسے تہذیب کے ارتقا کی بنیاد سمجھا جارہا تھا اب محض زندہ لاش بن چکا ہے۔





