Column

پاکستان کی عالمی امن کیلئے جستجو

پاکستان کی عالمی امن کیلئے جستجو
مشرقِ وسطیٰ کے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات اور عالمی سیاست کے پیچیدہ منظرنامے میں پاکستان ایک بار پھر ایک اہم سفارتی کردار ادا کرنے کے لیے میدان میں ہے۔ حالیہ سفارتی حلقوں میں یہ بازگشت سنائی دے رہی ہے کہ پاکستان تہران اور واشنگٹن کے درمیان برسوں سے جاری کشیدگی کو کم کرنے اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ثالث کے طور پر اپنی خدمات پیش کر رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی سیاسی بصیرت اور عسکری قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اسٹرٹیجک حکمت عملی کی تحت پاکستان کی یہ کوششیں محض ایک سفارتی مشق نہیں بلکہ خطے کو ایک ہولناک جنگ کے سائے سے نکالنے کی ایک مخلصانہ تگ و دو معلوم ہوتی ہے۔ پاکستان کا محلِ وقوع اور تاریخ اسے ایک ایسی منفرد پوزیشن عطا کرتی ہے جہاں اس کے تعلقات ایک طرف امریکا جیسی عالمی طاقت کے ساتھ گہرے ہیں، تو دوسری جانب برادر اسلامی ملک ایران کے ساتھ اس کے دیرینہ مذہبی، ثقافتی اور جغرافیائی رشتے استوار ہیں۔ موجودہ حالات میں جب مشرقِ وسطیٰ میں تنازعات کی آگ بھڑک رہی ہے اور عالمی معیشت توانائی کے بحران کا شکار ہے، پاکستان کا بطور ثالث سامنے آنا دُنیا کے لیے اُمید کی کرن ہے۔ اس ضمن میں اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات بھی ہوچکے ہیں، تاہم وہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکے تھے۔ دو ہفتے کی جنگ بندی میں بھی پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی حالیہ گفتگو اور بین الاقوامی دوروں کے دوران بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ تنازعات کا حل گولی میں نہیں بلکہ مکالمے میں پنہاں ہے۔ ان کی حکومت کی خارجہ پالیسی کا محور اقتصادی سفارت کاری ہے اور اقتصادی ترقی کے لیے امن پہلی شرط ہے۔ دوسری جانب، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دفاعی اور سفارتی محاذ پر جس ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا ہے، اس نے پاکستان کے عالمی وقار میں اضافہ کیا ہے۔ عسکری قیادت کا یہ پختہ یقین ہے کہ خطے میں عدم استحکام براہِ راست پاکستان کی سلامتی پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اسی لیے، پاک فوج اور حکومت مل کر یہ پیغام دے رہے ہیں کہ پاکستان اب کسی کیمپ کا حصہ بننے کے بجائے پل (Bridge)بننے کو ترجیح دیتا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے، لیکن حالیہ برسوں میں جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور علاقائی اثر و رسوخ کی جنگ نے اس خلیج کو مزید وسیع کر دیا ہے۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ مسلسل دشمنی کسی کے مفاد میں نہیں۔ امریکا کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور طویل جنگ کی مالی اور جانی قیمت برداشت کرنا اب ممکن نہیں رہا جب کہ ایران کے لیے سخت معاشی پابندیاں اس کی معیشت اور عوامی فلاح کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ایسے میں دونوں جانب سے نرمی دکھانے کے مطالبات نہایت حقیقت پسندانہ ہیں۔ مذاکرات کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق اپنی انا اور سخت شرائط کو بالائے طاق رکھ کر ایک درمیانی راستہ نکالیں۔ اگر امریکا پابندیوں میں نرمی کا اشارہ دے اور ایران اپنے جوہری تحفظات پر شفافیت کا یقین دلائے، تو یہ خطی کے لیے ایک نیا آغاز ثابت ہوسکتا ہے۔ ثالثی کا یہ راستہ کانٹوں کی سیج ہے، لیکن پاکستان کے پاس ٹریک ٹو ڈپلومیسی کا وسیع تجربہ ہے۔ اس کے لیے سیاسی و عسکری قیادت نے نہایت ذمے داری کا مظاہرہ بھی کیا ہے۔ پاکستان کا یہ اقدام اس لیے بھی اہم ہے کہ اگر تہران اور واشنگٹن کے درمیان معاملات بہتر ہوتے ہیں، تو اس کا براہِ راست فائدہ پاک، ایران گیس پائپ لائن جیسے منصوبوں کو ہوگا، جو توانائی کے بحران سے نبرد آزما پاکستان کے لیے زندگی کی لکیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں امن کا قیام محض دو ملکوں کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ عالمی سلامتی کا ضامن ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم ہونے سے خلیج فارس میں جہاز رانی محفوظ ہوگی، تیل کی قیمتوں میں استحکام آئے گا اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں تیزی آئے گی۔ پاکستان کی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ اگر یہ کوششیں رنگ لاتی ہیں تو پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوگا جو عالمی تنازعات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے راستے بھی کھلیں گے ۔ وقت آگیا ہے کہ دنیا طاقت کے توازن کے بجائے امن کے توازن پر توجہ دے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے جس جرات مندانہ سفارتی مشن کا آغاز کیا، وہ لائقِ تحسین ہے۔ ایران اور امریکا کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی ان مخلصانہ کوششوں کا خیرمقدم کریں۔ دونوں ممالک کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگیں مسائل حل نہیں کرتیں بلکہ نئے مسائل کو جنم دیتی ہیں۔ اب بال تہران اور واشنگٹن کے کورٹ میں ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ نرمی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آئیں اور ایک ایسی دنیا کی بنیاد رکھیں جہاں دشمنی کی جگہ تعاون اور جنگ کی جگہ امن ہو۔ پاکستان اس سفر میں ایک سچے دوست اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ اگر یہ برف پگھل جاتی ہے، تو یہ نہ صرف پاکستان کی سفارتی فتح ہوگی بلکہ پوری انسانیت کے لیے سکون کا سانس ہوگا۔
معاشی خوشحالی کا راستہ
پاکستان کے معاشی منظرنامے پر حالیہ برسوں میں چھائے ہوئے بے یقینی کے بادل چھٹتے ہوئے محسوس ہورہے ہیں۔ واشنگٹن میں عالمی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک کے موسمِ بہار کے اجلاسوں کے موقع پر گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی عالمی مالیاتی اداروں کے سربراہان اور سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں پاکستان کے معاشی مستقبل کے حوالے سے ایک مثبت اور پراعتماد پیغام پیش کرتی ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک کی گفتگو کا لبِ لباب یہ ہے کہ پاکستان اب محض بقا کی جنگ نہیں لڑ رہا بلکہ استحکام سے ترقی کی جانب گامزن ہونے کے لیے تیار ہے۔ سب سے خوش آئند بات معیشت کی ’’ جھٹکے سہنے کی صلاحیت‘‘ (Resilience)میں اضافہ ہے۔ ماضی میں پاکستان عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے یا علاقائی تنازعات کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوتا رہا ہے، لیکن اس بار صورت حال مختلف ہے۔ روس یوکرین جنگ کے وقت کی نازک صورت حال کے برعکس، آج پاکستان کے پاس 16.4ارب ڈالر کے مستحکم زرمبادلہ کے ذخائر موجود ہیں، جن کے جون 2026ء تک 18ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ ذخائر بہتر حکمت عملی کی مرہونِ منت ہیں، جو معاشی خود مختاری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ مہنگائی کی شرح میں کمی، جو اوسطاً 5.7فیصد تک آچکی ہے، عام آدمی کے لیے ایک بڑی نوید ہے۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ محتاط مانیٹری پالیسی اور مالیاتی ڈسپلن کا ثمر ہے۔ جی ڈی پی میں 3.8فیصد کا اضافہ اس بات کی دلیل ہے کہ معاشی پہیہ دوبارہ گھومنے لگا ہے۔ خاص طور پر روشن ڈیجیٹل اکائونٹ (RDA)کے ذریعے 12.4ارب ڈالر کی آمد سمندر پار پاکستانیوں کے اپنی دھرتی پر اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تاہم، مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازعات اور عالمی سطح پر فریٹ و انشورنس کے بڑھتے ہوئے اخراجات ایک نیا چیلنج ضرور ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک کا یہ کہنا درست ہے کہ پاکستان ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پہلے سے بہتر پوزیشن میں ہے، لیکن اس کے لیے پالیسیوں کے تسلسل کو برقرار رکھنا لازمی ہوگا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے اور عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے مثبت توثیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ دنیا اب پاکستان کی اصلاحات کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ حکومت اور اسٹیٹ بینک کو چاہیے کہ وہ اس عارضی استحکام کو مستقل پائیدار ترقی میں بدلنے کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کا عمل جاری رکھیں۔ برآمدات میں اضافہ اور غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر ہم مستقبل کے کسی بھی عالمی بحران کے اثرات سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ آج کا پاکستان 2022ء کے پاکستان سے کہیں زیادہ مضبوط اور پراعتماد ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں معاشی خوشحالی کی منزل تک لے جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button