’’ ٹیکو ٹریڈ‘‘ کی حقیقت

’’ ٹیکو ٹریڈ‘‘ کی حقیقت
قادر خان یوسف زئی
عالمی سیاست اور معیشت کے پیچیدہ، بے رحم اور ہمہ وقت بدلتے ہوئے کھیل میں بعض اوقات ایسی حیرت انگیز اصطلاحات جنم لیتی ہیں جو نہ صرف طاقتور ترین ایوانوں کی نفسیات کو بے نقاب کرتی ہیں بلکہ اربوں ڈالر کے عالمی سرمائے کا رخ بھی متعین کر دیتی ہیں۔ آج کل عالمی مالیاتی منڈیوں میں ایک ایسی ہی دلچسپ مگر انتہائی سنجیدہ اصطلاح ’’ ٹیکو ٹریڈ‘‘ (TACO Trade)گونج رہی ہے، جس کا مطلب ہے ’’ ٹرمپ ہمیشہ ڈر کر پیچھے ہٹ جاتا ہے‘‘ (Trump Always Chickens Out)۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد عالمی منڈیوں نے یہ بھانپ لیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے دی جانے والی سخت ترین معاشی دھمکیاں محض گفت و شنید کا ایک جارحانہ ہتھکنڈا ہوتی ہیں، جن کے پیچھے کوئی ٹھوس اور دیرپا عزم نہیں ہوتا۔ جب ان دھمکیوں کے نتیجے میں عالمی منڈیاں کریش ہونے لگتی ہیں اور امریکی معیشت کو جھٹکے لگتے ہیں، تو ٹرمپ انتظامیہ دبائو برداشت نہ کرتے ہوئے فوری طور پر اپنے اعلانات واپس لے لیتی ہے۔ یہ اصطلاح ابتدا میں محض ایک طنز سمجھی گئی، لیکن بہت جلد یہ 2025 اور 2026کے دوران عالمی سرمایہ کاروں اور الگورتھمک ٹریڈنگ ڈیسک کے لیے منافع کمانی کی سب سے کامیاب اور مستند حکمت عملی بن گئی۔ سرمایہ کار اب ڈرنے کے بجائے صدر ٹرمپ کی دھمکیوں پر گرتی ہوئی مارکیٹ میں سستے شیئرز خریدتے ہیں اور چند ہی روز بعد جب انتظامیہ اپنے فیصلے سے پسپائی اختیار کرتی ہے، تو وہ ان شیئرز کو بھاری منافع پر فروخت کر دیتے ہیں۔
اس حکمت عملی کا پہلا اور سب سے بڑا عملی مظاہرہ اپریل دو ہزار پچیس میں اس وقت دیکھنے میں آیا جب امریکی انتظامیہ نے ’’ یومِ آزادی‘‘ کے نام سے ایک انتہائی جارحانہ تجارتی پالیسی کا اعلان کیا۔ صدر ٹرمپ نے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کا سہارا لیتے ہوئے دنیا بھر کے ممالک پر بھاری ٹیرف عائد کر دئیے اور چین کے خلاف تجارتی جنگ کو ایک نئی اور خطرناک سطح پر لے گئے۔ اس اچانک اور سخت گیر فیصلے نے عالمی مالیاتی نظام کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ وال اسٹریٹ میں کہرام مچ گیا اور ایس اینڈ پی 500انڈیکس تیزی سے گراوٹ کا شکار ہوا، جبکہ دنیا بھر میں یہ تاثر پھیل گیا کہ امریکہ ایک سنگین عالمی تجارتی جنگ چھیڑنے جا رہا ہے۔ تاہم، جیسا کہ ’’ ٹیکو‘‘ نظریے کی بنیاد ہے، امریکی انتظامیہ مارکیٹ کے اس شدید ردعمل اور کھربوں ڈالر کے کاغذی سرمائے کے ڈوبنے کا دبائو بمشکل چند دن ہی برداشت کر سکی۔ محض سات دن بعد ہی صدر ٹرمپ نے ان بھاری ٹیرف کے نفاذ کو نوے دن کے لیے موخر کر دیا اور ایک بڑی پسپائی اختیار کی۔ جیسے ہی یہ اعلان سامنے آیا، عالمی منڈیوں میں ایک تاریخی تیزی دیکھنے میں آئی اور وہ سرمایہ کار جنہوں نے خوف کے بجائے ٹرمپ کی نفسیات پر شرط لگائی تھی، راتوں رات ارب پتی بن گئے۔ اس واقعے نے دنیا کو یہ واضح پیغام دے دیا کہ امریکی پالیسیوں میں استقامت کم اور وقتی دبائو کا عنصر زیادہ ہے، جس نے امریکی ساکھ کو عالمی سطح پر ایک ناقابلِ اعتبار تجارتی شراکت دار کے طور پر پیش کیا۔
یہ معاشی قلابازیاں صرف بین الاقوامی محاذ تک محدود نہیں رہیں، بلکہ امریکی داخلی پالیسیوں میں بھی اس کا گہرا اثر نظر آیا۔ جولائی دو ہزار پچیس میں منظور ہونے والا ’’ ون بگ بیوٹی فل بل ایکٹ‘‘ اس کی واضح مثال ہے، جس نے بظاہر تو ملکی صنعتوں کو فروغ دینے اور ٹیکسوں میں چھوٹ دینے کا نعرہ لگایا، لیکن درحقیقت اس نے امریکی بجٹ کے خسارے میں کھربوں ڈالر کا اضافہ کر دیا۔ اس بل کے ذریعے ایک طرف دفاعی اور فوسل فیول کی صنعتوں کو نوازا گیا تو دوسری جانب سماجی فلاحی پروگراموں اور صاف توانائی کے منصوبوں پر کٹوتیاں کی گئیں۔ ان اقدامات نے اندرونی افراطِ زر میں اضافہ کیا اور ملکی معیشت کو ایک طویل المدتی عدم استحکام کے خطرے سے دوچار کر دیا۔ مزید برآں، امریکی سپریم کورٹ نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں صدر کے یکطرفہ ٹیرف لگانے کے اختیار کو ہی غیر قانونی قرار دے دیا۔ چیف جسٹس جان رابرٹس کی سربراہی میں عدالت نے واضح کیا کہ ٹیرف لگانا کانگریس کا اختیار ہے نہ کہ صدر کا۔ اس عدالتی فیصلے نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس بنیادی ہتھیار کو ہی چھین لیا جس کے ذریعے وہ راتوں رات عالمی منڈیوں میں بھونچال پیدا کر دیتے تھے۔ اس کے بعد سرمایہ کاروں کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ تجارتی محاذ پر اب ’’ ٹیکو ٹریڈ’‘‘ کا جادو زیادہ عرصہ نہیں چل سکے گا، اور انہیں اپنی حکمت عملی کو نئے رخ دینا ہوں گے۔
تجارتی محاذ پر عدالتی پابندیوں کے بعد صدر ٹرمپ کی یہ نفسیاتی حکمت عملی خارجہ پالیسی اور جغرافیائی سیاسی تنازعات کی طرف منتقل ہو گئی۔ مشرقِ وسطیٰ میں شروع ہونے والی ایران جنگ نے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کو ایک نئے اور سنگین ترین بحران سے دوچار کر دیا۔ آبنائے ہرمز کی بندش اور خطے میں تباہ کن میزائل حملوں کے باعث تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، اور دنیا ایک مرتبہ پھر 1970ء کی دہائی جیسے انرجی کرائسس کے دہانے پر کھڑی ہو گئی۔ لیکن حیرت انگیز طور پر، اس قدر سنگین جنگی حالات اور عالمی معاشی جھٹکوں کے باوجود امریکی اسٹاک مارکیٹ نے کسی غیر معمولی خوف یا طویل المدتی کریش کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس کی بنیادی وجہ یہی’’ ٹیکو‘‘ ذہنیت تھی کہ ٹرمپ انتظامیہ ملکی افراطِ زر اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سیاسی بوجھ برداشت نہیں کر سکے گی اور بالآخر مڈٹرم انتخابات سے قبل کسی نہ کسی طرح جنگ بندی پر مجبور ہو جائے گی۔ اپریل کے اوائل میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا، جس کے ساتھ ہی تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آئی اور عالمی منڈیوں نے ایک بار پھر سکھ کا سانس لیا۔ تاہم، اس تمام تر صورتحال نے عالمی معیشت کو ایک انتہائی خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔
اب یہ رجحان ’’ ٹیکو ٹریڈ‘‘ سے آگے بڑھ کر ’’ صرف ٹرمپ پر اعتماد‘‘ کے ایک نئے اور بھیانک پیراڈائم میں تبدیل ہو چکا ہے۔ آج کی عالمی مالیاتی منڈیاں کسی ٹھوس معاشی اصول، پیداواری حقائق یا مرکزی بینکوں کی مستحکم پالیسیوں کی بنیاد پر نہیں چل رہیں، یہ عالمی تجارت کا یہ سراب، جو وقتی منافع کے لالچ میں حقیقی معاشی خطرات کو نظر انداز کر رہا ہے، درحقیقت ایک ایسے آتش فشاں کے دہانے پر رقص کرنے کے مترادف ہے جو کسی بھی وقت پھٹ کر پوری دنیا کی معیشت کو بھسم کر سکتا ہے۔ یہ نہ صرف امریکی عوام اور پالیسی سازوں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے کہ کیا عالمی معیشت کا مستقبل محض ایک شخص کے غیر متوقع اور ہچکولی کھاتے فیصلوں کے سپرد کیا جا سکتا ہے؟





