Editorial

متاثرین سیلاب کیلئے امدادی فنڈ قائم

وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی فنڈ قائم کر دیاہے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کے مطابق وزیر اعظم نے قوم سے کہاہے کہ جس طرح اہل پاکستان نے 2005 کے زلزلے اور 2010 کے ملک کے سب سے بڑے سیلاب کے وقت متاثرین کی دل کھول کر مدد کرکے پوری دنیا میں ایک مثال قائم کی تھی، آج بھی اسی جذبے کی ضرورت ہے۔عوام بالخصوص مخیر حضرات سے درد مندانہ اپیل کرتا ہوں کہ سیلاب کی تباہی کا شکار اہل وطن کی دل کھول کر مدد کریں۔ شدید بارشوں نے سیلاب کی صورت میں قیامت صغری ٰبرپا کی ہے، بلوچستان میں غیر معمولی تباہی ہوئی ہے، سندھ، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں بے تحاشا نقصانات ہوئے ہیں ،حکومت نے مشکل معاشی حالات کے باوجود پانچ ارب روپے سیلاب متاثرین کے لیے فوری جاری کر دئیے ہیں۔ دوسری طرف ملک میں سیلاب کی صورتحال پر بات کی جائے تو سندھ اور بلوچستان میں بارشوں کے باعث سیلاب کی صورتحال برقرار ہے اور ایک روزپہلے تک بلوچستان میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 176ہوگئی ہے۔لاہور سمیت ملک کےمختلف شہروں میں مون سون کی بارشوں کا سلسلہ ہفتے اور اتوار کے روز بھی جاری رہااور پی ڈی ایم اے پنجاب نے 10سے 13اگست تک پنجاب میں مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا الرٹ جاری کردیاہے ۔ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں حالیہ بارشوں کے نتیجے میں 552اموات اور 628افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ قریباً 50 ہزار سے زائد مکانات کو نقصان پہنچاہے ، مون سون ہوائیں ملک میں داخل ہو رہی ہیں جن کے نتیجے میں دریائوںاور ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔بلاشبہ اس بار مون سون پہلے سے زیادہ تباہ کن ثابت ہورہا ہے یہی وجہ ہے کہ سندھ، خیبر پختونخوا ، بلوچستان اور پنجاب میں شدید تباہی پھیلی ہوئی ہے۔ اداروں کی بروقت کارروائیوں کے نتیجے میں متاثرہ ہم وطن محفوظ پناہ گاہوں میں موجودہیں لیکن ان کی املاک گھر اور کھیت کھلیان سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوچکے ہیں اور یہی اُن متاثرہ افراد کا کُل اثاثہ ہیں، تمام صوبائی حکومتیں اور وفاق کے زیر کنٹرول ادارے سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ افراد کی ہر ممکن مدد کررہے ہیں،پاک فوج کے جوان بھی ملک بھر میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں کررہے ہیں بلکہ چند روز دھند کے باعث پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کو حادثہ پیش آیا اور اُس کے نتیجے میں کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی سمیت چھ افسران شہید ہوگئے ، قوم پہلے سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں اور جانی و مالی نقصان کی وجہ سے پریشان تھی اسی دوران ہیلی کاپٹر کے حادثے اور افسران کی شہادتوں نے مزید افسردہ کردیا مگر اس کے باوجود پاک فوج اور اس کے ذیلی شعبے پوری تندہی سے سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے کارروائیاں کررہے ہیں اسی طرح نجی فلاح ادارے بھی ہم وطنوں کی مشکلات کو دورکرنے کے

لیے پیش پیش ہیں مگر مون سون، بارشیں اور سیلاب کی تباہ کاریاں بڑھتی جارہی ہیں کیونکہ قدرتی آفات کے سامنے انسان بے بس ہوتا ہے اور فقط نقصان کم سے کم ہونے کی کوشش ہی کرسکتا ہے اور ایسا ہی اس وقت کیا جارہا ہے۔ بارش اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے اسی لیے وطن عزیز کی سیاسی اور عسکری قیادت مصیبت میں گھرے ان ہم وطنوں کے لیے ہر ممکن اقدامات کررہی ہے تاکہ جانی و مالی نقصان کو کم سے کم کیا جاسکے، متاثرہ افراد کوریسکیو کرکے سیلاب سے دور سرکاری کیمپوں میں ٹھہرایا جارہا ہے اور انہیں تمام ضروریات زندگی فراہم کی جارہی ہیں، ان کے مویشیوں کی دیکھ بھال بھی ان دنوں حکومتوں اوراداروں کے ذمے ہے، امدادی کارروائیوں کے طور پر یہی اقدامات کئے جاسکتے ہیں تاکہ جانی نقصان سے محفوظ رہا جاسکے لیکن متاثرہ کے املاک اور ذریعہ روزگار یعنی فصلوں کی تباہی اور اُن متاثرہ علاقوں میں انفراسٹرکچر قائم کرنے کے لیے بڑے فنڈ کی ضرورت ہے اسی لیے وزیراعظم میاں شہبازشریف نے مخیر حضرات سے اپیل ہے کہ مشکلات میں گھرے ان پاکستانیوں کو دوبارہ آباد کرنے میں حکومت کا ہاتھ بٹائیں ،سیلاب متاثرہ بھائیوں بہنوں اور بچوں کی مدد انصار مدینہ والے جذبے سے کرنے کی ضرورت ہے۔حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وفاق نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور صوبائی حکومتوں سے بھی کہاگیا ہے کہ متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دیں تاکہ امدادی کاموں کو مزید تیز کیا جاسکے۔بلاشبہ حالیہ سیلابوں کے نتیجے میں ہونےبربادی جیسی تباہی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی اور یہ غیر معمولی حالات غیر معمولی اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں، متاثرین کی فوری امداد کے لیے مخیر حضرات کو بڑے دل کے ساتھ سامنے آنا چاہیے، حکومتی فنڈز میں بھی فنڈز دینے چاہئیں اور اگر ممکن ہو تو متاثرہ افراد تک پہنچ کر ان کے آنسو پونچھے جائیں، متاثرین کی مدد کئی طریقوں سے کی جاسکتی ہے،تمام تر اختلافات بھلاکر ایک ہونے کا یہ وقت ہے، جتنی جلدی قوم سیلاب سے متاثرہ ہم وطنوں کے لیے متحرک ہوگی اتنی ہی جلدی اُن متاثرین سیلاب کی بحالی ہوگی، اس لیے ہر پاکستانی کو مشکل کی اِس گھڑی میں اپنے پریشان اور بے یارومددگار ہم وطنوں کے لیے اپنا حصہ ڈالنا چاہیے کیونکہ متاثرہ افراد تو آزمائش سےگذر بھی رہے ہیں مگر یہ ہماری بھی آزمائش ہے اب دیکھنا ہے کہ ہم آزمائش پر کتنا پورا اُترتے ہیں۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ مخیر حضرات متاثرین سیلاب کی مدد کے لیے آگے آئیں گے تاکہ متاثرین سیلاب دوبارہ معمول کی زندگی کی جانب لوٹ سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button