ColumnImtiaz Ahmad Shad

مفلوک الحال کسان سراپا احتجاج .. امتیاز احمد شاد

امتیاز احمد شاد

 

جب سے دنیا معرض وجود میں آئی ہے، تسلسل کے ساتھ مختلف ارتقائی مراحل سے گزرتی ہوئی تاریخ مرتب کر رہی ہے۔ آج کی دنیا میں موجود بیشتر تخلیقات اسی ارتقائی عمل کا نتیجہ ہیں جس میں اب مسابقت کی دوڑ بھی شامل ہو چکی ہے اور یہی وجہ ہے کہ قوموں کے مابین مقابلے کے نتیجے میںآج کی دنیا ترقی یافتہ،ترقی پذیر اورترقی پسند اقوام میں تقسیم ہو چکی ہے۔ مسابقت اور مقابلے کی یہ فضاء بالآخر انسانی زندگی میں سہولتیںبھی متعارف کرارہی ہے تا ہم یہ فارمولا اور کلیہ دنیا کی دیگر اقوام پر تو صادق آتا ہے، ماشا اللہ خیر سے پاکستان پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ ریاست پاکستان کے وسائل پر مقتدر طبقات اور گنتی کے چند خاندانوں کا تصرف ہے، جو عام آدمی کا دخل شجرِممنوعہ ہے۔ پاکستان میںصنعت و حرفت کے کارخانوں سے لے کر ایوان اقتدار کی راہداریوں تک ہر میدان پاکستانی اشرافیہ کی ہوس زر کا اعلیٰ شاہکار ہے ۔زراعت جو ہر دور کے انسانوں کی نگاہ میں اہم رہی لیکن افسوس پاکستان میں اسے بے یارو مدد گار چھوڑ دیا گیا،بلکہ پاکستانی کاشتکار کے خون اور پسینے کی کمائی کوآج اشرافیہ اپنی شکم سیری کا ذریعہ بنا چکی ہے۔بھارتی پنجاب میں کامیاب زرعی اصلاحات،نت نئی زرعی تحقیقات،پانی اور بجلی کی کاشتکار کو قریباً مفت فراہمی اور چینی کے بڑے کارخانوں کی بجائے چند کاشتکاروں کو حکومتی سطح پر حاصل سبسڈی کے ذریعے چھوٹے چھوٹے یونٹس لگانے کی اجازت دینے جیسے حقائق کے بر عکس پاکستان میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے جہاں زرمبادلہ کا اہم ترین ذریعہ ہو نے کے باجود زراعت زبوں حالی کا شکار اور کسان مفلوک الحال ہے ۔کاشتکار کے استحصال نے ان دنوں ملک بھر میں کسانوں کو مظاہروں کیلئے سڑکوں پر لا رکھا ہے اور وہ دارالحکومت اسلام آباد میں دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔اس سب کے باوجود حکومت وقت ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔
پوری دنیا کو معلوم ہے کہ پاکستان کا ساٹھ فیصد زرعی رقبہ ، اس پر کھڑی فصلیں اور وہاں موجود زندگی دم توڑ چکی، شاید ایوان اقتدار میں براجمان ان حکمرانوں کو نہیں معلوم کہ جن کو ہم لاکھوں روپے کے بجلی بلز اور ڈی اے پی کی فی بوری پندرہ ہزار روپے فروخت کرنے جارہے ہیں ان کی بچیوں کے جہیز سے لے کر ان کے بزرگوں کی قبروں تک سب کچھ پانی میں بہہ گیا۔سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت بڑے عرصے سے زراعت اور زرعی زمینوں کو برباد کرنے کاجو عمل جاری تھا آج اس کے نتائج آنا شروع ہو چکے ہیں۔ایک وقت تھا جب پاکستان میں کیش کروپس کسان کی خوشحالی کا ذریعہ تھیں مگر افسوس آ ج یا تو ان زمینوں میں بڑی بڑی سوسائٹیز بن چکی یا پھر حکومتی ناقص منصوبہ بندی کی بھینٹ چڑ ھ چکی۔کپاس ہماری ‘کیش کروپس کی ملکہ گردانی جاتی تھی۔ کپاس چُننے والی ‘چونیاں، روزانہ کی بنیاد پر کپاس کی چُنائی کرتیں اور شام کو کپاس بیچ کر اپنے گھر کے چولہے جلاتی تھیں۔ یہ محنت کش خواتین سارا سال کپاس کے سیزن کا انتظار کرتی تھیں تاکہ ان کو روزی میسر ہوسکے۔ دوسری طرف زمیندار کپاس کو مارکیٹ میں بیچ کر اسی دن پیسے لے لیتا جس سے اس کا روزانہ کی بنیاد پر خرچ چلتااور معیشت کا پہیہ چلتا رہتا۔شاید پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا معاشی المیہ جنم لینے کو ہے۔ بدقسمتی سے امسال کپاس کی پیداوار میں قریباً 55 فیصد کمی آئی ہے۔ پچھلے سال پیداوار 80 لاکھ سے زائد بیلز تھی جو کم ہوکر 35 لاکھ بیلز رہ گئی ہے۔ اگر کوئی اور ملک ہوتا تو زرعی ایمرجنسی کا نفاذ ہوجاتا۔ پاکستان زرعی ملک ہے، جس کی معیشت یا تو زراعت پر منحصر یا پھر ٹیکسٹائل کی صنعت پر۔ جب صنعتکاروں کو اپنے ملک سے نسبتاً سستی روئی یا دھاگہ نہیں ملے گا تو وہ کیسے فیکٹریاں چلائیں گے؟بد قسمتی سے کند ذہن حکمرانوں نے کپاس اور گندم اگانے والے علاقوں میں شوگر ملز لگا دیں اور گنے کی فصل کو اہمیت دینا شروع کر دی۔تاریخ گواہ ہے کہ یورپ میں جب 18ویں اور 19ویں صدی میں زرعی و صنعتی انقلاب برپا ہوچکے تو 20ویں صدی میں کم لاگت سے زیادہ پیداوار کی طرف توجہ دی گئی۔ نئے بیج بنائے گئے اور کھادوں کا استعمال بھی بڑھا جس سے تمام فصلوں کی اوسط پیداوار دوگنا سے بھی زیادہ ہوگئی۔ ملکی ضروریات پوری کرنے کے بعد اجناس دوسرے ممالک بھیج کر زرِمبادلہ کمانا شروع کردیا گیا۔ اس موقعے پر ماہرینِ معاشیات نے ایک اہم نکتے کی طرف توجہ دلائی کہ یہ دیکھا جائے کہ کس ملک کی زمین کس فصل کیلئے زیادہ بار آور ہے اور اپنے ملک میں کس فصل کی کاشت سود مند رہے گی اور کون سی اجناس باہر سے منگوانا فائدے مند ہوں گی؟یہ معیشت کا سادہ سا اصول 20ویں صدی سے رائج ہے مگر ہم شاید کوئی نئے اصول معاشیات ڈھونڈنے چلے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے وہ علاقے جہاں ہر سو کپاس کے کھیت لہلہاتے تھے یا گندم کے بالیاں ہوا میں محوِ رقص ہوتی تھیں، اب وہاں کماد کی فصل پہرہ دیتی معلوم ہوتی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ہالینڈ میں پھولوں کے پودے اُجاڑ کر گیہوں کے کھیت بسا دیے جائیں، یہ ذہن میں رہے کہ ہالینڈ ہر سال پھولوں کی برآمد سے اربوں ڈالر کماتا ہے۔یہ وہ بنیادی نقطہ ہے جس پر صنعت کار، تاجر اور پراپرٹی مافیا حکمرانوں نے نہ تو پہلے توجہ دی اور نہ اب کوئی امکان ہے۔آج اگر کسان سڑکوں پر ہے تو وہ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ وہ ملک کی معیشت کی مضبوطی کیلئے ہیں۔ ہماری زراعت کو برباد کرنے میں جو مافیاز ملوث ہیں شاید وہ ریاست سے زیادہ طاقتور ہیں۔مگر یہ رونا کس سے رویا جائے موجودہ حکمران تو اپنے پرانے کرتوت صاف کرنے اور نئے منصوبوں کو پروان چڑھانے میں مصروف ہیں۔ اسحاق ڈار کی آمد سے لے کر مریم نواز کے باعزت بری ہونے تک کا کھیل یہ واضح پیغام دے رہا ہے کہ ریاست مافیاز کے سامنے کس قدر بے بس اور مفلوج ہے۔ مظاہرے اور دھرنے جمہوریت کا حسن ہوا کرتے ہیں۔جمہور اپنے حق کیلئے آواز اٹھاتی ہے اور عدل کا نظام اس کی امید بنتا ہے،طاقتور کو قانون کی گرفت میں لایا جاتا ہے اور مظلوم انصاف پاتا ہے۔مگر میرے دیس کی گنگا الٹی بہتی ہے۔ یہاں آواز بلند کرنے والے غدار اور چور ی کرنے والے کو سر کا تاج بنایا جاتا ہے۔اے میرے وطن کے بھولے اور سادہ لوح کسانوں جن دروازوں پر اپنا حق مانگنے گئے ہو یہ تمہارے تن پر جو پھٹے پرانے کپڑے ہیں وہ بھی نوچ لیں گے۔اگر چاہتے ہو کہ تمہارے ساتھ انصاف ہو تو پھر فیصلہ کروکہ ذات برادری سے بالا تر ہو کر اپنے بہتر مستقبل کیلئے ان نمائندوں کا انتخاب کرو گے جو حقیقت میں تمہارے حقوق کے پاسبان بنیں گے۔آزادی اور زمینـ کا نعرہ لگانے والے کسانوں کے ہیرو میکسیکو کے باشندے ایمیلیانوزاپاٹا نے کسانوں کو نصیحت کی تھی کہ اپنے حقوق کیلئے صنعت کاروں سے امید مت رکھنا بلکہ ایوانوں میں اپنے نمائندے بھیجو تاکہ کوئی تمہارے حقوق پر ڈاکہ نہ ڈال سکے۔پاکستان کے کسانوں کو ایمیلیانوزاپاٹا کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے مستقبل کا تعین کرنا ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button