عنوان : شہید بھٹو سے صدر زرداری تک

کالم : شہادت
راجہ شاہد رشید
عنوان : شہید بھٹو سے صدر زرداری تک
ذوالفقار علی بھٹو شہید بلاشبہ فخر ایشیا ہیں اور قائد عوام بھی ہیں، جنہیں ایٹم بم بنانے کے باعث یعنی ایٹم بم کی بنیاد رکھنے کی وجہ سے پھانسی دی گئی، اسی لیے تو آج اقوام عالم اور سارا عالم بھٹو بھٹو، زندہ ہے بھٹو اور جیے بھٹو بول رہا ہے۔ اس ضمن میں میرا اپنا ہی ایک شعر ہے کہ
آج بھی سارے عالم میں ڈنکے تیرے ہی بجتے ہیں
فخر ایشیا ، قائد عوام القاب تجھی کو سجھتے ہیں
مفکر ملت اسلامیہ ڈاکٹر اسرار احمد جی نے مدتوں پہلے یہ صد فیصد درست فرمایا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو اگر چند سال مزید حکومت کرتے تو یقینا آج یہ دنیا ہمارے قدموں میں ہوتی۔ ڈاکٹر اسرار احمد نے مزید کہا تھا کہ ’’ ذوالفقار علی بھٹو کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ انہوں نے دو ٹوک اور دبنگ انداز میں ایٹم بم بنانے کا اعلان کر دیا تھا، بلکہ یہاں تک بول دیا تھا کہ چاہے ہمیں بھوکا رہنا پڑے یا پھر گھاس کھانا پڑے لیکن ہم ایٹم بم ضرور بنائیں گے اور پھر آگے سے ہینری البرٹ کسنجر( Henry Alfred Kissinger) نے جواباً کہا تھا کہ اگر آپ اس کام سے باز نہیں آئیں گے تو ہم آپ کو نشان عبرت بنا ڈالیں گے‘‘۔
ساری دنیا جانتی ہے کہ بعد میں یہی ہوا ، یعنی کہ بھٹو کی پھانسی کے پیچھے امریکہ ہی تھا۔ میری کتاب ’’ بھٹو سے بے نظیر تک‘‘ میں شامل ایک نظم سے چند اشعار حاضر خدمت ہیں پلیز ملاحظہ فرمائیے۔
سلام تیری عظمت کو بھٹو سر نہ مول جُھکایا
پھانسی چڑھ کے امر ہوا اور نعرہ حق لگایا
لیڈر تجھ سا اور نہ کوئی مانے یا نہ مانے
تُو بہادر جرات والا، یہ سارا عالم جانے
تجھ کو چاہے یہ جگ سارا دنیا تیری دیوانی
خون دل سے لکھے شاہد، درد بھری کہانی
بعد میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی ساری زندگی بنت بھٹو ہونے کی سزا بُھگتی ہے۔ بی بی اپنی سوانح حیات ’’ ڈاٹر آف دی ایسٹ‘‘ میں لکھتی ہیں کہ ’’ میرے والد نے میرے لائے ہوئے سب اخبارات، میگزین اور کتابیں اس آخری ملاقات میں مجھے واپس کر دیں۔ اتنے میں جیلر نے کہا کہ ملاقات کا وقت ختم۔ میں نے کہا پلیز میرے والد پاکستان کے منتخب وزیر اعظم ہیں اور میں ان کی بیٹی ہوں، یہ میری ان سے آخری ملاقات ہے اور مجھے ان کو گلے لگانے کا حق ہے لیکن جیلر نے صاف انکار کر دیا۔ میں نے کہا گڈ بائے پاپا۔ میری والدہ نے سلاخوں کے درمیان سے ہاتھ بڑھا کر میرے والد کے ہاتھ کو چھوا۔ ہم دونوں تیزی سے باہر کی جانب نکلیں۔ میں پیچھے مڑ کر دیکھنا چاہتی تھی لیکن میری ہمت جواب دے گئی۔
میرے محترم قارئین ! اگر سچ پوچھیں تو میری بھی اب ہمت جواب دے رہی ہے کہ میں یہ پر درد داستان بے نظیر اس سے آگے لکھوں یا پڑھوں۔ ان موضوعات پر مزید بھی آپ سے بات ہوگی اور ضرور ہوگی لیکن کالم میں نہیں، عنقریب آنے والی اپنی ساتویں کتاب میں لکھوں گا، جس کا نام ہے ’’ بھٹو سے بے نظیر تک‘‘ شہید بے نظیر بی بی بارے میں نے کہا تھا کہ
اپنے خون سے امر کیا حق کی تاریخ کو تُو نے
ضیا ظلمت کٹی کیسے راستہ پایا خوشبو نے
صدر مملکت سردار آصف علی زرداری میرے پاکستان میں سب سے طویل ترین جیل کاٹنی والے سیاسی لیڈر ہیں ، موصوف ساری زندگی ظلم و ستم ہی سہتے رہے ہیں ، ان کی زبان بھی کاٹی گئی اور میڈیا ٹرائل بھی ہوتا رہا۔ اگر سچ پوچھیں تو صدر آصف علی زرداری جی کا سب سے بڑا جرم بھی یہی تھا کہ وہ قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے داماد ہیں اور دُختر مشرق محترمہ بے نظیر بھٹو شہید بی بی جی کے شوہر ہیں۔ آستانہ عالیہ سید عبداللطیف شاہ کاظمی رحمتہ اللہ علیہ المعروف بری امام سرکار کے سجادہ نشین پیر سید حیدر علی شاہ گیلانی جی کہتے ہیں کہ ’’ میں سیاسی لوگوں میں گُھسنے کی کوشش کبھی نہیں کرتا ، چائے کوئی وزیر ہے یا مشیر ہے اپنی جگہ ہم بھی پیر ہیں لیکن ایک نشست میں مجھے ایک نمازی پرہیزگار آدمی ملا جو عرصہ بیس سال سے ایوان صدر میں کام کر رہا ہے ، میں نے اس سے پوچھا کہ تمہاری ملازمت کے دوران جتنے بھی صدور آئے ہیں ان میں سے بہترین صدر کون تھا ، اس نے کہا صدر زرداری سے بہتر کوئی نہیں ہے ، میں نے کہا زرداری نے آپ کو کوئی چیک یا رقم دی ہوگی اس لیے کہہ رہے ہو۔؟ وہ کہنے لگا پیر صاحب! ایسا ہرگز نہیں ہے، میں نے آج تک جتنے بھی صدور دیکھے انہیں صرف اور صرف اپنے عہدے سے ہی غرض ہوتی تھی ، مگر زرداری صاحب ہی وہ واحد صدر ہیں جنہوں نی اپنے دونوں ادوار میں اپنی جیب سے سٹاف کی مدد کی اور اچھے کھانے کا اہتمام بھی کرتے ہیں‘‘۔
یہ بات واقعی ٹھیک ہے کہ جس آدمی کا صدر زرداری سے کبھی واسطہ ہی نہ پڑا ہو اس کی رائے اچھی نہیں ہوتی اور جو بھی بندہ صدر زرداری صاحب سے ایک بار ملا ہو اس کی رائے ان کی حوالے سے ہمیشہ اچھی رہتی ہے ۔ یہ بھی ایک اچھی خبر ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو گلگت بلتستان میں فتح نصیب ہوئی ہے اور حکومت بنانے کا عوامی مینڈیٹ بھی ملا ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری PPPکو وہی پرانی پی پی پی بنائیں یعنی عوامی اور جمہوری جماعت بنائیں تاکہ سیاسی استحکام آئے اور عوامی راج ہو ، ظلم تا قیامت تاراج ہو ۔ جمہوریت کا بول بالا ہو اور آمریت کا منہ کالا ہو۔ آخر میں ایک بار پھر اپنی کتاب ’’ بھٹو سے بے نظیر تک‘‘ کی ایک نظم کے چند اشعار کی صورت میں صدر پاکستان سے ملتمس ہوں کہ
تُو بہادر اور جُرات والا
ہمت طاقت حکمت والا
کبھی جھکایا سر نہ تُونے
مانا مول جبر نہ تُو نے
کوئی دکھا دو رنگ نیارے
ہم سبھی ہیں سنگ تمہارے
علم اور عدل عام کر دو
دیس عوام کے نام کر دو





