Column

مہنگائی، ٹیکسز اور سیاسی دبائو کے درمیان جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک کس رخ پر جائے گی

مہنگائی، ٹیکسز اور سیاسی دبائو کے درمیان جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک کس رخ پر جائے گی؟
غلام مصطفیٰ جمالی
پاکستان اس وقت شدید معاشی بحران کے دور سے گزر رہا ہے، جہاں عام آدمی کی زندگی دن بہ دن مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ مہنگائی نے ہر طبقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ پٹرول، بجلی، گیس، آٹا، چینی، دالیں، سبزیاں اور ادویات سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب مہنگائی صرف غریب طبقے کا مسئلہ سمجھی جاتی تھی ، مگر اب متوسط طبقہ بھی شدید پریشانی کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں سیاسی اور مذہبی جماعتیں حکومت کے خلاف میدان میں آ رہی ہیں۔ جماعت اسلامی کی جانب سے اسلام آباد میں مہنگائی کے خلاف بڑے احتجاج کا اعلان موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ اگر حکومت نے عوام کو ریلیف نہ دیا تو احتجاج، ہڑتال اور پہیہ جام جیسے اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی کے مطابق پٹرول کی قیمت 271روپے فی لٹر بنتی ہے، مگر حکومت ٹیکسز اور لیویز لگا کر عوام کو 400روپے فی لٹر کے قریب پٹرول فراہم کر رہی ہے۔ یہ بیان نہ صرف حکومت کے معاشی فیصلوں پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ عوامی غصے کی بھی ترجمانی کرتا ہے۔
پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مہنگائی حد سے بڑھتی ہے تو عوامی ردعمل شدت اختیار کر لیتا ہے۔ موجودہ حالات میں بھی لوگوں کے اندر شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ سرکاری ملازمین، مزدور، کسان، رکشہ ڈرائیور، چھوٹے دکاندار اور نجی اداروں میں کام کرنے والے افراد سب ہی معاشی دبائو کا شکار ہیں۔ تنخواہیں وہی ہیں مگر اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ ایک عام آدمی کے لیے گھر کا کرایہ، بچوں کی تعلیم، بجلی کے بل اور روزمرہ ضروریات پوری کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
پاکستان میں مہنگائی کی ایک بڑی وجہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ بھی ہے۔ جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو اس کے اثرات پورے معاشی نظام پر پڑتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے، اشیائے خور و نوش کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور صنعتوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً ہر چیز کی قیمت بڑھنے لگتی ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مالیاتی خسارے کی وجہ سے یہ اقدامات ناگزیر ہیں، مگر اپوزیشن اور عوام کی ایک بڑی تعداد اس دلیل سے مطمئن نظر نہیں آتی۔
حافظ نعیم الرحمان نے بجلی اور گیس کے بڑھتے ہوئے بلوں پر بھی شدید تنقید کی ہے۔ ان کے مطابق بجلی پر فکس چارجز اور اضافی ٹیکسز نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ تین سال میں بجلی کے ٹیکسز کی مد میں 19کھرب روپے وصول کیے گئے۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو عوام کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ اتنی بڑی رقم وصول کرنے کے باوجود بجلی سستی کیوں نہ ہو سکی؟ لوڈشیڈنگ کیوں ختم نہ ہوئی؟ اور توانائی کے بحران پر قابو کیوں نہ پایا جا سکا؟۔
پاکستان میں توانائی کا شعبہ عرصہ دراز سے تنازعات کا شکار رہا ہے۔ خاص طور پر آئی پی پیز یعنی آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے معاہدے ہمیشہ تنقید کی زد میں رہے ہیں۔ مختلف حکومتوں نے ان معاہدوں پر نظرثانی کے دعوے کیے مگر عوام کو کوئی واضح ریلیف نہ مل سکا۔ جماعت اسلامی کا موقف ہے کہ حکومت صرف چند آئی پی پیز سے معاہدے تبدیل کر کے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ اصل مسئلہ پورے نظام میں موجود ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت کئی بنیادی مسائل میں جکڑی ہوئی ہے۔ ملک کا بڑا انحصار درآمدی ایندھن پر ہے۔ جب عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو پاکستان بھی متاثر ہوتا ہے۔ مگر اقتصادی ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ صرف عالمی حالات کو ذمہ دار قرار دینا درست نہیں۔ اندرونی بدانتظامی، کرپشن، ناقص پالیسیاں اور سیاسی عدم استحکام بھی موجودہ بحران کو سنگین بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط بھی پاکستانی معیشت پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ حکومت جب قرض لیتی ہے تو اس کے بدلے میں ٹیکس بڑھانے، سبسڈیز کم کرنے اور بجلی، گیس و پٹرول کی قیمتوں میں اضافے جیسے اقدامات کرنا پڑتے ہیں۔ نتیجتاً عوام مزید معاشی دبا میں چلے جاتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے ضروری ہیں، جبکہ اپوزیشن انہیں عوام دشمن پالیسیاں قرار دیتی ہے۔
جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک کو موجودہ سیاسی حالات میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ ملک پہلے ہی سیاسی کشیدگی کا شکار ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں حکومت پر مسلسل تنقید کر رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر جماعت اسلامی بڑی تعداد میں عوام کو متحرک کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔
اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان دراصل عوامی بے چینی کی علامت بھی ہے۔ اب مہنگائی صرف سیاسی بحث کا موضوع نہیں رہی بلکہ ہر گھر کا مسئلہ بن چکی ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگ مسلسل اپنے غصے اور پریشانی کا اظہار کر رہے ہیں۔ کئی خاندان ایسے ہیں جن کے لیے بچوں کی تعلیم، علاج اور روزمرہ اخراجات پورے کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔
پاکستان میں نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی معاشی بحران سے شدید متاثر ہے۔ بے روزگاری میں اضافہ نوجوان نسل کو مایوسی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ جب تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار نہیں ملتا تو ان کے اندر غصہ اور بے یقینی بڑھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احتجاجی تحریکیں نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہوتی جا رہی ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے اپنی تقریر میں بھارت اور بنگلادیش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں قیمتیں اس قدر نہیں بڑھیں۔ یہ تقابلی بیان عوامی سطح پر حکومت کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے کیونکہ اب پاکستانی عوام دوسرے ممالک کی معاشی صورتحال سے بھی خود کو موازنہ کرنے لگے ہیں۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ اگر دیگر ممالک اپنے عوام کو ریلیف دے سکتے ہیں تو پاکستان میں ایسا کیوں ممکن نہیں؟۔
حکومت کے حامیوں کا موقف ہے کہ موجودہ حکومت کو کمزور معیشت ورثے میں ملی تھی۔ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ، ڈالر کی بڑھتی قیمت اور قرضوں کی ادائیگیاں حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔ مگر عوام کے لیے یہ دلائل اب زیادہ اہمیت نہیں رکھتے کیونکہ انہیں اپنی زندگی میں صرف بڑھتے ہوئے اخراجات محسوس ہو رہے ہیں۔
جماعت اسلامی ماضی میں بھی مہنگائی اور بجلی کے بلوں کے خلاف احتجاج کرتی رہی ہے۔ پارٹی ہمیشہ خود کو ایک ایسی قوت کے طور پر پیش کرتی ہے جو کرپشن، سودی نظام اور اشرافیہ کی سیاست کے خلاف کھڑی ہے۔ موجودہ احتجاج کے ذریعے بھی جماعت اسلامی شاید اپنی سیاسی حیثیت مزید مضبوط کرنا چاہتی ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اگر جماعت اسلامی کا احتجاج کامیاب ہو جاتا ہے تو دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی نئی توانائی ملے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں عوامی دبا ہمیشہ اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ جب عوامی غصہ بڑھتا ہے تو حکومتوں کو اپنی پالیسیاں تبدیل کرنا پڑتی ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ احتجاج اور ہڑتالیں کبھی کبھی معیشت کو مزید نقصان پہنچا دیتی ہیں، جس کا اثر بالآخر عام آدمی پر ہی پڑتا ہے۔
پہیہ جام اور ہڑتال جیسے اعلانات کاروباری طبقے کے لیے بھی تشویش کا باعث ہیں۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی سست روی کا شکار ہے۔ اگر تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں تو روزگار کے مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔ اسی لیے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت اور احتجاج کرنے والی جماعتوں کو مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔
ملک کی سیاسی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام اب صرف بیانات نہیں چاہتے بلکہ عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں۔ لوگ چاہتے ہیں کہ بجلی کے بل کم ہوں، پیٹرول سستا ہو اور اشیائے ضروریہ عام آدمی کی پہنچ میں آئیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو عوامی بے چینی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
سوشل میڈیا کے اس دور میں عوامی ردعمل پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہو چکا ہے۔ اب حکومت کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ عوامی جذبات کو نظر انداز کر سکے۔ ہر فیصلہ فوری طور پر عوامی بحث کا حصہ بن جاتا ہے۔ جماعت اسلامی بھی اپنی احتجاجی مہم کو سوشل میڈیا کے ذریعے بھرپور انداز میں اجاگر کر رہی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ مہنگائی صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی مسئلہ بھی بن چکی ہے۔ جب غربت بڑھتی ہے تو جرائم، ذہنی دبا، خاندانی تنازعات اور سماجی بے چینی میں بھی اضافہ ہونے لگتا ہے۔ اگر موجودہ معاشی بحران مزید طویل ہوا تو اس کے اثرات مزید خطرناک ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کی موجودہ صورتحال حکومت، اپوزیشن، کاروباری طبقے اور ریاستی اداروں سب سے سنجیدگی کا تقاضا کرتی ہے۔ اگر تمام سیاسی قوتیں صرف ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتی رہیں تو مسائل مزید پیچیدہ ہوتے جائیں گے۔
جماعت اسلامی کا احتجاج آنے والے دنوں میں ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس احتجاج کو کس انداز میں لیتی ہے۔ اگر حکومت سختی کا راستہ اختیار کرتی ہے تو سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہو سکتا ہے، جبکہ مذاکرات اور عوامی ریلیف کی پالیسیاں حالات کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔
عوام کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ کیا ان کی زندگی آسان ہوگی یا مزید مشکل؟ اگر حکمران طبقہ عوامی مشکلات کو سنجیدگی سے نہ لی سکا تو آنے والے دنوں میں احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ جب عوام معاشی دبا سے تنگ آ جاتے ہیں تو سیاسی منظرنامہ تیزی سے بدلنے لگتا ہے۔
مہنگائی، ٹیکسز اور معاشی بحران کے اس دور میں پاکستان کو ذمہ دار قیادت، شفاف پالیسیوں اور عوام دوست فیصلوں کی اشد ضرورت ہے۔ اگر حکومت اور سیاسی جماعتیں قومی مفاد میں سنجیدہ اقدامات نہ کر سکیں تو بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک آنے والے دنوں میں ملکی سیاست کا اہم رخ متعین کر سکتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پوری قوم کی نظریں اب اسلام آباد کی جانب لگی ہوئی ہیں۔

جواب دیں

Back to top button