ColumnJabaar Ch

سسٹم کاکھیل ۔۔ جبار چوہدری

جبار چودھری

 

عبدالصمد خالق کراچی سے میرے دوست اور بہترین آدمی ہیں۔ایک میڈیاہاؤس کے ’’کری ایٹو‘‘ہیڈہیں۔ صرف عہدے کے ہی نہیں شخصیت کے بھی کری ایٹو ہیں۔اپنی حد تک توکہہ سکتا ہوں کہ مجھ سے بہتر لکھتے ہیں۔سماجی رہنما بن چکے ہیں اور سیاسی رہنما بننے کے قریب قریب ہیں۔سوشل میڈیا پر اپنے انقلابی خیالات کوریکارڈکرکے شیئرکرتے ہیں۔انہوں نے ایک ویڈیو ریکارڈ کیا جس کاعنوان تھا ’’سسٹم کا کھیل‘‘۔کالم شروع کرنے سے پہلے صمد کے الفاظ ہی ادھارلے کرلکھتاہوں ۔
صمد خالق کہتے ہیں کہ ’’سب سسٹم کا کھیل ہے بابو۔ سسٹم کو غریب کی جھونپڑی تو کھٹکتی ہے لیکن ناجائز زمینوں پر بنے بڑے بڑے محل دکھائی نہیں دیتے۔بینک کاقرض ایک دن لیٹ ہوتو جرمانہ، بچے کی سکول فیس میں تاخیرتوبچہ سکول سے باہرلیکن مہینہ بھرکام کے بعد تنخواہ لیٹ کرنے والے سیٹھ کو کوئی نہیں پوچھتا۔یہ سسٹم بڑاظالم ہے صاحب ۔یہ امیر کے گھر کی لونڈی اورغریب کی موت ہے۔یہ سسٹم جیلوں کا پیٹ ظلم کے خلاف آوازاٹھانے والوں سے بھر دیتا ہے۔مہنگائی بھی یہی سسٹم کرتا ہے۔ذخیرہ اندوزی بھی یہی سسٹم سکھاتا ہے۔قاتل کو ضمانت اور ڈبل سواری پرمقدمہ کرواتاہے۔یہ سسٹم طاقتوروں کا کھیل ہے۔جائز کو ناجائز بناتا ہے۔ تخت سجاتا ہے،تخت گراتاہے۔‘‘
عبدلصمد خالق کے سسٹم پرلکھے گئے یہ الفاظ واقعی سنہری سیاہی سے محفوظ کیے جانے کے قابل ہیں۔اس سسٹم کی خوبی یہ ہے کہ اس کو بنانے والوں نے اس سسٹم کوبناتے وقت اپنے مفادات کا غسل دے رکھا ہے۔اس لیے یہ سسٹم صرف اس کے
بنانےوالوں کا ہی وفاداررہتا ہے۔سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل ویسے تو وزارت کے دوران بھی کافی سچ بولتے تھے لیکن وزارت کے بعد انہوں نے زیادہ سچ بولنا شروع کردیا ہے ۔کہتے ہیں کہ ایک فیصد لوگ پاکستان چلاتے ہیں اوریہ سسٹم انہی ایک فیصد کا وفاداربھی ہے۔یہ سب سے بڑی حقیقت ہے کہ ننانوے فیصد لوگ ایک فیصد کا ایندھن ہیں۔
یہ سسٹم ایسا ہے کہ سپریم کورٹ میں بیس سال سے پڑی اپیل پرجب جج صاحبان ملزم کو بری کرنے کافیصلہ سناتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ بری ہونے والا پانچ سال پہلے جیل میں دوران قید ہی جسم کی قید سے آزادہوکر اگلے جہان جاچکا ہے اوریہی سسٹم ہے جو مونس الٰہی کے خلاف سو صفحات کا منی لانڈرنگ کا چالان جمع ہونے کے باوجود ہائیکورٹ کا سنگل بنچ پہلی پیشی پر ہی مقدمہ ختم کردیتا ہے۔ ٹرائل کی نوبت ہی نہیں آنے دیتا۔یہی سسٹم ہے جس میں مریم نواز کی اپیل تین سال تک چلتی رہتی ہے اور فیصلہ نہیں آتامگرجونہی حکومت تبدیل ہوتی ہے توفیصلے کے ساتھ بریت بھی آجاتی ہے۔یہی سسٹم ہے جو شہبازشریف کو منی لانڈرنگ کے کیس میں فرد جرم سے اٹھاکر وزیراعظم کی کرسی پر بٹھا دیتا ہے کیونکہ یہ سسٹم بھی ان کا ہے اور اس سسٹم پر سرمایہ کاری بھی ان کی۔
سسٹم پر لکھنے بیٹھا تووزیراعظم شہبازشریف کے معاون خصوصی سید فہد حسین یاد آگئے، میں نے سالوں فہد حسین کے ساتھ کام کیا۔بہت کچھ سیکھا بھی ان سے۔جب دوہزار بارہ میں وہ لاہورہی میں ایک دوسرے ادارے میں گئے تو ان کی مہربانی کہ انہوں نے مجھے بھی ساتھ جانے کی آفر دی۔میں ان سے ملاقات کیلئے زمان پارک کے ایک گھرمیں گیا تومیں نے ان کی تعریف کی کہ انہوں نے جو ادارہ چھوڑا ہے اس کا سسٹم بہت اچھا بنایاہے۔اس پر فہد حسین نے کہا کہ ہاں وہ سسٹم بہترین تھا لیکن ہر سسٹم کچھ وقت بعد پرانا ہوجاتا ہے اس کو ’’ری انونٹ‘‘ کرنا پڑتا ہے ورنہ وہ ٹوٹ جاتا ہے اور ہم نئے ادارے میں جاکر سسٹم کو ری انونٹ کریں گے۔ خیر میں نے ذاتی وجوہات کی بناپر ان کے ساتھ جانے سے معذرت کرلی ۔فہد حسین دوسال میں چار اداروں میں گئے لیکن گھوم کر پہلے والے ادارے میں ہی واپس آگئے ۔واپس آنے پر انہوں نے سسٹم کو اپ گریڈ کرنے کا پراجیکٹ شروع کیا تواس کام کیلئے مجھے ذمہ داری دیدی۔میں ہندوستان گیا۔وہاں ریٹنگ کے اعتبارسے ہندوستان کے سب سے مقبول چینل ٹائمزنو کے نیوزروم ممبئی میں کچھ وقت گزارا۔ان کے سسٹم کو دیکھا۔ورک فلوکا جائزہ لیا۔واپسی پر میں نے اپنے چینل کے سسٹم کو بدلنے کیلئے ورکنگ پیپرتیار کیا وہ آج بھی میرے پاس ہے۔سب کچھ سب کو بہت پسند آیا لیکن جب
پورا سسٹم توڑکرنیا بنانے کی بات آئی تو چینل کی مینجمنٹ نے وہ نیا کام کرنے کا رسک لینے سے انکار کردیا۔اسی چلتے سسٹم میں کچھ تبدیلیوں پر رضامندی ہوئی لیکن سسٹم کوٹھیک کرنے کیلئے پہلے سے بنے سسٹم کو توڑنے پرراضی نہ ہوسکے۔
ہم پاکستان میں جس سسٹم میں رہنے پر مجبور ہیں اس سسٹم کی خوبی بھی یہ ہے اور خامی بھی یہ کہ یہ سسٹم ٹوٹتانہیں۔ناکارہ ہوگیاہے۔بوسیدہ ہوگیا ہے لیکن نہ یہ ٹوٹتا ہے اور نہ بنانے والے اس سسٹم کو توڑنے کی اجازت دیتے ہیں ۔دیکھ لیں کہ آئین جو اس سسٹم کا محافظ ہے وہ آئین کئی بار توڑاگیا لیکن سسٹم پرآنچ نہیں آنے دی گئی۔کیونکہ ان کوپتا ہے کہ سسٹم ٹوٹ گیا تونیابنانا پڑے گا اور اس جدید دورمیں اس سسٹم کو اپنی مرضی کے مطابق دوبارہ بنانا شاید کافی مشکل ہوگا۔اس لیے وہ اسی سسٹم کواسی طرح چلانے میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔اصلاحات کی پرکشش آفرز ہر وقت موجود رہیں گی لیکن اصلاحات ایسی ہی ہوں گی جیسی نیب قانون میں کی گئی ہیں کہ اصلاحات کے بعد نیب اس میں سے قانون تلاش کررہا ہے۔آپ روز آوازیں سنتے ہیں کہ سسٹم بدلنا ضروری ہے ۔انقلاب کے نعرے صبح شامل لگتے ہیں۔آج کل خان صاحب سسٹم بدلنے کی مہم چلا رہے ہیں ۔پہلے بھی نیا پاکستان بنانے چلے تھے۔ اس سسٹم میں ایک کشش یہ بھی ہے کہ جو بھی اس کو تبدیل کرکے انقلاب لانے نکلتاہے یونہی وہ اس سسٹم کے قریب جاتا ہے اسی کا حصہ بن کرمٹی کے ساتھ مٹی ہوجا تاہے۔یہ سسٹم ہر کسی کو اپنا حصہ بھی نہیں بننے دیتا۔صرف اسی کو اپنا حصہ بناتا ہے جو اس سسٹم کیلئے بڑی تھریٹ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ اس سسٹم کو بدلنے یا اس میں اصلاحات کرنے والی سنجیدہ آوازیں موجود نہیں ہیں۔ پاکستان کی سپریم کورٹ جو انصاف کا سب سے بڑا اورآخری فورم ہے اس سپریم کورٹ میں سترہ جج ہوتے ہیں ۔لیکن ایک سال ہونے کو آیا ہے اس سپریم کورٹ میں پانچ جج کم ہیں ۔سپریم کورٹ کے اندرسے ہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی آوازیں ہم سن رہے ہیں کہ ججز کی تعدادپوری کی جائے کہیں سپریم کورٹ غیر فعال ہی نہ ہوجائے لیکن یہ سسٹم ہی ہے کہ انصاف کا سب سے بڑاادارہ پورے پاکستان سے پانچ ججزکویہاں لانے پر متفق نہیں ہوپارہا۔ جب انصاف کے سب سے بڑے درکا یہ حال ہے توباقی پیچھے کیا رہ جاتا ہے۔حاصل کلام یہ ہے کہ سسٹم یہی ہے ہم نے اسی سسٹم میں رہنا ہے اور ہماراتعلق بھی اس ایک فیصد سے نہیں ہے جو اس سسٹم کو چلاتے ہیں اس لیے سسٹم کی خرابیوں کولے کر اپنا دماغ خراب نہ کیا کریں۔اس سسٹم میں اپنے خاندان کے گزربسر کیلئے راستے بنانا سیکھ لیں بس۔
سسٹم کا ذکر ہوتو آخرمیں ایک پتے کی بات اور یاد کرلیں ۔اس کو اپنے دماغ میں جگہ دے لیں آپ کی زندگی تھوڑی آسان رہے گی کہ ’’ہم ایک رِگڈ (دھاندلی زدہ)سسٹم میں رہتے ہیں۔اس رگڈ سسٹم کے بینفشری(فائدہ اٹھانیوالے)تبدیل ہوتے ہیں لیکن یہ سسٹم نہیں بدلتا۔اور باہر یہ جتنی بھی لڑائی چل رہی ہے۔نیاپاکستان، پرانا پاکستان، آزادی اورحقیقی آزادی وغیرہ یہ لڑائی اور جھگڑاس رِگڈ سسٹم کے بینفشری بننے کی ہے نہ کہ اس دھاندلی زدہ سسٹم کوتبدیل کرنے کی‘‘۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button