تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیاتپاکستان

ایشال فاطمہ قتل کیس: زنا بالجبر کی دفعہ شامل کیے جانے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ریپ ثابت ہو چکا ہے , ڈی پی او جھنگ

جھنگ: ایشال فاطمہ کیس میں تحقیقات جاری ہیں جبکہ پولیس نے معاملے کی شفاف اور جامع تفتیش کے لیے ایک اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

 

ڈی پی او جھنگ ساجد حسین کے مطابق مقتولہ ایشال فاطمہ کے والد کی درخواست پر چار افراد کو مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے اور مقدمے میں قتل سمیت زنا بالجبر کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

 

ڈی پی او نے واضح کیا کہ مقدمے میں زنا بالجبر کی دفعہ شامل کیے جانے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ریپ ثابت ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں اور تمام شواہد کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حتمی نتائج فرانزک اور میڈیکل رپورٹس کی روشنی میں سامنے آئیں گے۔

 

ساجد حسین نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں، تاہم تحقیقاتی اداروں کو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تفتیش کا موقع دیا جائے تاکہ حقائق مکمل طور پر سامنے آ سکیں۔

 

ڈی پی او کے مطابق ایشال فاطمہ کی موت کی اصل وجہ کا تعین حتمی میڈیکل اور فرانزک رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے اور کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے قبل تمام شواہد کو مدنظر رکھا جائے گا۔

 

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر جاری ہے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

جواب دیں

Back to top button