توانائی کا عالمی بحران اور پنجاب کی معاشی حکمت عملی: کفایت شعاری اور ٹارگیٹڈ سبسڈی

توانائی کا عالمی بحران اور پنجاب کی معاشی حکمت عملی: کفایت شعاری اور ٹارگیٹڈ سبسڈی
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے بروقت اقدامات
تحریر : امبر جبین
عالمی نظام اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں جغرافیائی سیاست (Geopolitics)اور معاشیات (Economics) ایک دوسرے میں پیوست ہو چکے ہیں جہاں ایک خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی پوری دنیا کی معیشتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے ۔ حالیہ برسوں میں دنیا کے مختلف خطوں میں جاری جنگی صورتحال، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے تنازعات نے عالمی توانائی منڈیوں ( گلوبل انرجی مارکیٹس ) کو شدید عدم استحکام سے دوچار کیا ہے۔ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی پالیسیوں، سپلائی چین میں رکاوٹ اور بحری راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات کے سبب خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ، جس کے اثرات براہِ راست عالمی افراطِ زر (inflation)کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں ۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ایسے کثیر الجہتی اثرات (multiplier effects)پیدا رہا ہے جو صنعت، زراعت اور خدمات کے شعبوں کو یکساں طور پر متاثر کر رہے ہیں۔معاشی تحقیق میں یہ امر اب ایک تسلیم شدہ حقیقت بن چکا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ مجموعی پیداواری لاگت میں اضافے، اشیائے خورونوش کی مہنگائی، اور بالآخر قوتِ خرید میں کمی کا سبب بنتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک، خصوصاً وہ جو توانائی کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ پاکستان بھی انہی ممالک میں سی ایک ہے جہاں توانائی کا بڑا حصہ درآمدی ایندھن کی مرہون منت ہے اس لیے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو کا براہِ راست اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔
پاکستان کی معیشت پہلے ہی بنیادی ساختیاتی مسائل (structural issues)اور محدود برآمدی دائرہ کار اور مالیاتی دبائو جیسے مسائل کا شکار ہے ایسے میں عالمی توانائی بحران نے چیلنجز کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف عام آدمی کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے بلکہ صنعتی و زرعی پیداواری لاگت اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں ریاست ایک متوازن حکمت عملی اختیار نہ کرتی تو معیشت جمود شکار ہو سکتی تھی جس کا لازمی نتیجہ بیروزگاری میں اضافہ اور سماجی بے چینی ہوتا۔
یہ وہ پس منظر تھا جس میں حکومت پاکستان بالخصوص پنجاب دو بروقت اقدام لیے اور وسائل کے محتاط استعمال کو یقینی بناتے ہوئے سرکاری سطح پر کفایت شعاری مہم کا آغاز کیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں ان کی معاشی ٹیم نے صوبے کے جاری اخراجات کو کنٹرول کیا۔ وسائل میں بچت کے لیے دفاتر کے لیے لگژری سامان اور گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کردی گئی۔ فیول کے استعمال میں 50فیصد تک کمی کی گئی۔ اس مقصد کے لیے سرکاری دفاتر میں ماسوائے ایمرجنسی سروسز کے لیے ہفتے کے چار دن ورک ڈیز اور تین دن چھٹی کا اعلان کر دیا گیا ہے مزید براں دفتری امور کی انجام دہی کے لیے صرف ضروری سٹاف کی حاضری اور ان لائن میٹنگز کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ سرکاری سطح پر پروٹوکول گاڑیوں اور سیکیورٹی سکواڈز کی تعداد میں ممکنہ حد تک کمی کر دی گئی ہے۔ اعلیٰ سرکاری افسران اور اراکین اسمبلی کی تنخواہوں پر کٹ لگایا گیا ہے جبکہ کابینہ اراکین کی دو ماہ کی تنخواہیں اور فیول کی سہولت ختم کر دی گئی ہے۔ پبلک سیکٹر کمپنیوں اور خودمختار اداروں کے بورڈ ممبرز کو بورڈ میٹنگز کے لیے کسی قسم کی کوئی ادائیگی نہیں کی جا رہی۔ ترقیاتی اخراجات کے موثر استعمال کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ کفایت شعاری اقدامات کے ساتھ معیشت کے پہیے کو جاری رکھنے کے لیے ٹرانسپورٹ ، صنعت اور زراعت میں ایندھن کے اخراجات کے لیے خصوصی سبسڈی کی فراہمی کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ اس وقت ملک کی سب سے بڑی معیشت کی حیثیت سے پنجاب کا کردار سب سے اہم ہے اور پنجاب کے بیشتر لوگوں کے روزگار کا انحصار صنعت و تجارت اور زراعت پر ہے۔ پنجاب میں معاشی سرگرمیاں متاثر ہوئیں تو اس کا اثر پورے پاکستان پر پڑے گا۔ مزید برآں سروسز کے شعبہ میں ٹرانسپورٹ کا شعبہ سب سے اہم ہے جو نا صرف لوگوں کے روز مرہ معمولات کو جاری رکھتا ہے بلکہ اشیائے ضروریہ کی سپلائی چین کی بحالی کا بھی ذمہ دار ہے ۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا اعلان کردہ ریلیف پیکیج ان کی اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ مہنگائی سے تحفظ کے لیے ہدف بند سبسڈی دی جائے گی جو صرف ان طبقات کے لیے ہو گی جو اس کے مستحق ہیں۔ ٹارگیٹڈڈ سبسڈی کا مقصد وسائل کے محتاط استعمال کو یقینی بناتے ہوئے مستحق طبقات کو ریلیف مہیا کرنا ہے ۔ یہ حکمتِ عملی بین الاقوامی مالیاتی اداروں، خصوصاً آئی ایم ایف کی شرائط کے بھی عین مطابق ہے۔
ٹرانسپورٹ کے شعبے میں دی جانے والی سبسڈی اس پالیسی کی ایک واضح مثال ہے جس کے تحت رجسٹرڈ گڈز ٹرانسپورٹ کے لیے 70ہزار روپے، بڑی گاڑیوں کے لیے 80ہزار روپے اور پبلک سروس بسوں کے لیے 100ہزار روپے سبسڈی کا اعلان کیا گیا ہے جو تجارت اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل کو جاری رکھے گا اور عوام پر بسوں کے کرایوں میں اضافے کے بوجھ کو کم کرے گا۔ وزیراعلیٰ نے ٹرانسپورٹرز سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سبسڈی کا فائدہ عوام تک پہنچائیں اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ مسافروں پر منتقل نہ کریں۔ اس ضمن میں عوام کے لیے مفت پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی ایک اہم اقدام ہے۔ میٹرو بس، سپیڈو بس، اورنج لائن ٹرین اور گرین الیکٹرک بسوں میں مفت سفر نے لاکھوں لوگوں کو فوری ریلیف دیا ہے۔ اس سہولت کی وجہ سے لوگ آسانی سے اپنی ملازمتوں، تعلیمی اداروں اور کاروباری مراکز تک پہنچ سکتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ کی ٹیم کی جانب سے مختلف اسٹیشنز کے دورے اور مسافروں سے فیڈبیک لینا اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت صرف ریلیف کا اعلان نہیں کر رہی ں یہکر رہی ہی بلکہ اس پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنا رہی ہے۔زرعی شعبہ میں 25ایکڑ تک زمین کے مالک کسانوں خصوصاً گندم کے کاشتکاروں کو ایک لیٹر ڈیزل کے پر 150روپے سبسڈی کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا مقصد کسانوں پر کاشتکاری کے اخراجات کو کم کرنا اور اناج کی مناسب قیمتوں پر دستیابی کو یقینی بنانا ہے ۔ سبسڈی کے اس نظام کی نگرانی وزیر اعلیٰ خود کر رہی ہیں تاکہ پوری شفافیت کے ساتھ صرف مستحق کسانوں کو ریلیف مہیا کی جائے۔ وزیر اعلیٰ کا یہ اقدام فورڈ سیکیورٹی کے ساتھ دہی معیشت کو بھی محفوظ کرے گا۔
وزیر اعلیٰ کے ہدف بند سبسڈی پیکیج کے تحت موٹر بائیک مالکان کے لیے بھی سبسڈی کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت روزگار اور دیگر متعلقہ مقاصد کے لیے موثر سائیکل کا استعمال کرنے والوں کے لیے موثر سائیکلوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر فیس ختم کر دی گئی ہے اور انھیں ماہانہ بنیادوں پر فیول کے اخراجات میں 2000روپی کی معاونت مہیا کی جائے گی ۔
وزیر اعلیٰ کے اس اقدام سے ڈیلی ویجرز ، ڈلیوری رائیڈرز اور چھوٹے کاروباری افراد کا روز گار بحال رہے اور صوبے کی مجموعی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ خطے کی موجودہ حالات میں پنجاب کی جغرافیائی اور معاشی حیثیت اس کے لیے ایک بھی ہے ، پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جو ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کو جوڑتا ہے، جبکہ پنجاب اس کا مرکزی حصہ ہے۔ اگر یہاں استحکام برقرار رہا اور معاشی سرگرمیاں جاری رہیں تو پنجاب سرمایہ کاری کے لیے ایک محفوظ اور پرکشش مقام بن سکتا ہے۔ موجودہ حالات میں جہاں کئی خطے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، پنجاب اپنے بہتر انتظامی ڈھانچے اور فعال پالیسیوں کے ذریعے ایک مثبت مثال پیش کر سکتا ہے۔
اس وقت کفایت شعاری کے اقدامات اور معاشی سرگرمیوں کے تسلسل کو ساتھ ساتھ لے کر چلنا ایک مشکل مگر ضروری حکمتِ عملی ہے۔ اگر صرف اخراجات کم کیے جائیں اور کاروبار متاثر ہوں تو معیشت مزید کمزور ہو سکتی ہے۔ اسی لیے حکومت نے ایک متوازن راستہ اختیار کیا ہے، جہاں ایک طرف ایندھن کی بچت کو فروغ دیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف لوگوں کو کام کرنے اور کمائی کے مواقع بھی فراہم کیے جا رہے ہیں جس کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب مبارک کی مستحق ہیں ۔
گرائونڈ رئیلٹی کے مطابق ان کے اقدامات کے فوری اثرات عوامی ریلیف کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں کمی، کسانوں کو سہولت، اور عام شہریوں کے لیے پٹرول پر سبسڈی نے لوگوں کی روزمرہ زندگی کو آسان بنایا ہے۔ طویل مدت میں یہ اقدامات معاشی سرگرمیوں کو مستحکم رکھنے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور ٹیکس وصولیوں کو بہتر بنانے میں مدد دیں گے۔ کاروبار چلتے رہتے ہیں تو حکومت کی آمدنی بھی برقرار رہتی ہے، جو مزید ترقیاتی منصوبوں کے لیے ضروری ہوتی ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ عالمی بحران نے جہاں مشکلات پیدا کی ہیں، وہیں بہتر پالیسی سازی کے ذریعے مشکلات کو مواقع میں تبدیلی کی راہ بھی ہموار کی ہے ۔ پنجاب حکومت نے جس حکمتِ عملی کا انتخاب کیا ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بروقت اور درست فیصلوں کے ذریعے نہ صرف عوام کو ریلیف دیا جا سکتا ہے بلکہ معیشت کو بھی مستحکم رکھا جا سکتا ہے۔ یہ اقدامات صرف وقتی سہولت نہیں بلکہ ایک ایسے مستقبل کی بنیاد ہیں جہاں پنجاب نہ صرف اپنے شہریوں کے لیے بہتر مواقع فراہم کرے گا بلکہ ملک میں سرمایہ کاری اور ترقی کے لیے بھی ایک مضبوط مرکز بن کر ابھرے گا۔





