ColumnNasir Sherazi

حسینؓ تیرے لہو کی خوشبو ۔۔ ناصر شیرازی

ناصر شیرازی

 

نواسہ ٔ رسول امام حسینؓ کو خبر ملی کہ یزید نے حاجیوں کے بھیس میں ایک دستہ دوران حج آپ ؓ کو شہید کرنے کے لیے مامور کردیا ہے، جس پر آپؓ نے خانہ کعبہ کو خون ریزی سے بچانے کے لیے حج کو عمرے میں تبدیل کیا اور بعد ازاں مدینہ چھوڑ کر سفر کربلا اختیار کیا، منصوبہ تھا کہ دوران طواف کعبہ آپؓ کو شہید کرنے کے بعد کہا جائے گا کہ خلقت و ہجوم میں جنہوںنے آپؓ کو شہید کیا، انہیں دیکھا اور اور پہچانا نہ جاسکا یوں یہ سب کچھ نامعلوم افراد کےذمہ ڈال کر قاتلانِ حسینؓ بری الذمہ ہوجاتے۔ امام حسینؓ اہل کوفہ کی طرف سے ہزاروں خطوط موصول ہونے پر کوفہ کی طرف جارہے تھے کہ اطلاع ملی آپؓ کے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل ؓ کو شہید کردیاگیا ہے، جنہیں آپؓ نے حالات کا جائزہ لینے کے لیے کوفہ بھیجا تھا۔ حضرت مسلم بن عقیلؓ کے دو چھوٹے بیٹے بھی وہاں شہید کردیئے گئے، پس کوفہ جانے کا ارادہ ترک کیا، کربلا پہنچ کر ایک مقام پر امام حسینؓ رکے، آپ نے سرخ مٹی دیکھی ، مٹھی میں اٹھائی، اسے سونگھاتو کہا اس مٹی سے میرے لہو کی خوشبو آرہی ہے۔ یزید کے فوجی دستوں نے یہاں آپؓ کا راستہ روکا اوربیعت یزید طلب کی بصورت دیگر جنگ کے لیے تیار ہوجانے کا کہا۔ امام حسینؓ نے فرمایا مجھ جیسا یزید کی بیعت نہیں کرسکتا۔ قریب دریائے فرات خیام لگادیئے گئے جس کی اطلاع یزید کو ہوئی تو اس کے حکم پر خیام حسینی وہاں سے دور ہٹادیئے گئے۔

امام حسینؓ نے آس پاس بستی کے لوگوں کو بلایا اور اس زمین کی ملکیت کے بارے میں پوچھا، پھر آپؓ نے اسے خریدنے کا ارادہ ظاہر کیا جس پر مالکان زمین نے کہا کہ یہ زمین سنگلاخ و بنجر ہے، کوئی فصل نہیں دیتی، آپؓ اس بیکار قطعہ اراضی کو نہ خریدیں، اصرار پر پیشکش کی گئی کہ یہ زمین بلامعاوضہ لے لیجئے مگر امام حسینؓ نے اس طرح لینے سے انکار کردیا، پھر اس کی طے شدہ قیمت کے مطابق اسے ساٹھ ہزار درہم میں خریدا، یہ قریباً چودہ مربع میل زمین تھی۔

یزیدی فوج کے دستے پہنچنا شروع ہوگئے، جنگ شروع ہونے سے قبل ان کی تعداد ساٹھ سے ستر ہزار سپاہ تک پہنچ گئی، امام حسینؓ کے اہل خانہ خواتین، بچے، دوست و ساتھی سب ملاکر سوا سو کے قریب تھے۔ سات محرم کو خاندان رسالتؐپر پانی بند کردیاگیا، دس محرم کو خوراک و پانی سے محروم یہ نفوس شدید گرمی میں بھوکے پیاسے تھے، دس محرم کی صبح نماز فجر کے وقت ابھی نماز ادا کی جارہی تھی کہ فوج ِ یزید نے اُن پر تیروں کی بارش کردی، امام حسینؓ کی حفاظت میں کھڑے تیس افراد اس میں شہید ہوگئے، قدرے اُجالا ہوا تو باقاعدہ جنگ کا آغاز ہوگیا، امام حسینؓ کے بھائی اور بیٹے نے جنگ کی اجازت مانگی تو احباب اکٹھے ہوگئے اور کہنے لگے یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم بیٹھے رہیں اور امامؓ کا خاندان مقتل میں جائے، یوں پہلے اصحاب جنگ کےلیے میدان میں گئے اور یکے بعد دیگرے شہادتیں پاتے رہے، پھر امام حسینؓ کے تمام اہل خانہ مردو بچے شہید ہوئے، حسینی فوج کے علمدار آپؓ کے بھائی حضرت عباسؓ کو جنگ کی اجازت نہ ملی انہیں صرف دریا سے پانی لانے کی اجازت ملی تاکہ پیاس سے بلکتے بچوں کی پیاس بجھائی جاسکے، جن کی العطش العطش کی آوازیں دل دہلا دیتی تھیں، حضرت عباسؓ نے نیزہ اور مشکیزہ اٹھایا اور فرات کی طرف گئے، مشکیزہ پانی سے بھرا، خود بھی شدید پیاسے تھے، پانی ہاتھوں میں لیا پھر خیال آیا کہ امام حسینؓ کے بچے پیاسے ہوں اور میں پانی پی لوں یہ ممکن نہیں، پانی گرادیا اور واپسی کے لیے گھوڑے کی پشت پر بیٹھے، کچھ ہی دور گئے کہ دشمنوں کے وار سے ایک بازو قلم ہوگیا، مزید آگے بڑھے تو دوسرا بازو بھی کٹ گیا، مشکیزے کے تسمے کو دانتوں سے پکڑ لیا تاکہ پانی خیموں تک پہنچ جائے مگر تیروں سے مشکیزہ چھلنی ہوگیا، تمام پانی بہہ گیا، ایسے میں ایک ملعون نے سر پر گرز مارا، آپؓ گھوڑے کی زین سے زمین پر آگرے اور اپنے بھائی امام حسینؓ کو پکارا، وہ زخم زخم اپنے علمدار کے پاس پہنچے تو عرض کی میری لاش خیموں میں نہ لے جانا، میں سب معصوم بچوں سے شرمندہ ہوں، ان کے لیے پانی نہ پہنچاسکا، دوسری لاش ایک چھ ماہ کے سپاہی کی تھی جسے فوج اشکیا نے امام حسینؓ کے ہاتھوں پر شہید کیا، یہ آپ کے بیٹے علی اصغرؓ تھے جنہیں ایک تیر سہ شاخہ یوں لگا کہ گردن سے پار ہوکر امام حسینؓ کے بازو تک جاپہنچا، یہ لاش بھی خیموں تک نہ لائی گئی کہ اسے دیکھ کر دیکھنے والوں پر کیا گذرے گی، حسینی فوج کے 72 افراد نے شہادت پائی، جس کے بعد خیام کو آگ لگادی گئی، مال اسباب لوٹ لیاگیا، بیبوں
اوربچوں کے ہاتھ باندھ کر گلے میں طوق اور پائوں میں بیڑیاں پہناکر سب کو پاپیادہ گرم ریت میں چلاتے، گھسیٹتے ، گرتے پڑتے یزید کے دربار میں لایاگیا، انہیں کوفہ و شام کے بازاروں میں پھرایاگیا، فوج یزید کے سردار محریہ کہتے، آج ہم نے بدر، اُحدو خیبر میں اپنے مارے جانے والے اجداد کا بدلہ لے لیا۔ خاندان امام حسینؓ کو جن بازاروں اور راستوں سے دربار ِ یزید تک لایاگیا وہاں پہلے منادی کرادی گئی کہ نبیؐ زادیاں قیدی بناکر لائی جارہی ہیں، لوگوںکے ہجوم اکٹھے ہوجاتے تو پھر ان پاک و پاکیزہ بیبیوں اور بچوں کو اُن کے درمیان سے گذارا جاتا، قافلے کو کئی گھنٹے تک دربار یزید کے صدر دروازے پر بٹھایاگیا، درباریوں کو بتایاگیا کہ بغاوت کے نتیجے میں اُسے کچل دیاگیا ہے، عورتیں اور بچے قیدی بناکر لائے گئے ہیں، درباری اُچک اُچک کر انہیں دیکھتے اور زخموں پرنمک پاشی کرتے، دربار یزید میں جب جھوٹ بیان کئے جاچکے تو اس موقعے پر ہمشیرہ امام حسینؓ نے حیدر کرار علیؓ مرتضیٰ کے لہجے میں وہاں ایک تاریخی خطبہ دیا جس نے تمام دربار کو ہلاکر رکھ دیا، سیدہ زینب سلام اللہ علیہ نے اپنا حسب و نسب بیان کیا، وجوہات ِ جنگ سے آگاہ کیا، اپنے خاندان کے مشن اور قربانیوںکی روداد سنائی تو اہل دربار دم بخود رہ گئے کیونکہ انہیں گمراہ کیاگیا تھا، انہیں یزیدی فوج کے ظلم و ستم کی تفصیلات بتائی گئیں تو بیشتر غم و غصے کا پیکر بن گئے، انہوں نے یزید اور دیگر سرداروں کو لعن طعن کی مگر یزید کے حکم پر سب کو زندان میں ڈال دیاگیا، جہاں متعدد بچوں اورخواتین کی شہادت ہوئی، واقعہ کربلا کے بعد مدینہ میں چھ ماہ تک لوٹ مار ہوتی رہی، خواتین کی بے حرمتی کی جاتی رہی، یہ سب کچھ یزید کے حکم پر ہوتا رہا، مدینہ، اہل مدینہ اور خاندان رسالتؐ پر ظلم کے وہ پہاڑ توڑے گئے کہ انسانیت شرما گئی، تمام مذاہب کے ماننے والے اِسے ظلم عظیم سمجھتے ہیں، یزید اور ساتھیوں پر صدیوں سے لعنت بھیج رہے ہیں، نواسہ رسولؐ اور آپؓ کے خاندان کے ہر فرد کی قربانی کو ہدیہ عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور تاقیامت جاری رہے گا، خاتون جنت سلام اللہ علیہ اور جنت میں نوجوانوں کے سردار کے ساتھ جو سلوک کیاگیا وہ تاریخ اسلام کا سیاہ ترین باب ہے۔

حسینؓ تیرے لہو کی خوشبو فلک کے دامن سے آرہی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button