تازہ ترینخبریںسیاسیات

نئی کابینہ کے اعلان اور وزارتوں کی تقسیم پر اتحادی حکومت سے ناخوش کیوں؟

وزیراعظم شہباز شریف نے بالآخر 33 رکنی وفاقی کابینہ تشکیل دے دی ہے تاہم حکمران اتحاد میں اس حوالے سے کچھ تلخیاں برقرار ہیں۔

حسب توقع صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نئی کابینہ کے ارکان سے حلف نہیں لیا اور یہ آئینی فریضہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ادا کیا۔

اگرچہ 33 ارکان اسمبلی نے حلف اٹھایا لیکن کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں 26 وفاقی وزرا اور 2 وزرائے مملکت کے نام شامل ہیں، ان کے علاوہ وزیراعظم نے 3 مشیر بھی مقرر کیے ہیں۔

وزیراعظم آفس (پی ایم او) کے ذرائع نے بتایا کہ کابینہ کے 5 ارکان کا قلمدان ابھی زیر غور ہے جن کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے، ان میں خرم دستگیر خان، عبدالرحمن کانجو، ریاض پیرزادہ، سردار ایاز صادق اور مرتضیٰ جاوید عباسی شامل ہیں۔

کچھ لوگوں نے کابینہ کو اس کے اراکین کے انتخاب کے حوالے سے بہترین قرار دیا جن میں 2 پی ایچ ڈی فنانس، ڈاکٹر مفتاح اسماعیل اور ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا شامل ہیں۔

تاہم حکمران اتحاد کی 2 اہم جماعتوں، پاکستان مسلم لیگ-نواز (پی ایم ایل-این) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) میں کابینہ کے لیے اپنے اراکین کے انتخاب اور محکموں کی تقسیم پر تحفظات موجود ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے ذرائع نے بتایا کہ کابینہ کے ارکان کے انتخاب اور ان کے درمیان محکموں کی تقسیم پر پارٹی کے اندر اختلافات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز پارٹی کے تجربہ کار رہنماؤں کے ناموں پر غور نہ کیے جانے پر وزیر اعظم سے ’ناخوش‘ ہیں جن کی پارٹی کے سپریم لیڈر نواز شریف کے ساتھ قریبی اور طویل رفاقت ہے جو اس وقت برطانیہ میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

ذرائع نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے مبینہ نواز کیمپ کے صرف ایک رکن جاوید لطیف کو کابینہ میں شامل کیا جنہوں نے کل حلف نہیں اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شریف کا نعرہ ’موزوں کام کے لیے موزوں شخص‘ کابینہ کے ارکان کے انتخاب سے ظاہر نہیں ہوا کیونکہ نواز شریف کے قریبی ساتھیوں کو بظاہر نظر انداز کر دیا گیا ہے، جن میں عرفان صدیقی، پرویز رشید، محمد زبیر، دانیال عزیز، مصدق ملک، طلال چوہدری، برجیس طاہر، طارق فاطمی اور ظفر اللہ خان شامل ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے نواز شریف کیمپ کا خیال ہے کہ تعلیم کے شعبے میں 25 سال سے زائد عرصے کا تجربہ رکھنے والے عرفان صدیقی کو نظر انداز کیا گیا اور رانا تنویر کو تعلیم کا قلمدان سونپا گیا۔

مزید برآں افواہوں کا سلسلہ روکتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری فی الحال کابینہ میں شامل نہیں ہوئے، اسی طرح پی پی پی کے ایک اور رہنما مصطفی نواز کھوکھر نے مبینہ طور پر وفاقی وزارت نہ دیے جانے اور خود پر جونیئر پارٹی رہنماؤں کو ترجیح دیے جانے پر وزیر مملکت بنائے جانے کی پیشکش مسترد کردی۔

پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو گزشتہ رات برطانیہ روانہ ہوگئے ہیں اور امکان ہے کہ وہ لندن میں نواز شریف سے ملاقات کریں گے تاکہ وفاقی کابینہ کی تشکیل پر اپنی پارٹی اور دیگر اتحادیوں کے تحفظات کا اظہار کیا جا سکے، پیپلز پارٹی کی نظریں 2 آئینی دفاتر صدر اور گورنر پنجاب پر بھی ہیں۔

پی پی پی ذرائع نے مزید کہا کہ پارٹی قیادت ارکان اسمبلی کے انتخاب اور بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی)، بلوچستان عوامی پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی جیسے اتحادیوں کو نظر انداز کیے جانے پر ناراض ہے، جنہیں پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے حکومت میں حصہ داری کی ضمانت دی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مبینہ طور پر جے یو آئی-ایف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے مخالفت کے سبب اے این پی اور آزاد ایم این اے محسن داوڑ کو وفاقی کابینہ میں بظاہر کوئی جگہ نہیں ملی۔

تاہم چند روز قبل آصف زرداری نے مولانا فضل الرحمٰن کو واضح کیا تھا کہ وہ اپوزیشن اتحاد میں ایک ’ضامن‘ ہیں اور انہوں نے اے این پی اور محسن داوڑ سے ایک، ایک وزارت کا وعدہ کیا تھا تاکہ وہ پی ٹی آئی کی پچھلی حکومت کو گرانے کی کوششوں میں ساتھ دیں۔

دوسری جانب بی این پی نے گزشتہ ہفتے چاغی میں مظاہرین پر سیکیورٹی فورسز کی مبینہ فائرنگ کے خلاف احتجاجاً کابینہ کا حصہ بننے سے انکار کردیا۔ کابینہ کے ارکان کی حلف برداری کی تقریب پیر کو ہونی تھی لیکن صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے ارکان اسمبلی سے حلف لینے سے انکار کے بعد حکومت کو تقریب منگل تک ملتوی کرنا پڑی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button