Abdul Hanan Raja.Column

زر کا سکہ اچھال دو .. عبدالحنان راجہ

عبدالحنان راجہ

 

اسے اپنی خوش بختی ہی سمجھئے کہ ہم اس سرزمین بے آئین کے باسی ہیں کہ جہاں ہر دروازہ اور ہر تالہ ڈار اور ڈالر کے ساتھ کھلتا ہے۔ تالہ قانون کا ہو یا آئین کا۔ بیوروکریٹک موشگافیاں ہوں یاقومی حکمتیں۔ ان کے سامنے سجدہ ریز ۔ ہمارا قانون اتنا طاقتور ! کہ سنا ہے پانچ سال قبل جب’’محترم‘‘ نے وزیر اعظم کے طیارے میں راہ فرار اختیار کی تھی تو اس وقت قومی سلامتی کے اجلاس میں ان کی لگائی گئی معاشی سرنگوں کی باز گشت تھی، کہ مستقبل میں پاکستان کس طرح ان اقدامات سے سخت معاشی بحران سے دوچار ہو سکتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر اورنج ٹرین اور میٹرو کا کرایہ 240 روپے تک بھی کر دیا جائے تو اتنے زیادہ شرح سود پر لیے گئے قرضوں کی ادائیگی ممکن نہیں۔ پھر کیا ہوا، موم کی ناک مڑی، آئین کی بوتل سے ایسا نشہ بکھرا کہ طاقتور اعصاب والوں پر بھی غنودگی چھا گئی اس بار پھر طیارہ وزیر اعظم کا تھا اور اس میں تھے سابق عدالتی مفرور جنہیں پانچ سال بعد حلف کی سہولت فراہم کی گئی۔ یہ عوام کی خوش بختی ہی تو ہے کہ ایسا گوہر نایاب ہمیں پھر میسر اور ایک بار پھر وہ اس ملک کی تقدیر بدلنے کا عزم لیکر معیشت کی خاردار وادی میں اتر چکے ہیں۔ ان’’نادانوں‘‘کو کیا خبر کہ اگر ترقی ’’معکوس‘‘چاہیے تو ہماری طرح اسمبلیوں سے احتساب کے قوانین بدلنا ہوں گے۔ کیوں کہ ترقی تو ترقی ہی ہوتی ہے۔ اگر ڈار اور ڈالر کا ساتھ ہو تو آپ اس ملک میں کچھ بھی کر گذرنے پر قادر ہیں۔
آپ ممبران کی اقلیت کو اکثریت میں بدل سکتے ہیں، آپ محفوظ طریقہ سے اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کر سکتے ہیں، آپ مجرم ہوتے ہوئے بھی قانون کی گرفت سے صرف آزاد ہی نہیں بلکہ اسی قانون کی گردن پر بٹھائے جا سکتے ہیں، اربوں کی کرپشن بھی آپ کو پاکستان کے جھنڈے والی گاڑی کے استعمال سے نہیں روک سکتی۔ آپ بلیو پاسپورٹ کے اہل ہو سکتے ہیں۔ 14قتل، ایک سو کو زخمی اور دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ کے باوجود آپ اقتدار میں لائے جا سکتے ہیں۔ قومی اداروں اور ملکی سلامتی کے خلاف زبان درازی کر سکتے ہیں۔ کھلی آنکھوں کو ڈالر کی چمک سے اندھا کر کے دن دیہاڑے قتل اور گواہوں کی یادداشت محو کرا سکتے ہیں۔ بھرے شہر میں اپنے عقوبت خانے چلا سکتے ہیں اور مخالفین کو کھلم کھلا مشق ستم بنا سکتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس ڈار اور ڈالر ہیں تو ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکلوانا چنداں مشکل نہیں۔ قانون آپ کو مہنگی گاڑیاں معمولی ٹیکس پر منگوانے کی سہولت فراہم کر سکتا ہے۔ فیصلہ سازوں کو خرید سکتے ہیں اور اپنے کیس کئی کئی دہائیوں تک معرض التوا میں ڈلوا سکتے ہیں۔بینکوں سمیت اداروں کے نادہندہ ہونے کے باوجود آپ قومی و صوبائی اسمبلیوں حتیٰ کہ سینیٹ کے انتخابات کے لیے اہل بلکہ ملک کے چیف ایگزیکٹو بھی بن سکتے ہیں۔ قومی شناختی کارڈ نہ ہونے کے باوجود آپ مسند اقتدار پر بٹھائے جا سکتے ہیں۔ غرضیکہ دو ’’ڈی‘‘ آپ کو ترقی کی معراج پر پہنچانے کا آزمودہ نسخہ ہیں….!
انقلاب اور تبدیلی کا خواب دیکھنے والوں کے لیے احمد فراز کا کلام…..مجھے خط ملا ہے غنیم کا، بڑی عُجلتوں میں، لکھا ہُوا
کہیں رنجشوں کی کہانیاں
کہیں دھمکیوں کا ہے سلسلہ
تمہیں کیا پڑی ہے کہ رات دن
کہو حاکموں کو بُرا بھلا
تمہیں فکرِ عمرِ عزیز ہے
تو نہ حاکموں کو خفا کرو
جو امیرِ شہر کہے تمہیں
وہی کالموں میں لکھا کرو
جو کہیں ہو ڈاکہ زنی اگر
تو نہ کوتوال کا نام لو
جو میرے مفاد کے حق میں ہیں
وہی عدلیہ میں رہا کریں
مجھے جو بھی دل سے قبول ہوں
سبھی فیصلے وہ ہُوا کریں
وہ جو سرکشی کے ہوں مرتکب
انہیں گردنوں سے مروڑ دو
وہ جو بے ضمیر ہیں شہر میں
اُنہیں زر کا سکہ اُچھال دو
جو میرا خطیب کہے تمہیں
وہی اصل ہے، اسے مان لو
جو میرا امام بیاں کرے
وہی دین ہے ، سبھی جان لو
جو غریب ہیں میرے شہر میں
انہیں بُھوک پیاس کی مار دو
کوئی اپنا حق جو طلب کرےتو
اسے زمیں میں اتار دو
جو میرے حبیب و رفیق ہیں
انہیں، خُوب مال و منال دو
جو، میرے خلاف ہیں بولتے
انہیں، نوکری سےنکال دو
جو ہیں بے خطاء وہی در بدر
یہ عجیب طرزِ نصاب ہے
جو گُناہ کریں وہی معتبر
یہ عجیب روزِ حساب ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button