Editorial

وزیراعظم کی فل کورٹ کمیشن کیلئے درخواست

 

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وزیر آباد میں لانگ مارچ کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان پر قاتلانہ حملے کے بعد مجھ سمیت، وزیرداخلہ اور ادارے کے اہم افسر پر الزام لگانا افسوسناک بات ہے۔وزیر آباد واقعہ کی تحقیقات ہونی چاہیے چیف جسٹس سے ملتمس ہوں فل کورٹ کا کمیشن بنائیں۔ عمران فوج پر دشمن کی طرح حملہ آور ہیں ، خانہ جنگی کا ماحول بنایا جارہا ہے،عسکری ادارے کی درخواست پر حکومت اپنا فرض ادا کرے گی، پاک فوج نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے حکومت کارروائی کرے، پوری طرح فرض کی ادائیگی ہو گی۔وزیراعظم شہبازشریف کی پریس کانفرنس کے اگلے ہی روز چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے منگل سے وزیرآباد سے تحریک انصاف کا لانگ مارچ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔عمران خان نے وزیرآباد میں خود پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی صاف اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں ہماری حکومت ہے لیکن تین دن ہو گئے ایف آئی آر نہیں درج کروا پا رہے، میں ملک کا سابق وزیراعظم ہوں مگر ایک ایف آئی آر درج نہیں کروا پا رہا۔پر اعتماد ہوں لانگ مارچ میں تشدد نہیں ہوگا۔ لانگ مارچ جہاں رکا تھا وہیں سے دوبارہ شروع ہو گا، مارچ کے شرکا سے ہر روز خطاب کروں گا، جب مارچ 10 سے 15 روز میں راولپنڈی پہنچے گا تو خود آؤں گا اور لانگ مارچ کو لیڈ کروں گا۔ ایک طرف وزیراعظم پاکستان نے چیف جسٹس پاکستان سے فل کورٹ کا کمیشن بنانے کی درخواست کی ہے تو دوسری طرف عمران خان نے لانگ مارچ اُسی مقام سے دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جہاں ان پر حملہ ہوا تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیرآباد کے واقعے پر فل کورٹ کمیشن انتہائی احسن فیصلہ ہے، کیونکہ اِس کمیشن پر سبھی سٹیک ہولڈرز کو اعتماد ہوگا اور اِس کی رپورٹ بھی سبھی خوش دلی سے قبول کریں گے، کیونکہ اداروں کی تحقیقات کو دوسرا سٹیک ہولڈر قطعی تسلیم نہیں کرے گا، مرکز والے پنجاب کی اور پنجاب والے مرکز کی تحقیقات کو تسلیم نہیں کریں گے جیسا کہ حالیہ دنوں میں بھی دیکھنے اور سننے کو مل رہا ہے۔ کل بروز منگل سے ایک بارپھر لانگ مارچ اپنے راستے پر رواں دواں نظر آئے گا، پس وہی مناظر دیکھنے کو ملیں گے لیکن فرق صرف اتنا ہوگا کہ اِس دوران قوم ایک بڑے سانحے سے محفوظ رہی ہے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان عظیم ہے۔ ایک روز قبل ہی پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اپنی وضاحت بڑی تفصیل کے ساتھ جاری کی اور اِس میں حکومت سے بھی کارروائی کا مطالبہ کیاگیا تھا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اِس معاملے پر وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کرلیا
ہے،کمیٹی بھی بنا دی گئی ہے ۔ اِس ضمن میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں سرکاری املاک اور عمارات پر جلاؤ، گھیراؤ، پرتشدد سرگرمیوں اور اداروں کے خلاف بے بنیاد الزامات پر وفاقی حکومت نے اپنے اختیارات استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اعلامیہ کے مطابق آئی ایس پی آر کے بیان کی روشنی میں عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے ریاست اور اداروں کے خلاف بیانات پر قانونی کارروائی ہوگی، کارروائی کرنے کے لیے آئینی و قانونی ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔گورنر ہاؤس پنجاب سمیت دیگر شہروں میں جلاؤ، گھیراؤ اور پرتشدد سرگرمیوں پر الگ سے کارروائی ہوگی۔ نجی املاک پر پی ٹی آئی راہنماؤں اور کارکنوں کے حملوں پر بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ آئین اور قانون کے منافی اقدامات پر قانون کی روشنی میں تمام ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ متذکرہ صورتحال میں کہیں اشارہ نہیں ملتا کہ کسی جانب سے کسی سطح پر سیاسی انتشار اور بے چینی کے خاتمے کے لیے عملی کوششیں ہورہی ہیں یا اُن میں پیش رفت ہورہی ہے، پس پیش قدمی جاری ہے، کوئی قدم پیچھے ہٹانے کو تیار نہیں، لیکن ملک کی موجودہ صورت حال سے ہر پاکستانی مضطرب نظرآتا ہے، اور بلامبالغہ بیرونی دنیا بھی ہمارے داخلی حالات اور معاملات پر کڑی نظر رکھے بیٹھی ہوگی۔ شہر اقتدار لانگ مارچ روکنے کے لیے قلعے سا بنادیاگیاہے۔ دنیا کے کونے کونے میں یہ مناظر پہنچ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جو طوفان بپا ہے، پوری دنیا میں دیکھا اور سنا جارہا ہے۔ قومی ذرائع ابلاغ پر تو ملکی سلامتی کے معاملات کو مدنظر رکھنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے لیکن سوشل میڈیا اِن تمام ذمہ داریوں سے آزاد ہے، پس جو جس سمت کھڑا ہے، اُسی سمت چلے جارہا ہے، ریاست کے مفادات کو مقدم رکھنا بظاہر مقصد نہیں وگرنہ ملکی سلامتی کے اہم اداروں اور شخصیات کی ایسی توہین نہ ہوتی۔ ملک کو موجودہ سیاسی بحران سے اور کیفیت سے باہر کیوں نہیں نکالا جاسکتا، مگر اِس کے لیے ایک ایک قدم پیچھے ہٹانا ہوگا، ایک ایک مطالبہ اپنا واپس لینا ہوگا اور ایک ایک مطالبہ دوسرے کا تسلیم کرنا ہوگا، اور بلاشبہ ساری لڑائی ایک ہی مطالبے کی ہے، تسلیم نہیں ہورہا تو ایک فریق سڑکوں پر ہے، تسلیم نہیں کرنا اِس لیے دوسرا فریق تسلیم نہیں کررہا، مگر اس سیاسی کشمکش میں ملک و قوم کا جس نہج پر نقصان ہورہا ہے، شاید پرواہ ہی نہیں کی جارہی۔ ملک کے تمام بحران عروج پر ہیں ، معیشت ڈیفالٹ کی زد میں ہے، عوام تاریخ کی بلند سطح پر موجود مہنگائی سے بے حد پریشان ہیں، مرکز اور صوبوں کے درمیان کھینچاتانی ایک الگ محاذ کھلا ہوا ہے لیکن ہر بحران سے بڑا اِس وقت سیاسی بحران بن چکا ہے، حل مشکل بھی نہیں ناممکن بھی نہیں لیکن ضد آڑے ہے، لوگ پریشانی کے عالم میں تماشا دیکھ رہے ہیں، پس عملاً محاذ آرائی اور کھینچاتانی ہی ہورہی ہے، سنجیدگی کا مظاہرہ کون کررہا ہے؟ سبھی اپنے اپنے محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button