Editorial

پنجاب میں نمبر گیم کی دوڑ اور دعوے

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے حلیف جماعت مسلم لیگ قاف سے معاملات طے پانے کے باوجود حزب اختلاف مطمئن ہے کہ مرکز اور پنجاب میں عدم اعتماد کے بازی ابھی بھی اُن کے ہاتھ میں ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے حلیف چودھری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب نامزد کیا تو وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے فیصلے کو خوش دلی سے قبول کیا اِس کے ساتھ ہی یہ بحث بھی شروع ہوگئی کہ بازی اب پلٹ گئی اور اب حکمران جماعت کی پوزیشن مضبوط ہے لیکن آصف علی زرداری نے دعویٰ کردیا ہے کہ چودھری پرویز الٰہی نے بہت دیر کردی اب فیصلہ ہم کریں گے، یعنی حزب اختلاف اب عثمان بزدار کی بجائے چودھری پرویز الٰہی کو اپنا ہدف بنائے گی ۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کاخیال ہے کہ سیاسی صورتحال72گھنٹے میں میں واضح ہو جائے گی اور 30سے 31مارچ تک آر یا پار ہوجائے گااور عدم اعتماد کا فیصلہ آجائے گالیکن عمران خان آخری گیند تک کھیلیں گے۔اگرچہ پنجاب میں نمبر گیمز دیکھی جائے تو حکمران جماعت کو پنجاب اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل ہے کیونکہ جہانگیر ترین اور علیم خان گروپ کو شامل کرکے پی ٹی آئی کی اپنی 183نشستیں ہیں، اتحادی جماعت مسلم لیگ قاف کے 10اراکین ، پاکستان راہ حق کا ایک اور دو آزاد اراکین اسمبلی کی بھی حکمران جماعت کو حمایت حاصل ہے جبکہ مسلم لیگ نون کے فارورڈ بلاک کے سات اراکین بھی چودھری پرویز الٰہی کی حمایت کے دعوے دار ہیں ۔

اِس کے برعکس مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے ساتھ تین آزاد اراکین کو بھی شامل کرلیا جائے تو بھی حزب اختلاف موجودہ اعدادو شمار سے بہت دور ہے، لیکن آصف علی زرداری کے دعوے کو دیکھا جائے تو عین ممکن ہے کہ یہاں بھی ’’ضمیر جاگے‘‘ سامنے آجائیں جیسے اسلام آباد کے سندھ ہائوس سے برآمد ہوئے تھے کیوں کہ پہلی بار ’’چھانگا مانگا‘‘ کو عالمی شہرت بھی یہیں سے حاصل ہوئی تھی لیکن اگر ایسے ’’ضمیر جاگے‘‘ کسی بھی موقعہ پر سامنے آگئے تو یہ ملک و قوم کے لیے المیہ سے کم نہ ہوگا پھر تو صاف ظاہر ہوگا کہ پولنگ سٹیشن ہو یا پھر ایوان، ووٹ خریدے اور بیچے جاتے ہیں اِس سے تو یہی ظاہر ہوا کہ سیاست میں حصہ لینے کا مقصد صرف اور صرف اپنی کایا پلٹنا ہوتا ہے باقی ملک و قوم کی خدمت کے سارے دعوے صرف ووٹر کو متاثر کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔

کبھی ہم ووٹ کوعزت دینے کا مطالبہ کرتے ہیں تو کبھی خود ہی ہارس ٹریڈنگ کرکے اِس کو ضمیر کی آواز یا ضمیر جاگنا قراردے دیتے ہیں، سیاسی قیادت حصول اقتدار کے لیے قیام پاکستان بالخصوص 1973ء کے بعد سے جو کچھ کرتی آئی ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، آج تک کسی ایک منتخب وزیراعظم پاکستان نے اپنی آئینی مدت پانچ سال پوری نہیں کی، ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں صرف میاں شہبازشریف اور چودھری پرویز الٰہی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے اپنی آئینی مدت پوری کی وگرنہ جس طرح وفاق میں وزیراعظم کی ٹانگیں کھینچی گئیں ویسے ہی پنجاب میں بھی، ہم صوبہ سندھ اور
بلوچستان کی مثالیں دیتے ہیں وہاں بھی اسی بے صبری اور بے چینی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدم اعتماد پیش ہوئیں یا پھر کسی آئینے حربے کے ذریعے وزیراعلیٰ کو کرسی سے ہٹایاگیااگرچہ ماضی قریب میں مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کو بطور پارٹی اپنی پانچ پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرنے کا موقعہ ملا اور اِسی تسلسل کے بعد 2018ء کے عام انتخابات میں موجودہ حکومت تشکیل پائی مگر دیکھا جائے تو اِن پانچ پانچ سالوں میں دونوں پارٹیوں کا ایک وزیراعظم بھی اپنی آئینی مدت پانچ سال پوری نہیں کرسکا، بظاہر اِن دونوں ادوار میں عدالتی فیصلے اوردیگر وجوہات وزرائے اعظم کی تبدیلی کا سبب بنے لیکن آج تک کسی منتخب وزیراعظم پاکستان کو پانچ سال پورے کرنے کا موقعہ نہیں ملا۔

اگرچہ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی موجودہ حکومت کے خلاف ہیں لیکن کئی دہائیوں تک اِن دونوں بڑی پارٹیوں کی سیاست ایک دوسرے کے خلاف ہی رہی ہے، یہاں تک کہ قیادت کی کردار کشی کی گئی اور بسا اوقات ملک دشمن یا دشمن کا ایجنٹ بھی ایک دوسرے کو قرار دیا گیا۔ بلاشبہ سیاسی قائدین ایک دوسرے کے ماضی، حال اور مستقبل سے بخوبی واقفیت رکھتے ہیں لیکن پھر بھی اُن کا اتنے قریب آجانا کم ازکم عوام کے لیے تو سمجھ سے باہر ہے۔ جمہوریت کی بالادستی اور استحکام تو صرف اسی صورت ممکن ہے جب ہم خود بھی جہوری روایات کی پاس داری کریں اور دوسروں سے بھی کرائیں،

اگرچہ تحریک عدم اعتماد حزب اختلاف کا آئینی حق ہے اور وہ اپنا آئینی حق ہی استعمال کررہے ہیں لیکن کیا عام پاکستانی کو مفت تعلیم، صحت کی بہتر سہولیات، روزگار، روٹی، کپڑا اور مکان، جان و مال کا مکمل تحفظ فراہم کرنا اُن کی آئینی ذمہ داری نہیں جو صرف تحریک عدم اعتماد کو ہی صرف آئینی حق سمجھتے ہیں ؟

پچھلے کئی مہینوں سے وطن عزیز میں معاشی لحاظ سے گھٹن کا سامنا ہے، لوگ سرمایہ کاری نہیں کررہے، سٹاک مارکیٹ روز بروز نیچے جارہی ہے، لوگوں کے اربوں روپے ڈوب رہے ہیں لیکن کسی کو پرواہ نہیں، صرف حزب اختلاف ہی نہیں بلکہ ہم تمام سیاسی قیادت سے سوال پوچھنے پر حق بجانب ہیں کہ جتنی مسافتیں اور کاوشیں آج حکومت گرانے کے لیے کی جارہی ہیں کیا عوام کو روٹی، کپڑا اورمکان دینے کے لیے کی گئیں؟ کیا صحت و تعلیم اور روزگار پیدا کرنے کے لیے اتنی سرعت دکھائی گئی؟

ہماری بدنصیبی ہے کہ ہم اُن قائدین کے پیچھے تن من نچھاور کرنے کے منتظر رہتے ہیں جنہیں یہ پتا نہیں کہ انڈے درجن کے حساب سے ملتے ہیں یا کلو کے۔ ہم ایک بار پھربات دھراتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے خلاف مرکز اور صوبے میں تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوجاتی ہے تو کیا عمران خان تھالی میں رکھ کر اِنہیں اقتدار پیش کردیں گے؟ قطعی نہیں جس طرح سیاسی عدم استحکام کئی دہائیوں سے موجود رہا ہے اسی طرح موجود رہے گا اور عین ممکن ہے کہ ماضی سے زیادہ اور نئی طرز کا ہو۔

وزیراعظم عمران خان اپنی پارٹی کا پریڈ گرائونڈ میں جلسہ کرکے اپنا شو آف پاور کرچکے ہیں اب حزب اختلاف بھی ایسا کرنے جارہی ہے، پس یہی نظر آرہا ہے کہ جب مارکیٹ میں سرمایہ کاری نہیں ہوگی، سیاسی جلسے، ریلیاں اور جلوس نکلاکریںگے،دھرنے اور احتجاج ہوں گے تو کاروبار کی کیا صورت حال ہوگی ، لوگوں کا روزگار کس طرح متاثر ہوگا اِس کا جواب نہ تو پہلے کسی کے پاس تھا نہ ہی آئندہ کسی کے پاس ہوگا اور حسب سابق سیاست دانوں کے ’’پیروں تلے ‘‘عام پاکستانی ہی ’’کچلے‘‘ جائیں گے، جنہوںنے کمانا ہے تو کھانا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button