Ahmad NaveedColumn

بھارتی عدالتوں کو سونے دیں ۔۔ احمد نوید

احمد نوید

ایک کہاوت ہے ، بھینس کے آگے بین بجانا ۔ یہ کہاوت آج کل بھارتی عدالتوں پر فٹ بیٹھ رہی ہے۔ بھارتی عدالتیں آنکھیں بند کئے خود ساختہ مست ماحول میں جگالی کیے جا رہی ہیں اور پورے بھارت میں مظلوم مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں مگر بھارت کی عدالتوں کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا ۔

یہی رویہ روم کے شہنشاہ نیرو کا تھا جب روم جل رہا تھا ۔ کہتے ہیں روم میں لگنے والی اُس آگ سے ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے اور سینکڑوں لقمہ اجل بنے ۔ نیرو اس آگ پر قابو پا سکتا تھا مگر وہ اپنے محل میں بیٹھا بانسری بجاتا رہا اور اُس نے روم شہر کو اس لیے بھی جلنے دیا کہ اُسے شہر کا جمالیات پسند نہیں تھا۔ اُس کا خیال تھا کہ شہر کا جو حصہ جل گیا وہ نیا بنا لیں گے ۔ ایک روایت یہ بھی ملتی ہے کہ نیرو نے روم میں عیسائیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے  اس آگ کو استعمال کیا۔ نیرو نے سینکڑوں عیسائیوں کو آگ کے بہانے سے گرفتار کرکے تشدد کیا اور بہت سوں کو آگ لگانے کے الزام میں پھانسی کے گھاٹ چڑھا دیا۔
آج بھارتی وزیراعظم اور نیرو میں کوئی فرق نہیں ۔ توہین رسالت پر بھی جب بھارتی مسلمان سراپا احتجاج ہوئے تو احتجاج کرنے والے مسلمانوں کو پکڑ کر نہ صرف مارا پیٹا گیا بلکہ بہت سے مسلمانوں کے گھر بلڈوزرز کی مدد سے گرا دئیے گئے۔ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کا یہ منظر نامہ گزشتہ چند دنوں پر مشتمل نہیں ہے بلکہ یہ گزشتہ آٹھ سالوں سے دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ مگر افسوس نہ دنیا کے کان پر جوں رینگ رہی ہے اور نہ ہی اقوام متحدہ کو کوئی فرق پڑ رہا ہے۔ رہی سہی کسر بھارتی عدالتوں نے پوری کر دی ہے ۔ توہین آمیزبیان سے قبل مسلمانوں کے کاروبار ختم کیے جا رہے تھے ۔
مسلمانوں کو مارا پیٹا جا رہا تھا، اب مسلمانوں کے سر سے چھت بھی چھینی جا رہی ہے ۔ ریاست اتر پردیش کے علاقے پریاگ راج کے رہائشی مسلم سوشل ویلفیئر محمد جاوید کا گھر بلڈوزر سے گرا دیا گیا ، یہاں اسی علاقے میں امام الدین عالم کی گرو سری کی دکان کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا جبکہ اس سے قبل جب جمعہ کی نماز کے بعد مسلمانوں نے توہین رسالت کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلے تو یہ احتجاج پر تشدد جھڑپوں کی شکل اختیار کر گیا۔ ان پر تشدد جھڑپوں میں سینکڑوں مسلمان زخمی ہوئے اور سینکڑوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ بھارت میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے ۔ بی جے پی کے رہنما پر تشدد بیانات دے رہے ہیں ۔ اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے انتظامیہ کو حکم دیا کہ مظاہروں میں ملوث مسلمانوں کے گھروں کو منہدم کر دیا جائے ۔ ایسے سخت بیانات اور احکامات کے باوجود بھارتی عدالتیں نیرو کی طرح بین بجا رہی ہیں ۔ وہ نہ مودی سے سوال کرنے کی گستاخی کر رہی ہیں نہ مسلمانوں کے خلاف پولیس تشدد کی سرزنش، کیا فرق پڑتا ہے ۔ کسے فرق پڑتا ہے ۔ جب بھارت کے مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری تسلیم کر لیا گیا تو بولے گا کون۔
کبھی حجاب کا مسئلہ ، کبھی گوشت کے کاروبار کی ممانعت ، ہندو انتہا پسند راہ چلتے مسلمانوں کو پکڑ کر ماریں پیٹیں ، باجے شری رام کے نعرے لگوائیں ۔ کون ہے مداخلت کرنے والا۔ بیچارے نصیرالدین شاہ جان ہتھیلی پر رکھ کر ہندو سماج کا ضمیر جگانے کی کوشش کرتے ہیں مگر ہر بار اُنہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے ۔ اس بار بھی حالیہ انٹرویو میں اداکار نصیر الدین شاہ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے درخواست کی کہ وہ مسلمانوں کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کا نوٹس لیں  مگر اُن موصوف کو پہلے کب فرق پڑا ہے جو اب پڑے گا۔ بھار ت میں مودی اور بی جے پی کی اعلیٰ قیادت مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزیوں پر خاموش ہے ۔ جبکہ دیگر چھوٹی جماعتوں اور سماجی شخصیات بھی ہندو اکثریت کی نفرت اور مخالفت کی وجہ سے مسلمانوں کے معاملے میں مداخلت کرنے سے اجتناب کر رہی ہیں ۔
مسلمانوں کے خلاف اتنہا پسند ہندوئوں کے روئیے کے خلاف انڈین فلم انڈسٹری کے مسلمان اداکار بھی خاموش ہیں ۔ نصیرالدین شاہ نے مسلمان اداکاروں اور خاص طور پر تینوں خانوں کی خاموشی پر کہا تھا کہ شائد اُن کے پاس بہت کچھ ہے کھونے کو ۔ یقیناً یہ تینوں خان اپنی دولت شہرت اور عزت کھونا نہیں چاہتے مگر افسوس ہے ایسی شہرت ، دولت اور عزت پر جو ضمیر کو مردہ کر کے خریدی جا ئے ۔ میرا مشورہ ہے یہ تینوں خان اپنے گھروں سے آئینے اُتار دیں۔
گزشتہ دنوں بھارتی صحافی رعنا ایوب نے ایک ٹویٹ کی تھی کہ عدالتوں کو مت جگائیں ۔ اس بات میںبال برابر شک نہیں کہ آج بھارتی عدالتیں انصاف کی فراہمی میں ناکام ہیں ۔ حکومتی رہنمائوں کو بھی حکومتی روئیے پر شرمندگی یا ندامت نہیں ۔ قوم پرست ہندو ہاتھوں میں تلواریں لاٹھیاں اُٹھائے گلی محلوں میں مسلمانوں کو روک کر نسل کشی کی دھمکیاں دیتے ہیں۔
کبھی حجاب والی لڑکیوں اور خواتین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کبھی مساجد کی بے حرمتی کی جاتی ہے حتٰی کہ مساجد کو آگ تک لگائی جا رہی ہے۔ رام نومی جلوسوں کے بعد مدھیہ پردیش کی حکومت نے 16مکانات اور 29دکانوں کو بلڈوز کردیا ۔ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھارتی عدالتوں کو ذرا شرمندگی نہیں اور غالباً اُنہیں اس بات کی بھی شرمندگی نہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ اس ناروا سلوک اور غیر انسانی روئیوں پر ہندوستان کو عالمی دنیا میں شدید ذلت کا سامنا ہے۔
توہین رسالت پر قطر پہلا ملک تھا جس نے بھرپور سٹینڈ لیا۔نیرو بہت طاقتور تھامگر اُس کے غیر مناسب روئیوں اور آمرانہ سوچ کے خلاف روم میں بغاوت ہوئی تو رومی شہنشاہ گالبا کی حمایت سے نیرو کو عوامی دشمن قرار دے دیا گیا۔ اُسے موت کی سزا سنائی گئی مگر وہ روم سے فرار ہو گیا اور اُس نے اپنی شرمناک زندگی کا خاتمہ خود کشی کر کے کیا۔
مودی اپنی شرمناک زندگی کا خاتمہ کس طرح کرے گا یہ وقت بتائے گا مگر فی الحال ضروری ہے کہ بھارتی چیف جسٹس سپریم کورٹ کی نیند کے ساتھ ساتھ باقی بھارتی عدالتوں کی نیند کا احترام کیاجائے۔ بھارتی عدالتیں سور ہی ہیں۔ ہارن بجانا منع ہے،شور بھی مت کریں، کوئی بات کرنی ہے تو سرگوشی میں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button