Editorial

جنرل قمر جاوید باجوہ کی اہم گفتگو

 

واشنگٹن میں غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے عہدے کی مقررہ مدت پوری ہونے پر ریٹائرمنٹ کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو ماہ بعد دوسری مدت پوری ہونے پر ریٹائرڈ ہو جاؤں گا۔واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے میں ظہرانے کے موقع پر آرمی چیف کا کہنا تھا کہ فوج نے خود کو سیاست سے دُور رکھا ہے۔لاغر ملکی معیشت کو بحال کرنا معاشرے کے تمام طبقات کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ مضبوط معیشت کے بغیر قوم اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط معیشت کے بغیر کوئی سفارت کاری نہیں ہو سکتی۔دوسری طرف وزیردفاع خواجہ آصف نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ آرمی چیف کے تقرر کا عمل مہینے کے آخر یا نومبر کے آغاز میں شروع ہوجائے گا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی وضاحت کے بعد ابہام دور ہوا ہے، آہستہ آہستہ سارے ابہام دور ہوجائیں گے۔آرمی چیف کی تقرری میں 5 لوگوں کو شارٹ لسٹ کیا جاتا ہے اور ان میں سے کسی کو بھی آرمی چیف کے عہدے کے لیے چنا جا سکتا ہے۔ عہدے کے لیے نام جی ایچ کیو اور آرمی چیف کی طرف سے بھجوائے جاتے ہیں پھر تمام ناموں کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی وضاحت اور وزیر دفاع خواجہ آصف کی گفتگو کے بعد کسی ابہام کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ایک ہفتے کے دورے پر امریکہ میں موجود ہیں اور ذرائع ابلاغ کے مطابق ان کی سیکریٹری دفاع کے ساتھ بھی ملاقات ہوئی ، اب وہ دورے کے اختتام پر باقی جو اعلیٰ عہدیداران ہیں ان کے ساتھ ساتھ تھنک ٹینک کے لوگوں سے بھی ملاقاتیں کررہے ہیں اور اسی سلسلے میں گزشتہ روز بھی ایک اور ظہرانہ رکھا گیا جس میں تھنک ٹینک سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور سفارتی ذرائع کے مطابق آرمی چیف نے اس ظہرانے میں جو پاک امریکہ تعلقات پر گفتگو کی اور تعلقات کو مزید بہتر کرنے کے لیے تجارت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے فروغ پر زور دیا اس کے علاوہ آرمی چیف نے پاکستان میں سیلاب کی وجہ سے تباہ کاریوں اور سیلاب زدگان کی مدد کے لیے پاک فوج کی کاوشوں کا بھی ذکر کیا ۔ اس کے علاوہ افغانستان میں امریکہ کے انخلاء کے بعد خطے اور افغانستان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا ۔ ایک بار پھر موضوع کی طرف آتے ہیں کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے دوسری بار بھی ریٹائرمنٹ کا اعادہ کردیا ہے اور پاک فوج کے نئے سربراہ کے لیے بھی یقیناً انتظامی سطح پر کام ہورہا ہوگا کیونکہ قومی سلامتی کے ضامن اِس
ادارے کے سب سے اہم منصب کی اہمیت کا ہم سب کو بخوبی اندازہ ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے چیف آف آرمی سٹاف کا منصب سنبھالا اور اپنی خداداد صلاحیتوں کے ساتھ اسلامی دنیا کی سب سے بڑی اور دنیا کی نویں بڑی فوج کی سربراہی کرتے ہوئے وطن عزیز کو درپیش سنگین چیلنجز کا انتہائی دانائی اور جواں مردی کے ساتھ مقابلہ کیا اور پاک فوج کا وقار مزید بلند کیا، یہی وجہ ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ پاک فوج کے پہلے سربراہ ہیں جن کو چھ مختلف دوست ممالک کی جانب سے بہترین خدمات پر اعلیٰ اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے انہیں’’آرڈر آف یونین‘‘ میڈل سے نوازا۔ یہ اعزاز دو طرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے جنرل قمر جاوید باجوہ کے نمایاں کردار کے اعتراف میں دیا گیا۔ اس سے قبل 26 جون 2022 ء کو سعودی ولی عہد اور نائب وزیر اعظم محمد بن سلمان نے انہیں ’’کنگ عبدالعزیز میڈل آف ایکسیلنٹ کلاس‘‘ سے نوازا ۔ 9 جنوری 2021 کو بحرین کے ولی عہد کی جانب سے ’’بحرین آرڈر (فرسٹ کلاس) ایوارڈ‘‘ دیا گیا اور 5 اکتوبر 2019 ء کو اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے بھی ’’آرڈر آف ملٹری میرٹ‘‘ کے ایوارڈ سے نوازا۔ اسی طرح روسی سفیر نے آرمی چیف کو 27دسمبر 2018 ء کو ’’کامن ویلتھ ان ریسکیو اینڈ لیٹر آف کمنڈیشن آف رشین مانیٹرنگ فیڈریشن‘‘ کا اعزاز دیایہی نہیں 20 جون 2017 میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ترکی کے ’’لیجن آف میرٹ ایوارڈ‘‘سے بھی نوازا جا چکا ہے کیوں کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے دور میں پاکستان کو دہشت گردی کی لعنت سے چھٹکارا دلانے کے لیے آپریشن رد الفساد شروع کیا اور ملک کے طول و عرض میں دہشت گردوں اوران کے سہولت کاروں کے خلاف کامیاب آپریشنزکرکے انہیں جہنم واصل کیاگیا اور آج تک دہشت گردوں کے خلاف ملک گیر سطح پر کامیاب کارروائیاں جاری ہیں، سکیورٹی فورسز نے پاک چین اقتصادی راہ داری کے منصوبے کو دہشت گردوں سے بچایا جو بیرونی مداخلت کی وجہ سے اِس عظیم منصوبے کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے بلکہ برق رفتاری سے کام مکمل کروایا یہی نہیں گوادر بندرگاہ کو آپریشنل کرنا اور ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کی تشکیل بھی جنرل قمرجاوید باجوہ کے دور میں ممکن ہوئی۔ پاک فوج نے نہ صرف محدود وسائل کے ساتھ روایتی دشمن کو ہر موقعے پر منہ توڑ جواب دیا بلکہ اُس کے آلہ کاروں کو بھی منطقی انجام تک پہنچایا، انہوںنے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینے کی بات کی تو دوسری طرف دشمنوں کو بھی متنبہ کیا کہ ہماری صلح جوئی کی پالیسی کو کمزوری مت سمجھا جائے اور اِس نکتے کے بغیر بات ادھوری رہ جائے گی کہ انہوںنے پاک فوج کو سیاسی مداخلت سے یکسر دور رکھا لیکن ہمیشہ حکومت، آئین اور جمہوریت کی مضبوطی کی بات کی۔ انہوں نے موجودہ سیلاب اور اِس سے پہلے آنے والی قدرتی آفات میں پاک فوج کے جوانوں کو
مصائب میں مبتلا ہم وطنوں کی مدد کے لیے میدان میں اُتارا بلکہ یہاں تک کہ ملک کے معاشی بحران کو سمجھتے ہوئے دفاعی بجٹ میں اضافہ بھی قبول نہیں کیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جنرل قمرجاوید باجوہ کا دور شاندار رہا ہے اسی لیے انہیں عالمی سطح پر اعزازات سے بھی نوازا گیا ہے اور ان کی رائے کو بھی ہمیشہ اہمیت دی گئی۔جہاں بطور قوم ہم جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملک و قوم کے لیے خدمات کا اعتراف کرتے ہیں وہیں توقع رکھتے ہیں کہ اُن کا تجربہ اور ویژن ہمیشہ ملک و قوم کے لیے کام آئے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button