جنگ بندی، پاکستان کا ناقابل فراموش کردار

جنگ بندی، پاکستان
کا ناقابل فراموش کردار
پاکستان نے ایک بار پھر عالمی سطح پر اپنی شاندار سفارتی مہارت اور قیادت کا مظاہرہ کیا ہے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے نہ صرف خطے میں امن و استحکام قائم رکھنے کی ایک قابلِ تعریف کوشش کی بلکہ ایک بڑے عالمی بحران کو بھی ٹال دیا۔ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ تنازع جس سے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا متاثر تھی، پاکستان کی بروقت اور مہارت بھری سفارت کاری کی وجہ سے ٹل گئی۔ گزشتہ دنوں امریکا نے ایران کو اپنی شرائط کی تحت آبنائے ہُرمز کھولنے کی درخواست کی تھی، جسے ایران نے مسترد کردیا تھا۔ اس کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو صرف 48گھنٹے کی ڈیڈ لائن دی تھی اور سوشل میڈیا پر ایران کے خلاف سخت دھمکیاں دی تھیں۔ یہ ایک انتہائی نازک صورت حال تھی، جس میں خطے میں ممکنہ جنگ کے خطرات ہر لمحہ بڑھ رہے تھے۔ ایسے میں پاکستان کی قیادت نے نہ صرف صبر اور حکمت کا مظاہرہ کیا، بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت کو ایک بار پھر واضح کیا۔ وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے انتہائی دانش مندی کے ساتھ دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی۔ انہوں نے امریکی صدر اور ایرانی قیادت کے درمیان براہِ راست رابطے قائم کیے اور ایک ایسا ماحول پیدا کیا جہاں دونوں فریقین نے دو ہفتے کی جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کردی۔ یہ اقدام صرف خطے کے لیے نہیں بلکہ دنیا بھر کے لیے سکون اور تحفظ کی ضمانت ثابت ہوا۔پاکستان کی یہ سفارتی کامیابی عالمی میڈیا اور تمام بڑے عالمی تجزیہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی کھلے دل سے پاکستان کی اس کوشش کو سراہا اور وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے مسلسل اور مثر کردار ادا کرکے خطے میں ممکنہ جنگ کے خطرے کو ٹال دیا۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہے جس سے دنیا بھر کے ممالک پاکستان کی مہارت اور قیادت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات 10اپریل 2026ء سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے اور یہ مذاکرات زیادہ سے زیادہ 15دن تک جاری رہ سکتے ہیں۔ مذاکرات کا مقصد ایک حتمی اور دیرپا امن معاہدہ طے کرنا ہے، تاکہ نہ صرف ایران اور امریکا بلکہ پورے خطے میں استحکام قائم ہو۔ یہ واضح ہے کہ پاکستان نے ایک نہایت نازک صورت حال میں سب سے اہم ثالثی کا کردار ادا کیا اور اپنی سنجیدگی، صبر اور حکمت عملی سے عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو مزید مضبوط کیا۔ عالمی منڈی میں بھی اس جنگ بندی کے اعلان کے فوری اثرات دیکھے گئے۔ تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی اور اسٹاک مارکیٹس میں زبردست تیزی دیکھی گئی۔ برینٹ کروڈ کی قیمت قریباً 16فیصد کم ہو کر 92.30ڈالر فی بیرل تک آگئی جب کہ امریکی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 93.80ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔ ایشیا پیسیفک کی اسٹاک مارکیٹس میں بھی تیزی دیکھی گئی، جاپان کے نکئی 225انڈیکس میں 4.5فیصد اضافہ اور جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 5.5فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کی ثالثی نہ صرف سیاسی بلکہ اقتصادی استحکام کے لیے بھی اہم کردار ادا کررہی ہے۔ پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ یہ ملک نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر امن قائم رکھنے کے لیے ایک قابلِ بھروسہ، ذمے دار اور موثر ملک ہے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان بحرانوں کے وقت نہ صرف اپنے عوام کے مفاد میں بلکہ بین الاقوامی مفاد میں بھی فیصلہ کُن کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس موقع پر عالمی رہنمائوں اور میڈیا نے پاکستان کے کردار کو بھرپور انداز میں سراہا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے بیان کو شیئر کرتے ہوئے پاکستان کی سفارتی کامیابی کو تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں نے مشرق وسطیٰ کو ممکنہ تباہی سے بچایا۔ یہ کامیابی صرف سفارت کاری کی نہیں بلکہ پاکستان کے بین الاقوامی وقار، عوام کے اعتماد اور قومی اتحاد کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ پاکستان نے یہ ثابت کر دیا کہ جب اعلیٰ قیادت، مضبوط ادارے اور عوام ایک ساتھ ہوں، تو کوئی بھی عالمی چیلنج ناممکن نہیں۔ یہ واقعہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک سبق ہے کہ بحران کے وقت حکمت، صبر اور مشترکہ کوششیں کس قدر موثر ثابت ہوسکتی ہیں۔ عالمی منظرنامے پر پاکستان کی یہ کامیابی صرف ایک سفارتی کارنامہ نہیں بلکہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔ پاکستان نے اپنی دانش مندی اور قابلیت سے دنیا کو دکھا دیا کہ یہ ملک نہ صرف اپنے خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے سنجیدہ اور ذمے دار کردار ادا کر سکتا ہے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے عالمی سطح پر امن، استحکام اور اعتماد کا ایک نیا معیار قائم کیا ہے۔ یہ لمحہ پاکستان کے لیے باعث فخر ہے اور یہ دنیا کے تمام ممالک کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان اپنی قیادت، صلاحیت اور قومی اتحاد کی بنیاد پر کسی بھی عالمی بحران کو موثر طریقے سے حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہی۔
مستونگ آپریشن: 6دہشتگرد ہلاک
ملک میں امن و امان کا قیام کسی بھی ریاست کی اولین ذمے داری ہوتا ہے اور اس حوالے سے سیکیورٹی فورسز کی حالیہ کارروائی ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ مستونگ کے علاقے کرد گاپ میں خفیہ اطلاع پر کیا جانے والا ٹارگٹڈ آپریشن اس بات کا ثبوت ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ہر وقت متحرک اور تیار ہیں۔ فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 6دہشتگردوں کی ہلاکت نہ صرف ایک بڑی کامیابی ہے بلکہ اس سے یہ پیغام بھی واضح ہوتا ہے کہ ریاست دشمن عناصر کے لیے ملک میں کوئی جگہ نہیں۔ یہ دہشتگرد تھانوں، جیلوں، سرکاری املاک اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھے، جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کا خاتمہ کس قدر ضروری تھا۔ آپریشن کے دوران دہشتگردوں کی جانب سے شدید فائرنگ اور اس کے جواب میں فورسز کی بروقت کارروائی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہمارے سیکیورٹی ادارے نہ صرف پیشہ ورانہ مہارت رکھتے ہیں بلکہ مشکل ترین حالات میں بھی ثابت قدم رہتے ہیں۔ کئی گھنٹے تک جاری رہنے والا یہ مقابلہ اس عزم کا مظہر ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔ اس کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود، دستی بم اور موٹر سائیکلوں کی برآمدگی بھی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ دہشتگرد کسی بڑے منصوبے کی تیاری میں تھے۔ اگر بروقت کارروائی نہ کی جاتی تو یہ عناصر مزید نقصان پہنچا سکتے تھے۔ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ ایسے عناصر کو بروقت بے نقاب کیا جا سکے۔ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی مسلسل کوششیں ملک میں امن کے قیام کی جانب اہم قدم ہیں۔ تاہم، اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ ان کارروائیوں کا تسلسل برقرار رکھا جائے اور دہشتگردوں کے سہولت کاروں کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ مستونگ میں ہونے والا یہ آپریشن ایک واضح پیغام ہے کہ ریاست اپنی رٹ قائم رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی قسم کی دہشتگردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہ کامیابی نہ صرف فورسز کے حوصلے بلند کرتی ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی مضبوط بناتی ہے۔





