Editorial

معاشی استحکام کیلئے حکومتی اقدامات

اس میں شبہ نہیں کہ پاکستان پچھلے 5، 6سال سے انتہائی مشکل حالات سے دوچار ہے، معیشت کے حوالے سے صورت حال انتہائی گمبھیر حد تک پہنچ چکی تھی، ڈیڑھ پونے دو سال قبل ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر تھا۔ معیشت کا پہیہ رُکے رہنے سے ملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ بے روزگاری کا بدترین طوفان یہاں مسلط ہوا۔ پاکستانی روپیہ ناقص حکمت عملیوں اور اقدامات کے باعث پستیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں تسلسل کے ساتھ گرتا رہا۔ قوم مہنگائی کی چکی میں مسلسل پستی رہی، خصوصاً غریبوں کا حال انتہائی خراب ہوگیا۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے۔ اُن پر روزانہ کی بنیاد پر ہولناک حد تک مہنگائی کے نشتر انتہائی بے دردی کے ساتھ برسائے جاتے رہے۔ اس پر عوام کی مزید چیخیں نکلنے کی توجیہات انتہائی بھونڈے انداز سے پیش کی جاتی رہیں۔ مسائل بڑھتے رہے، حل کی جانب توجہ نہ دی گئی، ملکی معیشت کے ساتھ کھلواڑ کے سلسلے رکھے گئے۔ ڈالر کو بے لگام کر دیا گیا اور وہ تباہی مچاتا رہا اور غریبوں کو بدترین گرانی کے سیلاب میں مبتلا کرنے کی وجہ بنتا رہا۔ کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں تھا۔ کاروبار دشمن اقدامات رہے، جن کے نتیجے میں چھوٹے کاروبار یا تو بند ہوگئے یا تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے۔ بڑے بڑے اداروں کو اپنے آپریشنز کو محدود کرنے یا بند ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔ بے روزگاری کا بدترین طوفان آیا، کتنے ہی گھرانوں کے چولھے ٹھنڈے ہوگئی۔ کتنے ہی باپوں نے مسلسل بے روزگاری سے تنگ آکر بیوی، بچوں سمیت خودکشی کو تمام مسائل کا حل سمجھتے ہوئے موت کو گلے لگالیا، کوئی شمار نہیں۔ حالات انتہائی بدترین نہج پر پہنچ چکے تھے کہ سابق حکومت کا خاتمہ کیا گیا اور پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت نے اقتدار سنبھال کر ملک کو ڈیفالٹ کے خطرے سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس دوران بعض مشکل فیصلے بھی کرنے پڑے۔ اتحادی حکومت مدت اقتدار پوری ہونے پر ختم ہوئی تو نگراں سیٹ اپ آیا۔ انوار الحق کاکڑ کو نگراں وزیراعظم مقرر کیا گیا۔ نگراں حکومت کے آنے کے بعد کئی احسن اقدامات سامنے آئے، معیشت کی درست سمت کا تعین کیا گیا اور اس ضمن میں متواتر اقدامات یقینی بنائے گئے۔ معیشت کو پٹری پر لانے کے لیے نگراں حکومت کی کارگزاریاں کسی طور فراموش نہیں کی جا سکتیں۔ پاکستانی روپے کو اُس کا کھویا ہوا مقام واپس دلانے کے لیے نگراں حکومت کے اقدامات لائقِ تحسین ہیں۔ پچھلے مہینوں ڈالر، سونا، گندم، چینی، کھاد اور دیگر اشیاء کے اسمگلروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کریک ڈائون کا آغاز کیا گیا، جس کے نتیجے میں اربوں ڈالرز برآمد کیے گئے، اربوں روپے مالیت کی ذخیرہ اور اسمگل شدہ اشیاء کی برآمدگی ہوئی۔ اس کے نتیجے میں ڈالر کے پر کُترنے میں مدد ملی اور پاکستانی روپے نے استحکام حاصل کرنا شروع کیا۔ ڈالر جو 330روپے کی سطح پر پہنچا ہوا تھا اب 280روپے پر آچکا ہے۔ اسی طرح پٹرول کی قیمت بھی 330روپے سے متجاوز تھی جو اب 275روپے فی لٹر دستیاب ہے۔ اس کے نتیجے میں آٹا، چینی اور کھاد کی قیمتوں میں بھی زیادہ نہ سہی لیکن کچھ کمی ضرور آئی۔ اسی طرح ملکی معیشت پر عرصہ دراز سے بوجھ غیر قانونی مقیم غیر ملکی باشندوں کو پاکستان بدر کرنے کا بڑا فیصلہ بھی نگراں حکومت کے دور میں سامنے آیا، لاکھوں غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کو اُن کے وطن واپس بھیجا جا چکا ہے۔ اس فیصلے سے معیشت پر بوجھ میں خاصی کمی آئی۔ جرائم کی شرح میں بھی کمی دیکھنے میں آئی اور آئندہ بھی ان فیصلوں کے مثبت اثرات ظاہر ہوں گے۔ ایس آئی ایف سی کی جانب سے اقدامات کے نتیجے میں سعودی عرب، چین، کویت، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر ممالک کے ساتھ بڑی سرمایہ کاری کے اہم معاہدات طے پائے گئے۔ ان شاء اللہ ان کے بھی مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ گزشتہ روز معاشی استحکام کے لیے کی گئی اپنی کوششوں کا احاطہ نگراں وزیراعظم نے بھی کیا ہے۔ انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ نگران حکومت نے اپنی قلیل مدت میں ملک کو معاشی استحکام کی جانب گامزن کرنے کے لیے بڑے دیرینہ مسائل حل کیے ہیں، اس دوران ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کے لیے بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کو تمام سہولتیں مہیا کرنا حکومت کی اولین ترجیح رہی ہے، حکومت نے اس بنیادی اصول پر عمل پیرا ہو کر مثبت نتائج حاصل کیے ہیں۔ کراچی الیکٹرک (کے ای) کے مختلف امور کے حوالے سے جائزہ اجلاس نگران وزیراعظم کے زیر صدارت ہوا، جس میں وزیر توانائی محمد علی، متعلقہ اعلیٰ حکام اور کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شریک ہوئے، کراچی الیکٹرک کے وفد نے وزیر اعظم اور ان کی ٹیم کا کمپنی کو درپیش دیرینہ مسائل حل کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کراچی الیکٹرک کو درپیش باقی ماندہ مسائل بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایات جاری کیں، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نگران حکومت نے اپنی قلیل مدت میں ملک کو معاشی استحکام کی جانب گامزن کرنے کے لیے بڑے دیرینہ مسائل حل کئے ہیں۔ اس دوران ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کے لیے بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کو تمام سہولتیں مہیا کرنا حکومت کی اولین ترجیح رہی ہے۔ حکومت نے اس بنیادی اصول پر عمل پیرا ہو کر مثبت نتائج حاصل کئے ہیں، انہوں نے کہا کہ حکومت آخری دن تک ملکی معیشت کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ یقیناً نگراں حکومت کے اقدامات ہر لحاظ سے قابل تحسین و قابل تعریف ہیں۔ ملک و قوم کے لیے انوار الحق کاکڑ کی سربراہی میں نگراں حکومت کی جانب سے کیی گئے اقدامات خوش گوار رہیں گے۔ آئندہ وقتوں میں نگراں حکومت کے اقدامات کے مثبت اثرات ان شاء اللہ ضرور ظاہر ہوں گے ۔ معیشت کی صورت حال بہتر ہوگی اور ملک و قوم خوش حالی اور ترقی کے ثمرات سے مستفید ہوسکیں گے۔
اسرائیلی حملوں میں 112 فلسطینی شہید
درندہ صفت اسرائیل کی جانب سے فلسطین پر بم باریوں کے سلسلے جاری ہیں، 4ماہ 10دن کے دوران 28ہزار سے زائد انسانوں سے حقِ زیست چھینا جاچکا ہے، ان میں بہت بڑی تعداد اُن معصوم اطفال کی ہے، جنہیں پڑھ لکھ کر بڑا ہوکر اپنے والدین کا سہارا بننا تھا، اپنی زندگیوں کو جینا تھا، اُن بچوں تک کو نہیں چھوڑا گیا اور ہزاروں کی تعداد میں اُن سے جینے کا حق ناجائز ریاست اسرائیل کی جانب سے چھین لیا گیا۔ ہزاروں لوگ زخمی ہیں اور بہت سے زندگی بھر کی معذوری میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ پورے غزہ کا انفرا اسٹرکچر برباد کردیا گیا ہے۔ تمام ہی عمارتیں ملبوں کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ ہر سو ملبے ہی ملبے ہیں اور اُن کے نیچے کتنے لوگ زندہ ہیں اور کتنے داعیٔ اجل کو لبیک کہہ چکے، کوئی شمار نہیں۔ کہیں والدین اپنے بچوں کی شہادت پر ماتم کناں ہیں تو کہیں اولادیں ماں، باپ کی موت پر شدّت غم سے نڈھال ہیں۔ نوحے ہی نوحے ہیں۔ شہدا کے لاشے ہی لاشے ہیں۔ روزانہ ہی سیکڑوں زندگیوں کے چراغ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں گُل ہورہے ہیں۔ بدترین انسانی المیہ جنم لے چکا ہے۔ طرح طرح کے امراض اور وبائیں پھیل رہی ہیں۔ اسرائیل نے جنگی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسپتالوں کو چھوڑا نہ عبادت گاہوں کو، امدادی اداروں کے مراکز کو بھی متواتر نشانہ بنایا اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ دُنیا بھر کے ممالک حملے بند کرنے کے مطالبات کررہے ہیں، لیکن اسرائیل کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ اقوام متحدہ بھی بارہا مطالبہ کر چکی۔ عالمی عدالتِ انصاف بھی اسرائیل کو حملے بند کرنے کے احکامات دے چکی، لیکن مجال ہے اُس نے ان باتوں پر کوئی دھیان دیا ہو۔ ایسے میں بعض نام نہاد ’’مہذب ممالک’’ کے مکروہ کردار بھی کُھل کر سامنے آچکے ہیں، جو ابتدا میں اسرائیل کو درست ٹھہراتے ہوئے اُس کی پیٹھ تھپتھپاتے رہے اور اب دِکھاوے کی خاطر اسرائیل سے حملے بند کرنے کا معصومانہ مطالبہ کرتے نہیں تھک رہے۔ غزہ لہو لہو ہے، خون ہی خون ہے، آگ ہی آگ ہے، گزشتہ روز بھی سیکڑوں لوگوں سے حقِ زیست چھین لیا گیا۔ غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی حملوں میں گزشتہ 24گھنٹے کے دوران 112فلسطینی شہید اور 157زخمی ہوگئے جب کہ خان یونس کے ناصر اسپتال میں اسرائیلی فوج کے دھاوا کے بعد آکسیجن کی فراہمی معطل ہونے اور بجلی کی بندش کے باعث چار فلسطینی مریض دم توڑ گئے۔ ادھر ایران نے رفح میں اسرائیل کے ممکنہ زمینی آپریشن پر او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا، ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے سیکریٹری جنرل او آئی سی کو فون کیا اور کہا کہ رفح میں اسرائیل کے زمینی آپریشن سے 10لاکھ فلسطینی متاثر ہوں گے، مسلم ممالک اسرائیل کو جارحیت سے روکنے کے اقدامات کریں۔ دوسری جانب سی آئی اے چیف نے اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات کی ہے، جس میں موساد کے سربراہ بھی موجود تھے، اس دوران قیدیوں کی رہائی کے معاہدے پر گفتگو کی گئی، اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ بیروت سے ہونے والے حملوں کا جواب دے رہے ہیں اور ہم کسی دوسرے ملک میں 50کلومیٹر اندر کارروائی کر سکتے، عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی طیاروں کی جانب سے نصیرات پر بمباری کی گئی، جس میں 11فلسطینی شہید ہوگئے جن میں 6بچے بھی شامل ہیں۔ اسرائیل ایسے بگڑے بچے کو لگام دینے والا کوئی نہیں۔ قدرت کے ہاں انصاف ہوکر رہتا ہے۔ اسرائیل کا ظلم حد سے بڑھ چکا ہے تو اب اُس کی تباہی اور بربادی کے دن تھوڑے دِکھائی دیتے ہیں۔ یہ صفحہ ہستی سے جلد مٹ جائے گا۔ قدرت کا قانون ہے، ظالم کا ظلم جب حد سے بڑھ جائے تو وہ مٹ جاتا ہے۔ یہی معاملہ اسرائیل کے ساتھ ہونے والا ہے۔ فلسطین آزاد اور خودمختار ریاست بنے گی ان شاء اللہ۔ دُنیا کو اس حوالے سے اپنا منصفانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button