ملکی ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام ہوں گی

اداریہ۔۔
ملکی ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام ہوں گی
پاکستان اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں داخلی استحکام، معاشی بحالی اور سیکیورٹی چیلنجز ایک ساتھ موجود ہیں۔ ایسے حالات میں ریاستی اداروں، عوام اور سیاسی قیادت کے درمیان ہم آہنگی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوچکی ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوئٹہ گیریژن میں گفتگو اسی تناظر میں ایک واضح پیغام دیتی ہے کہ پاکستان کی ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں چاہے وہ پراکسیز کے ذریعے ہوں یا منفی پراپیگنڈے کے ذریعے، انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ جدید دنیا میں جنگ کا تصور صرف روایتی میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہا۔ اب معلوماتی جنگ، سائبر حملے اور پراپیگنڈا بھی اتنے ہی موثر ہتھیار بن چکے ہیں جتنے کہ روایتی عسکری ذرائع۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی مسلح افواج کا کردار مزید اہم ہوگیا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں زیر تربیت افسران سے خطاب کرتے ہوئے جس بات پر زور دیا، وہ یہی ہے کہ مستقبل کی جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ علم، ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ مہارت سے جیتی جائیں گی۔ ملٹی ڈومین آپریشنز، ابھرتی ٹیکنالوجیز اور تینوں افواج کے درمیان ہم آہنگی آج کی دفاعی حکمت عملی کے بنیادی ستون ہیں۔ بلوچستان پاکستان کا وہ خطہ ہے جہاں امن و استحکام ہمیشہ ایک حساس موضوع رہا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں سیکیورٹی اداروں، صوبائی حکومت اور مقامی آبادی کے درمیان تعاون میں بہتری آئی ہے۔ فیلڈ مارشل کے دورہ کوئٹہ کے دوران بلوچستان میں تعینات افسران اور جوانوں کی کارکردگی کو سراہنا اس بات کی علامت ہے کہ زمینی سطح پر صورت حال بہتری کی طرف بڑھ رہی ہے۔ بلوچستان میں امن صرف عسکری کارروائیوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے سماجی و معاشی ترقی بھی لازمی ہے۔ جب تک عام شہری کو روزگار، تعلیم اور صحت کی سہولتیں میسر نہیں ہوں گی، پائیدار امن کا خواب مکمل نہیں ہوسکتا۔ آج کے دور میں سب سے بڑا چیلنج اداروں کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ اداروں کے بارے میں تاثر بھی ہے۔ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے معلومات کے پھیلائو کو تیز کر دیا ہے، لیکن ساتھ ہی غلط معلومات اور منفی پروپیگنڈے کے اندیشے بھی بڑھا دئیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فیلڈ مارشل کی جانب سے یہ بات بار بار دہرانا کہ پاکستان کی ترقی کو پراکسیز اور منفی پراپیگنڈے کے ذریعے روکا نہیں جاسکتا، ایک اہم پالیسی پیغام کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ ریاستی بیانیے کی مضبوطی اب صرف اداروں کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمے داری بن چکی ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی ریاست اور عوام ایک صفحے پر آئے ہیں، ملک نے ہر چیلنج کا مقابلہ کیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا قدرتی آفات، پاکستانی عوام نے ہمیشہ مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر قربانیاں دی ہیں۔ آج بھی یہی اتحاد ملک کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے جو عزم ظاہر کیا جارہا ہے، وہ اسی عوامی حمایت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتا ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ سیکیورٹی آپریشنز کے ساتھ ساتھ سیاسی استحکام اور بہتر حکمرانی بھی ناگزیر ہیں۔ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج جیسے ادارے پاکستان کی عسکری پیشہ ورانہ تربیت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ یہاں سے تربیت یافتہ افسر نہ صرف روایتی جنگی مہارتیں سیکھتے ہیں بلکہ انہیں جدید جنگی حکمت عملی، قیادت اور فیصلہ سازی کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ آج کی دنیا میں کسی بھی فوج کی اصل طاقت اس کی ٹیکنالوجی اپنانے کی صلاحیت اور مسلسل سیکھنے کا عمل ہے۔ بدلتے ہوئے جنگی تقاضے اس بات کے متقاضی ہیں کہ افواج ہر لمحہ خود کو اپ گریڈ رکھیں۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج صرف سیکیورٹی نہیں بلکہ معاشی استحکام بھی ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاستی ادارے، سیاسی قیادت اور عوام ایک مشترکہ قومی بیانیہ تشکیل دیں جس کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کی ترقی ہو۔ اختلافِ رائے جمہوری نظام کا حصہ ہے، لیکن قومی مفاد پر اتفاق ہر حال میں مقدم رہنا چاہیے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حالیہ بیانات اور دورہ کوئٹہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی، خودمختاری اور ترقی کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔ دشمن قوتیں چاہے کسی بھی شکل میں ہوں، وہ اس قومی اتحاد اور عزم کے سامنے کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ پاکستان کا مستقبل اس کے عوام، اس کی افواج اور اس کی ریاستی پالیسیوں کے باہمی ربط میں پوشیدہ ہے۔ اگر یہ تینوں ستون مضبوط رہیں تو نہ صرف امن قائم ہوگا بلکہ ترقی اور خوشحالی بھی پاکستان کا مقدر بنے گی۔
شذرہ۔۔
کرکٹ ٹیم کی مایوس کُن کارکردگی
پاکستانی ٹیسٹ کرکٹ ایک بار پھر مایوس کن کارکردگی کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں ہے۔ بنگلادیش کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں کلین سوئپ صرف ایک شکست نہیں بلکہ قومی ٹیم کی کمزور منصوبہ بندی، ناقص بیٹنگ اور غیر مستقل بولنگ کی واضح مثال ہے۔ سلہٹ ٹیسٹ میں پاکستان کو 78رنز سے شکست نے یہ ثابت کر دیا کہ صرف ناموں سے میچ نہیں جیتے جاتے بلکہ میدان میں ذمے داری، تحمل اور مستقل مزاجی بھی ضروری ہوتی ہے۔ پاکستانی ٹیم کے بیٹرز ایک بار پھر دبائو میں بکھرتے دکھائی دئیے۔ ابتدائی وکٹیں جلد گرنے کے بعد مڈل آرڈر نے مزاحمت ضرور کی لیکن وہ میچ کا رخ تبدیل نہ کرسکا۔ محمد رضوان کی ذمے دارانہ اننگز قابل تعریف تھی، مگر ایک کھلاڑی اکیلا پوری ٹیم کو کامیابی نہیں دلا سکتا۔ دوسری جانب بولرز بھی فیصلہ کن مواقع پر بنگلادیشی بیٹرز کو روکنے میں ناکام رہے۔ فیلڈنگ میں بھی وہ معیار نظر نہیں آیا جو کسی مضبوط ٹیسٹ ٹیم کی پہچان ہوتا ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ صبر، تکنیک اور ذہنی مضبوطی کا کھیل ہے۔ پاکستان کی حالیہ کارکردگی سے محسوس ہوتا ہے کہ کھلاڑی مختصر فارمیٹ کی عادت میں زیادہ گرفتار ہوچکے ہیں، جہاں جلدی رنز بنانے اور جارحانہ انداز کو ہی کامیابی سمجھ لیا جاتا ہے۔ ٹیسٹ میچ میں ہر سیشن اہم ہوتا ہے اور چھوٹی غلطیاں بھی شکست کا سبب بن جاتی ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹیم مینجمنٹ صرف بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ خامیوں پر سنجیدگی سے کام کرے۔ نوجوان کھلاڑیوں کو تکنیکی تربیت دی جائے، ڈومیسٹک کرکٹ کو مزید مضبوط بنایا جائے اور ہر کھلاڑی کو اپنی ذمے داری کا احساس دلایا جائے۔ شکست کو صرف تنقید سمجھنے کے بجائے سبق کے طور پر قبول کرنا ہوگا۔ پاکستانی ٹیم میں صلاحیت کی کمی نہیں، لیکن کامیابی کے لیے نظم و ضبط، بہتر حکمت عملی اور مستقل مزاجی ضروری ہے۔ اگر کھلاڑی اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں، دبا میں بہتر فیصلے کریں تو پاکستان دوبارہ ٹیسٹ کرکٹ میں مضبوط ٹیم بن سکتا ہے۔ شائقین کرکٹ کی توقعات ہمیشہ قومی ٹیم سے وابستہ رہتی ہیں، اس لیے کھلاڑیوں کو میدان میں صرف اپنی نہیں بلکہ پورے ملک کی نمائندگی کا احساس بھی ہونا چاہیے۔ بنگلادیش کے خلاف یہ شکست ایک وارننگ ہے کہ اگر تیاری، فٹنس اور ٹیم ورک پر توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں مزید مشکلات سامنے آسکتی ہیں۔





