ColumnRoshan Lal

اٹھارویں ترمیم پر نیا حملہ

اٹھارویں ترمیم پر نیا حملہ
روشن لعل
یہ بات اب صرف چہ مگوئیوں تک محدود نہیں رہی کہ مقتدر حلقے ، نئے بجٹ کی منظوری سے پہلے ، کسی بھی بہانے سے اٹھائیسویں ترمیم منظور کرانا چاہتے ہیں۔ مبینہ طور پر، مقتدرہ، اٹھائیسویں ترمیم کا ایسا مسودہ منظور کرانے کے درپے ہے جس کے ذریعے اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کا ان کے وسائل پر تسلیم کیا گیا پہلا حق منسوخ کر کے، ساتویں نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کو اس طرح تبدیل کر دیا جائے کہ قومی آمدن میں وفاق کا حصہ صوبوں کے مجموعی حصے کی نسبت زیادہ ہو جائے۔ کسی بھی دوسرے ملک میں اگر اٹھارویں ترمیم جیسی کسی آئینی شق کو تبدیل یا ختم کرنے کا منصوبہ منظر عام پر آیا ہوتا تو وہاں کا میڈیا اس موضوع کو اپنے مباحث کا محور بنانے کے علاوہ کسی اور معاملہ کو ترجیح نہ دیتا، لیکن ہمارے میڈیا پر ایسے وقت میں بھی اس انمول پنکی پر نشریات طویل وقت صرف کیا جارہا ہے جو بین الصوبائی ڈرگ ڈیلر کے طور پر گرفتار ہوئی۔ میڈیا پر انمول پنکی کو منشیات بنانے اور بیچنے والے بہت بڑے گروہ کی سرغنہ ظاہر کرنے کے بعد نہ اس کے کسی ساتھی اور نہ ہی سہولت کار کے متعلق کوئی بات کی جارہی ۔ یہ سب کچھ مد نظر رکھتے ہوئے کچھ لوگوں نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ جس خاتون کو ملک میں نیا ریکارڈ قائم کرنے والی ڈرگ ڈیلر بنا کر پیش کیا جارہا ہے، اس کی ضمانت ہونا اسی طرح عین ممکن ہے جس طرح کچھ عرصہ قبل منشیات بیچنے کے الزام میں گرفتار کیے گئے اداکار ساجد حسن کے بیٹے ساحر حسن کو ضمانت مل گئی تھی۔ جن لوگو ں کو انمول پنکی کی ضمانت پر رہائی عین ممکن نظر آرہی ہے ان کا خیال ہے کہ ہر قسم کے میڈیا کو اس خاتون کی گرفتاری پر باتیں کرتے رہنے کا موقع فراہم کرکے مجوزہ اٹھائیسویں ترمیم میں کا معاملہ کیمو فلاج کر دیا گیا ہے۔
ہمارے میڈیا پر تو اس وقت اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی سے عبارت، اٹھائیسویں ترمیم کے مسودے پر نہ ہونے کے برابر بات ہو رہی لیکن ایسے ماحول میں بھی ان بیانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اٹھارویں ترمیم کے تحفظ اور اس کو ختم کیے جانے کی کوششوں کے خلاف دیتے رہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے ماضی میں اپنے بیانات کے ذریعے اکثر یہ ظاہر کیا کہ اٹھارویں ترمیم کو جوں کا تو آئین کا حصہ بنائے رکھنے کے لیے وہ کس قدر حساس ہیں۔ اٹھارویں ترمیم کے لیے بلاول بھٹو زرداری کی حساسیت کا اندازہ ان کی ستائیسویں ترمیم کی منظوری کے دوران کی گئی اس تقریر سے لگایا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کسی کا باپ بھی اسے ختم نہیں کر سکتا ۔ عمران خان کی حکمرانی کے دوران جب ملک میں دوبارہ صدارتی نظام نافذ کرنے کے بیانات دیئے جارہے تھے ، ان دنوں بھی بلاول نے یہ کہا تھا کہ ہم 18ویں ترمیم پر آنچ نہیں آنے دیں گے، ’’ کچھ قوتیں ہم سے ہمارے ادارے چھیننا چاہتی ہیں‘‘، ’’ ہم 1973ء کے آئین اور 18ترمیم کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے‘‘۔ اسی دور میں جب آصف علی زرداری کو گرفتار کرنے کی تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں تو انہوں نے بھی بلاول کی طرح کچھ یوں کہا تھا، ’’ مجھ پر اٹھارویں ترمیم ختم کرنے کے لیے دبائو ڈالا جارہا ، میں گرفتاری سے نہیں ڈرتا اور کسی بھی وقت جیل جانے کے لیے تیار ہوں‘‘۔
پہلے چھبیسویں ترمیم اور اس کے بعد ستائیسویں ترمیم کی منظوری سے قبل بھی یہ باتیں سننے میں آئی تھیں کہ اٹھارویں ترمیم کی ہیت تبدیل کی جارہی ہے۔ سابقہ دو آئینی ترامیم کے دوران تو اٹھارویں ترمیم جوں کی توں رہی لیکن اب یہ سننے میں آرہا ہے کہ اٹھائیسویں ترمیم کے تحت اس ترمیم کو تہہ تیغ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ نومبر 2025 ء میں ستائیسویں ترمیم کی منظوری سے قبل جب مقتدر حلقے اس کا مسودہ اپنی منشا کے مطابق منظور کرانا چاہتے تھے اس وقت بلاول نے کہا تھا کہ جو لوگ اٹھارویں ترمیم منسوخ کرنے اور نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کا فارمولا تبدیل کرنے کی کوششیں کر رہے ان کا عمل ، آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ ان دنوں بلاول نے ایک سے زیادہ مرتبہ یہ باور کرایا تھا کہ جو اٹھارویں ترمیم صوبوں کے لیے ان کے وسائل پر اختیار کی ضامن ہے ، اسے اگر ختم کیا گیا تو عوام کے لیے یہ عمل جمہوریت کا بستر لپیٹنے کے مترادف ہوگا اور ایسا ہونے میں ملک کی وحدت کو نقصان پہنچنے کا احتمال بھی ہے۔ بلاول نے اٹھارویں ترمیم کی اہمیت بیان کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کو منسوخ کرنے کا منصوبہ اس لیے ختم کر دینا چاہیے کیونکہ اس ترمیم کی منظوری وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنے کے بعد ممکن ہوئی تھی، اگر یہ ترمیم کسی سازش کے تحت ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ عمل اس اتفاق رائے کی توہین ہو گا جسے تمام پارلیمانی پارٹیوں کے ساتھ پارلیمنٹ سے باہر موجود دانشور حلقوں کی مشاورت سے ممکن بنایا گیا تھا۔ بلاول نے اٹھارویں ترمیم کے دفاع میں یہ بھی کہا تھا کہ اس ترمیم سے قبل جو ترامیم کی گئیں ان کی وجہ سے آئین کی بنیادی روح مجروح ہو گئی تھی لیکن یہ ترمیم منظور ہونے کے بعد 1973ء کا آئین بڑی حد تک اپنی اصل روح کے مطابق بحال ہوا۔
اٹھارویں ترمیم کی منظوری اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ کی منظوری ممکن بنانے کے لیے پیپلز پارٹی کے بعد جس سیاسی جماعت کے اراکین پارلیمنٹ نے سب سے زیادہ کردار ادا کیا وہ مسلم لیگ ن تھی۔ پیپلز پارٹی تو بعد ازاں بھی اٹھارویں ترمیم کے دفاع میں کوئی بھی خطرہ مول لینے کے لیے تیار نظر آئی لیکن مسلم لیگ ن نے اس ترمیم کے ذریعے میاں نوازشریف کے تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے کی راہ ہموار ہونے کے بعد یہ رویہ اختیار کر لیا کہ اس ترمیم کے آئین کا حصہ بنے رہنے سے اس کو کوئی سروکار نہیں ہے۔ صرف مسلم لیگ ن ہی نہیں بلکہ وہ تمام سیاسی جماعتیں جن کے اراکین پارلیمنٹ نے اپنے ووٹوں کے ذریعے اٹھارویں منظور کی تھی ان کے رویوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس ترمیم کے آئین میں موجود رہنے یا نہ رہنے سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
گو کہ بلاول بھٹو، آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے دیگر لوگ ماضی میں اٹھارویں ترمیم کے دفاع میں ہمیشہ کمر بستہ نظر آئے لیکن آج جب مجوزہ اٹھائیسویں ترمیم کو اس طرح پیش کیا جارہا ہے جیسے اس مرتبہ اٹھارویں ترمیم کو منسوخ ہونے سے کوئی روک نہیں سکے گا، ابھی تک بلاول کا ماضی جیسا رویہ اور کوئی جارحانہ بیان سامنے نہیں آسکا۔ اٹھائیسویں ترمیم کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے متعلق ابھی تک جو خبر سامنے آئی وہ صرف یہ ہے کہ پارٹی کے اہم رہنمائوں نے بلاول سے اسلام آباد میں ایک ملاقات کی، جس میں قومی اسمبلی کے اس مجوزہ اجلاس میں کردار ادا کرنے سے متعلق لائحہ عمل تیار کرنے پر بات چیت ہوئی، جس اجلاس میں ممکنہ طور پر آئین میں ایک نئی ترمیم کا بل پیش کیا جائے گا۔ اس مرتبہ اٹھارویں ترمیم پر ایک نئے حملے کی کامیابی ممکن قرار دیئے جانے کے بعد بلاول کی طرف جارحانہ بیان نہ آنے پر جمہوریت پسندوں کی طرف سے حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے۔

جواب دیں

Back to top button