تازہ ترینتحریکخبریں

دھمکی آمیز خط کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر

عمران خان کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے اور ایڈووکیٹ ذوالفقار بھٹہ نے سپریم کورٹ سے تحقیقات کیلئے درخواست دائرکردی ہے۔

سپریم کورٹ میں درخواست گزار نے استدعا کی کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے دکھائے گئے خط کی تحقیقات کا حکم دیا جائے۔

یہ بھی موقف اختیار کیا گیا کہ اس خط کے حوالے سے عوام کو ذہنی تناؤ سے نکالنے کیلئے فوری مداخلت کی ضرورت ہے،دھمکی آمیزخط متعلقہ سول اورفوجی قیادت کوبھجوا کرتحقیقات کروائی جائیں۔

درخواست گزار نے کہا کہ دھمکی آمیزخط انتہائی حساس اورسنجیدہ معاملہ ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اتوار کو اسلام آباد میں ہونے والے جلسے میں ایک خط کا تذکرہ کیا تھا جس میں تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔

منگل کو پارٹی ترجمانوں کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ خط 7 مارچ کو موصول ہوا، جیسے ہی خط ملا تحریک عدم اعتماد بھی فوری پیش کردی گئی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خط میں براہ راست تحریک عدم اعتماد کا ذکر ہے۔ دھمکی دی گئی کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی طاقتیں ہمیشہ سے حکومتوں پر اثر انداز ہوتی آئی ہیں مگر وہ کسی کے سامنے نہیں جھکيں گے۔

منگل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیراسد عمر نے بتایا تھا کہ وزیراعظم کو موصول ہونے والے مراسلے(خط) ميں لکھا ہے کہ عدم اعتماد کامياب نہيں ہوتی ہے تو اس کے نتائج خوفناک ہوںگے۔

اسدعمر نے بتایا کہ مراسلے سے واضع تھا کہ عدم اعتماد کی تحريک ميں بيرونی ہاتھ بھی ہے۔

اسدعمر نے مزید بتایا تھا کہ حکومت نے یہ خط چیف جسٹس آف پاکستان کے ساتھ شئیرکرنے پررضامندی ظاہر کی ہے، واضع قوانين ہيں کہ يہ راز کس کے ساتھ شيئر کيےجاسکتےہيں، ہماراخیال ہےکہ اگر کسی کو شک ہے تو ہم مراسلہ چيف جسٹس کودکھاسکتےہيں۔

وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے بتایا تھا کہ ہم چيف جسٹس آف پاکستان سے بطور چيف جسٹس يہ مراسلہ شيئرنہيں کرناچاہتے بلکہ پاکستان کے بڑے ہونے کی حیثیت سے شئیر کرنا چاہتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button