جمہوریت، خاموشی اور سوال کا خوف

جمہوریت، خاموشی اور سوال کا خوف
قادر خان یوسف زئی
ناروے میں مقیم صحافی ہیلے لِنگ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے پیر کے روز سوال کیا تھا کہ وہ ناروے کے میڈیا کے سوالات کے جواب کیوں نہیں دینا چاہتے، وزیراعظم مودی نے ان کے سوال کا جواب نہیں دیا تھا جس پر ہیلے لِنگ نے ایک سوشل میڈیا بیان میں ردعمل دیتے کہا، ’’ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ مجھے یہ لکھنا پڑے گا، لیکن میں کسی بھی قسم کی غیر ملکی جاسوس نہیں ہوں، نہ ہی کسی غیر ملکی حکومت کی طرف سے بھیجی گئی ہوں‘‘۔ واضح رہے کہ ناروے ورلڈ پریس فریڈیم انڈکس میں پہلے نمبر پر ہے جبکہ بھارت 157ویں نمبر پر ہے۔ بھارتی وزیر اعظم سے عوام یا ان کے نمائندہ صحافیوں کو جوابی سوال کرنے کی قطعی کوئی اجازت نہیں ہوتی ۔یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ نریندر مودی نے اپنے طویل دورِ اقتدار میں آزادانہ اور غیر اسکرپٹڈ پریس کانفرنسوں کا مکمل طور پر بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ ان کی ابلاغی حکمت عملی ’’ من کی بات‘‘ جیسے ریڈیو پروگراموں، سوشل میڈیا کے یکطرفہ پیغامات اور پہلے سے طے شدہ انٹرویوز تک محدود ہو چکی ہے، جہاں سوالات بھی ان کی مرضی کے ہوتے ہیں اور جوابات بھی۔ ناقدین اور سیاسی مخالفین نے بجا طور پر اس رجحان کو بھانپتے ہوئے بھارتی میڈیا کو ’’ گودی میڈیا‘‘ کا نام دیا ہے۔ یہ اصطلاح اس حقیقت کی عکاس ہے کہ مین اسٹریم میڈیا کے بڑے ادارے اور اینکرز اب حکومتی گود میں بیٹھ کر اسی کی بولی بول رہے ہیں۔ ان کا کام اب حکومت کا احتساب کرنا نہیں رہا، بلکہ اپوزیشن کو رگیدنا، اقلیتوں کے خلاف منافرت پھیلانا اور مودی حکومت کے ہر غیر جمہوری اور غیر آئینی اقدام کو حق بجانب ثابت کرنا ہے۔
اس پس منظر میں جب ہم مئی 2019ء کاہ وہ وقت یا د کریں جب بھارت میں عام انتخابات کی مہم اپنے اختتام کو پہنچ رہی تھی اور نریندر مودی نے اقتدار میں آنے کے بعد پہلی اور آخری بار ایک پریس کانفرنس میں شرکت کی حامی بھری۔ تاہم، یہ پریس کانفرنس بھی دنیا بھر کے صحافیوں اور مبصرین کے لیے ایک عجوبے سے کم نہ تھی۔ نریندر مودی اس پریس کانفرنس میں اس وقت کے بی جے پی صدر اور موجودہ وزیرِ داخلہ امیت شاہ کے ہمراہ جلوہ گر تو ہوئے، لیکن انہوں نے خود پر طاری پراسرار خاموشی کو ٹوٹنے نہیں دیا۔ جب ایک صحافی نے براہِ راست وزیراعظم مودی سے سوال کیا تو انہوں نے اس سوال کو امیت شاہ کی طرف موڑ دیا۔ اس دن بھارتی صحافت نے دیکھا کہ کیسے ایک منتخب وزیراعظم نے سوالات کا سامنا کرنی کے بجائے اپنی سیاسی ڈھال کے پیچھے چھپنے کو ترجیح دی۔
گھر کے اندر تو مودی سرکار نے ریاستی جبر، اشتہارات کی بندش اور ایجنسیوں کے خوف سے میڈیا کو پوری طرح قابو کر رکھا ہے، لیکن جب یہی وزیراعظم غیر ملکی دوروں پر جاتے ہیں تو ان کی گھبراہٹ اور بے چینی دیدنی ہوتی ہے۔ بین الاقوامی دوروں پر بھارتی سفارتی عملے کی اولین کوشش یہی ہوتی ہے کہ سربراہانِ مملکت کی ملاقاتوں کے بعد کھلی پریس کانفرنس کے بجائے محض مشترکہ اعلامیے پڑھنے پر اکتفا کیا جائے تاکہ کسی بھی غیر ملکی صحافی کو انسانی حقوق کی پامالیوں، اقلیتوں کے استحصال اور مقبوضہ کشمیر میں جاری ریاستی دہشت گردی پر سوال اٹھانے کا موقع نہ مل سکے۔ مودی سرکار جانتی ہے کہ بین الاقوامی میڈیا ’’ گودی میڈیا‘‘ نہیں ہے اور وہاں اسکرپٹڈ سوالات کی پرچی کام نہیں آتی۔ اس لیے فرار ہی بہترین حکمتِ عملی سمجھی جاتی رہی ہے۔ لیکن اس خول میں ایک بہت بڑا شگاف اس وقت پڑا جب جون 2023ء میں نریندر مودی نے امریکہ کا سرکاری دورہ کیا۔
امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والی ملاقات کے بعد کے حالات اس امر کے گواہ ہیں کہ سچ کو ہمیشہ دبایا نہیں جا سکتا۔ امریکی اور عالمی میڈیا کی رپورٹس، جن میں سی این این جیسے معتبر ادارے شامل ہیں، کے مطابق بھارتی حکام نے وائٹ ہائوس پر شدید دبائو ڈالا تھا کہ ملاقات کے بعد صحافیوں کو سوالات کی اجازت نہ دی جائے اور صرف بیانات پر اکتفا کیا جائے۔ لیکن وائٹ ہائوس کی جانب سے جمہوری روایات کی پاسداری کرتے ہوئے اس امر پر اصرار کیا گیا کہ پریس کانفرنس لازمی ہوگی۔ بالآخر ایک درمیانی راستہ نکالا گیا اور یہ طے پایا کہ دونوں رہنما صرف دو، دو سوالات کے جوابات دیں گے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب مودی کو ایک طویل عرصے کے بعد کسی حقیقی اور غیر سنسر شدہ سوال کا سامنا کرنا پڑا۔
اس پریس کانفرنس میں وال اسٹریٹ جرنل کی نامور رپورٹر سبرینا صدیقی نے وزیراعظم نریندر مودی سے وہ سوال پوچھ لیا جو بھارتی اقلیتوں کے دل کی آواز تھا۔ سبرینا نے انتہائی پیشہ ورانہ اور براہِ راست انداز میں پوچھا کہ آپ اور آپ کی حکومت اپنے ملک میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے حقوق کو بہتر بنانے اور آزادیِ اظہارِ رائے کو برقرار رکھنے کے لیے کیا اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں؟ یہ سوال مودی کے لیے ایک غیر متوقع اور ناخوشگوار جھٹکا تھا۔ سوال سن کر ان کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات واضح تھے۔ لیکن اس پریس کانفرنس کا اصل اور بھیانک پہلو مودی کے جواب کے بعد سامنے آیا۔ جوں ہی یہ پریس کانفرنس ختم ہوئی، بھارت کی حکمران جماعت کے آئی ٹی سیل اور انتہا پسند ہندو قوم پرستوں نے سبرینا صدیقی کے خلاف سوشل میڈیا پر ایک منظم، غلیظ اور شرمناک مہم کا آغاز کر دیا۔ سبرینا کو ان کے مسلمان ہونے اور ان کی پاکستانی پس منظر کی وجہ سے شدید سائبر ہراسمنٹ کا نشانہ بنایا گیا۔ ان پر یہ مضحکہ خیز الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے یہ سوال کسی اسلامی ایجنڈے کے تحت پوچھا ہے۔ یہ ہراسانی اس قدر شدت اختیار کر گئی کہ اس نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی۔ مودی سرکار کے حامیوں کی اس غیر جمہوری اور فاشسٹ ذہنیت نے دنیا کے سامنے وہ حقیقت عیاں کر دی جسے مودی اپنی لفاظی سے چھپانے کی کوشش کر رہے تھے۔
نریندر مودی کی جانب سے صحافیوں کے سوالات سے بچنے کی حکمت عملی محض ان کی گھبراہٹ کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی اور منظم پالیسی کا حصہ ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد سیاسی بیانیے کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں رکھنا اور کسی بھی ایسے سوال یا حقیقت کو منظرِ عام پر آنے سے روکنا ہے جو ان کے تراشیدہ مصنوعی امیج کو داغدار کر سکے۔ بھارت کے اندر تو یہ جابرانہ حکمتِ عملی ’’ گودی میڈیا‘‘ کی ملی بھگت سے خاصی حد تک کامیاب رہی ہے، لیکن عالمی سطح پر، جہاں اب بھی صحافت کی آزادی اور جمہوری اقدار کا پاس رکھا جاتا ہے، مودی حکومت کا سفارتی پروٹوکولز اور پریس کی آزادی سے براہِ راست تصادم ہوتا رہتا ہے۔ سچ کہیں نہ کہیں سے، کسی نہ کسی سوال کی صورت میں اپنا راستہ بنا ہی لیتا ہے، اور تب ریاست کے کھوکھلے دعووں اور فاشسٹ ہتھکنڈوں کا پردہ چاک ہو جاتا ہے۔





