ColumnMazhar Ch

قابل تجدید توانائی پر توجہ کیوں نہیں

مظہر چودھری
ایک ایسے وقت میں جب دنیا توانائی کے قابل تجدید ذرائع پر سرمایہ کاری بڑھا رہی ہے ہم اپنی انرجی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے توانائی کے ناقابل تجدید ذرائع پرہی فوکس کیے ہوئے ہیں۔جہاں ایک طرف دنیا بھر میں سولر، ہوا اور پانی کے نئے منصوبوں کا ریکارڈاضافہ دیکھنے میںآ رہا ہے وہیں پاکستان میں کوئلے، تیل اور گیس پر چلنے والے منصوبے زیادہ شروع کیے جا رہے ہیں۔اگرچہ گذشتہ کئی سالوں سے توانائی کے قابل تجدید ذرائع پر کی جانے والی سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے لیکن 2015کے بعد سے نہ صرف قابل تجدید توانائی کے ذرائع میں کی جانے والی سرمایہ کاری کوئلے، تیل اور گیس سے چلنے والے پلانٹس کی نسبت دوگنا ہو گئی ہے بلکہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ترقی پذیر ملکوں نے قابل تجدید توانائی پر ترقی یافتہ ممالک سے زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2021 میں قابل تجدید انرجی کے منصوبے لگانے کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے ہیں۔ روس یوکرین جنگ کے تناظر میں جرمنی سمیت ایسے یورپی ممالک میں قابل تجدید توانائی کے منصوبوں میں تیزی سے اضافہ ہوتا دکھائی دے گا جن کے فوسل فیول سے بجلی پیدا کرنے کا زیادہ انحصار روسی تیل اور گیس پر تھا۔اس وقت دنیا بھر میں 300گیگا واٹ سے زائد انرجی قابل تجدید ذرائع سے حاصل کی جا رہی ہے جب کہ 2017میں یہ صلاحیت160گیگا واٹ تک محدود تھی۔رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں قابل تجدید ذرائع سے حاصل ہونے والی کل320 گیگا واٹ انرجی میں سے آدھی کے قریب صرف چین پیدا کر رہا ہے۔
توانائی کے قابل تجدید ذرائع پر سرمایہ کاری کے حوالے سے پاکستان کی موجودہ صورتحال حوصلہ افزاء نہیں۔ہم اپنی کل ضروریات کا 31فیصد قابل تجدید ذرائع سے جبکہ 69فیصد ناقابل تجدید ذرائع سے حاصل کر رہے ہیں ۔قابل تجدید ذرائع سے حاصل ہونے والی کل31فیصد بجلی میں سے 26 فیصدپانی سے جبکہ بقیہ 5فیصدسولر اور ونڈ انرجی سے پیدا کی جا رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں ناقابل تجدید ذرائع سے حاصل ہونے والی بجلی میں سے 15فیصدفرنس آئل ، 25فیصد ایل این جی،12 فیصد نیچرل گیس، 9فیصد کوئلے اور8فیصد نیوکلیئر پاور سے پیدا کی جارہی ہے۔پاکستان اکنامک سروے کے مطابق اس وقت بجلی پیدا کرنے کی کل صلاحیت41ہزار میگا واٹ سے زیادہ ہے ۔ملک بھر میں نجی اور صنعتی سطحوں پر زیادہ سے زیادہ طلب29ہزار میگا واٹ ہے لیکن بجلی کی ترسیل اور تقسیم کی صلاحیت صرف 22ہزار میگاواٹ تک محدود ہونے کی وجہ سے بجلی کی طلب انتہا درجے تک پہنچنے کی صورت میں 7ہزار میگاواٹ تک کا شارٹ فال پیدا ہوجاتا ہے۔ایسی صورت حال میں سسٹم میں زیادہ بجلی ہونے کے باوجودشارٹ فال برقرار رہتا ہے جس کے نتیجے میںعوام کو چھ سے آ
ٹھ گھنٹوں تک کی لوڈ شیڈنگ برداشت کرنا پڑتی ہے۔
پاکستان پانی کے ذریعے ایک لاکھ میگاواٹ تک بجلی پیداکرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن ہم صرف سات سے آٹھ ہزارمیگاواٹ بجلی پانی سے پیدا کرتے ہیں ۔ہائیڈل پاور سے پیدا ہونے والی بجلی کی فی یونٹ لاگت2روپے سے بھی کم ہے جبکہ دیگر ذرائع سے پیداہونے والی بجلی کی قیمت اوسطاً 16روپے فی یونٹ رہتی ہے۔ ہائیڈل پاور کے علاوہ ونڈ پاور اور سولر پاور قابل تجدید توانائی کے ذرائع ہیں۔ پاکستان کی ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی کل صلاحیت 1000میگاواٹ کے قریب ہے۔ یو ایس ایڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 750کلومیٹر کی ساحلی پٹی کے علاوہ سندھ، بلوچستان اور کشمیر کے بیشتر علاقوں میں ونڈ ملز فارمزلگا کر تھرمل اور شمسی توانائی کی نسبت کم لاگت میں ڈیڑھ لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ اکیلے سندھ کوریڈورمیں چالیس ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔
پاکستان جیسے گرم ملک میں جہاں پانچ سے سات ماہ گرمی پڑتی ہے ، ہزاروں میگاواٹ بجلی سولر پاور سے حاصل کی جا سکتی ہے لیکن بدقسمتی سے ابھی ہم سولر پاور سے صرف 450میگاواٹ بجلی حاصل کر رہے ہیں۔توانائی کے قابل تجدید ذرائع پر سرمایہ کاری بڑھانے سے نہ صرف مستقبل کی انرجی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکتا ہے بلکہ صنعتوں اورگھریلو استعمال کے لیے کم قیمت بجلی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔ شمسی ذرائع سے بجلی پیدا کرنے والے آلات پر درآمدی ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس ختم ہونے سے بہت سے گھرانے شمسی توانائی پر منتقل ہو رہے ہیں۔گھریلو سطح پر شمسی ذرائع سے بجلی پیدا کرنے والے آلات پر سبڈی دینے سے اکثر گھرانے شمسی توانائی پر منتقل ہو سکتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ آنے والے چند سالوں میں پاکستان میں ہائیڈل پاور اور سولر پاور کے درجنوں منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچنے کے امکانات ہیںلیکن فی الوقت تھرمل بجلی پر زیادہ انحصار ہونے کی وجہ سے بجلی کی فی یونٹ قیمت بہت زیادہ پڑ رہی ہے۔ بدقسمتی سے گذشتہ حکومتوں کے دور میں ماحول دوست قابل تجدید توانائی کے منصوبوں پر فوکس کرنے کی بجائے سارا زور تھرمل پاور پلانٹس لگانے پر رہاجس کا نتیجہ مہنگی بجلی کی صورت میں ساری قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ہائیڈل پاور کے زیر تعمیر منصوبوںمیں داسو ڈیم اور دیامیر بھاشا ڈیم نمایاں ہیں جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 9ہزار میگا واٹ کے قریب ہے لیکن یہ دونوں منصوبے بالترتیب2025 اور2029 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
گزشتہ چند سالوں سے تھر میں کوئلے سے قدرے سستی بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ شروع کیا گیا لیکن فی الوقت وہاں سے حاصل ہونے والی بجلی بھی دس روپے فی یونٹ تک پڑ رہی ہے۔اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان کے لیے یہ منصوبہ کئی لحاظ سے سستا اور دیر پااہمیت کا حامل ہے لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم ایک ایسے وقت میں کوئلے سے سستی بجلی پیدا کرنے کے پلانٹس دھڑا دھڑ لگا نے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جب دیگر ممالک نے کوئلے سے چلنے والے پاور پلا نٹس کے نتیجے میں ہونے والی شدیدآلودگی کے بھیانک اثرات کو دیکھتے ہوئے بتدریج کول پاور پلانٹس سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔بھارت نے تقسیم کے فوری بعد 1948میں تھر پارکر کے ساتھ منسلک علاقے راجستھان میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا کام شروع کر دیا تھا جبکہ ہم 70سال بعد تھر پارکر سے کوئلہ نکال رہے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں ابھی بھی سب سے زیادہ بجلی (37فیصد) کوئلے سے ہی پیدا کی جا رہی ہے لیکن آنے والی دو دہائیوں میں چین اور بھارت سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے رجحان میں نمایاں کمی جبکہ قابل تجدید(سولر، ونڈ، نیوکلیئر) ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی شرح میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ایک اندازے کے مطابق 2040میں عالمی سطح پر سب سے زیادہ بجلی (40 فیصد) قابل تجدید ذرائع سے حاصل ہو گی جس میں سب سے بڑا حصہ سولر انرجی کا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button