ColumnImtiaz Aasi

قیدیوں کے راشن میں خرد برد اور بے حسی

قیدیوں کے راشن میں خرد برد اور بے حسی
نقارہ خلق امتیاز عاصی
ایک اردو معاصر کی چونکا دینے والی خبر میں کہا گیا ہے سینٹرل جیل اڈیالہ میں قیدیوں کو فراہم کئے جانے والے چکن میں وسیع پیمانے پر مبینہ کرپشن کی انکوائری چھ ماہ میں بھی مکمل نہیں ہو سکی ہے۔ جیل مینوئل میں ایک قیدی کو ہفتہ میں چار سو پچاس گرام مرغی کا گوشت ملنا چاہیے، مگر یار لوگ چکن کی بجائے قیدیوں کو دالیں پکا پکا کر کھلاتے رہے، جس کی شکایت پر دو ڈی آئی جی جیل خانہ جات پر مشتمل انکوائری کمیٹی قائم کی گئی، جس کی رپورٹ ابھی تک منظر عام پر نہیں آسکی ہی۔ اس کے ساتھ ایک افسوسناک خبر یہ ہے سینٹرل جیل میانوالی کا وارڈر چراغ علی جو کینسر کا مریض تھا جس کا تعلق ضلع بھکر سے تھا جہاں ڈسٹرکٹ جیل موجود ہے، لیکن محکمہ جیل خانہ جات اس حد تک ملازمین کی فلاح و بہبود کرتا ہے علیل وارڈر کو اس کے آبائی ضلع کی جیل میں تبدیل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جیل ملازمین کے لئے پرزن فائونڈیشن ہونے کے باوجود سرکاری فنڈز سے مرحوم کا کوئی علاج معالجہ نہیں ہو سکا بالآخر وہ جاں آفریں کے سپرد کر گیا۔ لگ بھگ تین ماہ قبل ڈسٹرکٹ جیل اٹک میں مانیٹرنگ ٹیم نے ایک ملازم سے پانچ ہزار روپے برآمد کئی، جس پر گریڈ اٹھارہ کے سپرنٹنڈنٹ اشتیاق گل کو ملازمت سے معطل کر دیا گیا تھا ۔ چنانچہ اسی نوع کا ایک کیس مانٹرنگ ٹیم نے سینٹرل جیل راولپنڈی سے پکڑا جس میں ایک وارڈر کی جرابوں سے اٹھارہ ہزار روپے برآمد ہوئے تھے، جس پر ملاقاتی شیڈ کے انچارج اسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ اور وارڈر کو ملازمت سے معطل کر دیا گیا تھا۔ آئی جی جیل خانہ جات کے مطابق اسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ اور واڈر کو جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ پر ملازمت سے معطل کیا گیا جبکہ مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوئی ہے۔ ایک ماہ ہونے کو ہے مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ آئی جی جیل خانہ کو یقینی طور پر موصول ہو چکی ہوگی، نہ جانے مانیٹرنگ ٹیم کی پورٹ کی روشنی میں کئے جانے والے اقدامات کو مخفی رکھا گیا ہے۔ جیلوں میں قیدیوں اور حوالاتیوں سے ملاقات کا شیڈول پبلک کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ چلیں اخبارات میں نہ سہی کم از کم سوشل میڈیا پر آنا چاہیی۔ بسا اوقات قیدیوں کے ملاقاتی جیل پہنچتے ہیں انہیں بتایا جاتا ہے آج ان کے قیدی کی ملاقات کا دن نہیں ہے۔ اگر کوئی ملاقاتی دور دراز جگہ سے آیا ہوگا وہ لازمی طور پر ملاقات کے لئے کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کرے گا اور اس مقصد کے لئے جیلوں کے سپرنٹنڈنٹس کے اردلی حضرات پہلے سے تیار ہوتے ہیں، جو قیدی کے نام کی چٹ پر سپرنٹنڈنٹ کے دستخط کرا کر قیدی کو ملاقاتی شیڈ میں بلا لیتے ہیں۔ کیا اس طرح کی ملاقات ویسے ہو جاتی ہے جی نہیں اس مقصد کے لئے بعض اردلیوں کو کم از کم پانچ، چھ ہزار روپے نذرانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ جیلوں میں وی آئی پی ملاقات آمدن کا بہت بڑا ذریعہ ہوتا ہے، جس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا۔ یوں تو جیلوں میں مبینہ کرپشن کے ایسے ایسے طریقے ہیں، جن کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر چند حوالاتی کسی ایک مقدمہ میں جیلوں میں آتے ہیں، اگلے روز انہیں علیحدہ علیحدہ بیرکس میں بھیجا جاتا ہے۔ سوال ہے جب ایک ہی مقدمہ میں چند لوگ آتے ہیں انہیں ایک ہی بیرک میں رکھنے میں کیا قباحت ہوتی ہے۔ چند روز بعد وہی حوالاتی جیلوں کے چکر ( سینٹرل ٹاور) میں اپنے مقدمہ والوں کو ایک ہی بیرک میں رکھنے کی جب خواہش ظاہر کرتے ہیں تو انہیں فی کس کم از کم دس ہزار روپے نذرانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ جیلوں میں اس طرح کی کرپشن کا سد باب کرنے کا واحد طریقہ یہی ہے ایک ہی مقدمہ کے تمام ملزمان کو پہلے روز سے ایک ہی بیرک میں رکھا جائے۔ عجیب تماشہ ہے جیلوں کے ریجن میں گریڈ بیس کے ڈی آئی جی تعینات ہیں مگر وہ کسی وارڈر کا تبادلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ اس مقصد کے لئے این او سی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یوں تو جیلوں میں ہونے والی مبینہ کرپشن کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا کرپشن پکڑنے کا واحد طریقہ ہے جیلوں میں رات کے اوقات میں چھاپے مارے چاہئیں ۔ خصوصا جیلوں کے ہسپتالوں سے صحت مند مریضوں کو پکڑنے کا طریقہ رات کی تاریکی میں اچانک جایا جائے اور مانیٹرنگ ٹیم کے ساتھ ایک میڈیکل آفیسر ہونا چاہیے جس کے بعد دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر نے جیل ملازمین کو ترقیاں دینے کے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے وہ محکمہ سے مبینہ کرپشن کے خاتمے کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ قارئین کو یہ جان کر حیرت ہوگی جب کبھی جیلوں میں سالانہ دورہ کا وقت آتا ہے قیدیوں اور حوالاتیوں سے فنڈز جمع کرکے بیرکس کی تزئین و آرائش کرائی جاتی ہے حالانکہ اس مقصد کے لئے سپرنٹنڈنٹس کے پاس معقول فنڈز موجود ہوتے ہیں۔ ایک اچھی خبر یہ ہے سنٹرل جیل کوٹ لکھپت میں قیدیوں کے ملاقاتیوں کے لئے فری بس سروس کا آغا ز کر دیا گیا ہے۔ سوال ہے پنجاب کی باقی جیلوں میں اس مقصد کے لئے بس سروس کی ضرورت نہیں؟ مان لیا کوٹ لکھپت جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے ہاتھ بہت لمبے ہیں لیکن سینٹرل جیل ساہیوال جیسی دور دراز جیل کے ملاقاتیوں کو بھی کافی مسافت کے بعد ملاقاتی شیڈ تک پہنچنا پڑتا ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے سینٹرل جیل راولپنڈی میں قیدیوں کو چکن کی بجائے دالیں کھلانے کے معاملے کی تحقیقات دو ڈی آئی جی کے سپرد کرنے کے باوجود ذمہ داروں کے خلاف کسی قسم کا کوئی ایکشن نہ ہونا اس امر کی دلیل ہے دال میں کچھ نہ کچھ کالا ضرور ہے بادی النظر میں اس معاملے کی انکوائری میں زیادہ وقت درکار نہیں تھا انکوائری افسر قیدیوں سے باز پرس کر سکتے تھے، جس کے بعد ہر چیز روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی۔ جیلوں میں انکوائری کے سلسلے میں ایک رکاوٹ ضرور ہے جب اس طرح کی انکوائری ہو تو قیدیوں اور حوالاتیوں کو قبل از وقت آگاہ کرکے انہیں کسی قسم کا بیان دینے سے روک دیا جاتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button