Editorial

تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات

قومی سلامتی کمیٹی میں عسکری اور سیاسی قیادت نے اتفاق کیا ہے کہ پارلیمنٹ کی رہنمائی میں ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان)کے ساتھ بات چیت کا معاملہ آگے بڑھایا جائے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کے مطابق آصف علی زرداری بھی طالبان سے مذاکرات کے حق میں ہیںاور آئین وقانون کے مطابق ہی امن لایا جائے گا، خلاف آئین کوئی بات نہیں مانی جائے گی، ارکان پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کے لیے ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے گااور وزیراعظم شہباز شریف مذاکرات پر ایوان کو اعتماد میں لیں گے ۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق بدھ کو وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے ساتھ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس میں اہم معاملات پر پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہواجس میں کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات پر شرکاء کو اعتماد میں لیا گیااور طے پایا ہےکہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات آئین پاکستان کے تحت ہوں گے اور یہ مذاکرات پارلیمنٹ کی گائیڈ لائنزکے مطابق ہوں گے۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف علی زرداری قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شریک تھے ، وہ بھی اس کے حق میں تھے کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات ہونے چاہئیں۔وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بتایاگیا ہے کہ افغان حکومت کی سہولت کاری سے ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری ہے جس میں حکومتی قیادت میں سول اور فوجی نمائندوں پر مشتمل کمیٹی نمائندگی کرتے ہوئے آئین پاکستان کے دائرے میں بات چیت کررہی ہے لیکن حتمی فیصلہ آئین پاکستان کی روشنی میں پارلیمنٹ کی منظوری، مستقبل کے لیے فراہم کردہ راہنمائی اور اتفاق رائے سے کیاجائے گا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ بات چیت کا مثبت عملی جاری رہنا چاہیے اور اِس بات چیت کو جلد ازجلد نتیجہ خیز ہونا چاہیے اور خوش آئند ہے کہ افغان حکومت مذاکرات میں سہولت کاری کررہی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ سابقہ حکومتوں کے ادوار میں بھی بات چیت ہوئی خصوصاً تحریک انصاف کی حکومت کے دوران جب افغانستان سے اتحادی افواج کا انخلا مکمل ہوا ،
تب یہی تصور کیا جارہا تھا کہ طالبان حکومت
اپنی افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف کسی صورت استعمال نہیںہونے دے گی بلکہ ایسے مسلح گروپس جو ریاست پاکستان کے خلاف مسلح کارروائیوں میں مسلسل ملوث رہے ہیں ان گروپوں کو بھی روکے گی لیکن طالبان حکومت آنے کے بعد بھی افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جاتا رہا، اگرچہ اِس بار صورتحال پہلے جیسی نہیںتھی جب امریکہ کی موجودگی میں افغانستان میں موجود بھارتی قونصل خانے دہشت گرد گروپوں کو منظم کرکے پاکستان کے خلاف دہشت گرد کا کھلم کھلا ارتکاب کررہے تھے اور اشرف غنی بطور صدر آنکھیں موند کر سب کچھ دیکھے جارہے تھے،
افغانستان میں طالبان حکومت آنے کے بعد اِس لیے امن کی امید تھی کیونکہ بھارت افغانستان سے اپنا سازو سامان لپیٹ کر جاچکا تھا اور اِس کو چھتری فراہم کرنے والے اشرف غنی بھی وہاں نہیں تھے اِس لیے مسلح گروپوں کو اپنی کارروائیوں کے لیے وسائل اتنی آسانی سے دستیاب نہیں تھے جتنی آسانی سے بھارت، افغانستان میں موجود رہ کر اِن مسلح گروپوں کو فراہم کررہا تھا۔
طالبان حکومت کے دوران میں بھی تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا عمل شروع کیاگیا اور تب بھی افغان حکومت مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کررہی تھی لیکن ٹی ٹی پی نے مختصر جنگ بندی کے بعد دوبارہ مسلح کارروائیوں کا آغاز کردیا اِس کے نتیجے میں پاکستان میں ایک بار پھر دہشت گردی کے واقعات رونما ہونا شروع ہوگئے اور ٹی ٹی پی نے برملا اِن کارروائیوں کا اعتراف بھی کیا، سابقہ حکومت دعوے دار تھی کہ ٹی ٹی پی کے تمام گروپس نہیں بلکہ چند گروپس مذاکرات پر رضا مند ہیں اور حکومت وقت چاہتی ہے کہ انہیں غیر مسلح کرکے عام پاکستانی شہری جیسا بنایا جائے، تب بھی حکومت نے واضح موقف اختیار کیا تھا کہ صرف اُنہی سے مذاکرات کیے جائیں گے جو ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہونے کے لیے رضا مند ہوں گے۔
اُبھی چونکہ حالیہ مذاکرات کے بارے میں اتنی تفصیلات سامنے نہیں آئیں اِس لیے کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہوگا مگر واضح رہنا چاہیے کہ ریاست پاکستان نے پرائی جنگ کے نتیجے میں اسی ہزار کے لگ بھگ قربانیاں پیش کی ہیں، معیشت کو جو ناقابل تلافی نقصان پہنچا اِس کا بھی کوئی شمار نہیںبلکہ پاک فوج اور دوسرے سکیورٹی ادارے آج بھی دہشت گرد عناصر کے خلاف برسرپیکار ہیں اور اب بھی قوم کے بیٹے وطن عزیز اور امن کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں، قربانیوں کے طویل سلسلے کے نتیجے میں ہی آج وطن عزیز امن کا گہوارہ بنا ہے ۔
پاکستان امن پسند ریاست ہے اور کسی دوسری ریاست کے معاملات میں قطعی مداخلت کو پسند نہیں کرتی، تاہم جہاںبھی انسانی جانوں کا معاملہ آتا ہے پاکستان محدود وسائل اور تمام تر معاشی مشکلات کے باوجود سب سے پہلے پہنچتا ہے، پاکستان نے پہلے بھی موقف اختیار کیا تھا کہ افغانستان میں طاقت کا استعمال کرنے کی بجائے معاملات کو افہام و تفہیم کے ساتھ حل کرلیا جائے لیکن امریکہ اور دوسری طاقتوں نے اُس وقت پاکستانی موقف کو اتنی زیادہ اہمیت نہیں دی لیکن دو دہائیوں میں ناقابل تلافی نقصان اٹھانے کے بعد پاکستانی موقف کو برملا تسلیم کرلیاگیا، پاکستان آج بھی کوشاں ہے کہ افغانستان کے معاملے پر انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کیا جائے کیونکہ افغان عوام نسل در نسل شدید ترین مسائل کا سامنا کررہے ہیں،
پاکستان نے ہمیشہ امن پسند ریاست کے طور پر ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اسی لیے چاہتا ہے کہ ٹی ٹی پی معاملات کو افہام و تفہیم یعنی پرامن انداز میں حل کرے اور مسلح کارروائیوں کو ختم کرکے مذاکرات کو کامیاب بنانے میں اپنی ذمہ داری ادا کرے۔ ٹی ٹی پی کے دھڑوں کو سمجھنا چاہیے کہ عالمی سطح پر ان کے بارے میں خدشات پائے جاتے ہیں کہ وہ بھارتی ایما پر پاکستان میں مسلح کارروائیوں میں ملوث ہیں، اِس لیے اگر یہ خدشات غلط ہیں تو مذاکرات کی کامیابی اور مسلح کارروائیوں کا خاتمہ کرکے اِس داغ کو دھویا جاسکتا ہے۔ پاکستان تمام تر مشکلات کے باوجود افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گالیکن افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا،
پاکستانی قوم اور افواج پاکستان کی بے مثال قربانیوں کی بدولت ملک بھر میں ریاستی عمل داری ، امن کی بحالی اور معمول کی زندگی کی واپسی کو یقینی بنایاگیا ہے۔ آج پاکستان کے کسی حصے میں بھی منظم دہشت گردی کا کوئی ڈھانچہ باقی نہیں رہا تاہم دہشت گردوں کی اِکا دُکا باقیات اپنی موجودگی ظاہر کرنے کے لیے دہشت گردی کی کارروائیاں کرتی رہتی ہیں مگر پاک فوج اور سکیورٹی فورسز ان کی بیشتر کارروائیوں کو قبل از وقت ہی ناکام بنادیتی ہیں۔
ہم امید کرتے ہیں کہ اِس بار ٹی ٹی پی سے مذاکرات کامیاب ہوں اور وہ اپنی مسلح کارروائیاں ترک کرکے عام پاکستانی کی حیثیت سے قومی دھارے میںشامل جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button