Column

آپریشن ردوبدل

آپریشن ردوبدل
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری ۔۔۔۔
میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ میں سیاسی معاملات پر بات نہ کروں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ مجھے سیاست پر لکھنا نہیں آتا، بلکہ یہ ہے کہ میں بہتر سمجھتا ہوں کہ اپنے مخصوص موضوعات کو زیرِ بحث لائوں۔ کیوں کہ سیاسی معاملات پر بہت سے لوگ مجھ سے کہیں بہتر ، زیادہ گہرائی اور زیادہ تجربے کے ساتھ لکھ رہے ہیں۔ اور لکھتے بھی رہیں گے ۔
ویسے تو کالم نگار کی خوبی یہ گنوائی جاتی ہے کہ وہ ہر موضوع پر بے تکان لکھ سکتا ہے۔ ایسا شاید میں بھی کر سکتا ہوں لیکن کرتا نہیں ہوں۔ وجہ اس کی یہ ہی کہ میں اپنے حال اور اپنی کھال میں خوش ہوں مست ہوں، میں نے کبھی پلان بنا کر نہیں لکھا۔ اچانک کوئی بات ذہن سے ٹکراتی ہے اور میں لکھتا چلا جاتا ہوں۔ اچھا برا جیسا بھی لکھتا ہوں میرا اپنا معاملہ اور اپنی کوشش۔ کسی کو کاپی کرتا ہوں نہ کسی کی پیروی کرتا ہوں۔ لیکن انسان آخر انسان ہے۔ میں بھی اسی معاشرے کا حصہ ہوں، اسی پاکستان میں رہتا ہوں، اور یہاں کے حالات صرف خبروں یا رپورٹس کی صورت میں نہیں آتے بلکہ براہِ راست احساسات کو متاثر کرتے ہیں۔ بعض اوقات کچھ واقعات اتنے گہرے اثر چھوڑ جاتے ہیں کہ آدمی اپنی خاموشی برقرار نہیں رکھ پاتا۔ پھر قلم خود اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔
گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات کے بعد بھی کچھ ایسا ہی ہوا ۔ میں نے خود کو بہت روکا کہ اس موضوع پر کچھ نہ لکھوں۔ میں چاہتا تھا کہ یہ میدان ان لوگوں کے لیے چھوڑ دوں جو سیاسی تجزیے میں زیادہ مہارت رکھتے ہیں۔ مگر جب نتائج سامنے آئے، جب پورا انتخابی منظر مکمل ہوا، تو ایک اندرونی بے چینی نے جنم لیا۔ ایسا محسوس ہوا کہ کچھ باتیں ہیں جو صرف سوچنے سے ختم نہیں ہوتیں، انہیں لفظ دینا ضروری ہوتا ہے۔
اور یوں ’’ آپریشن ردوبدل‘‘ وجود میں آیا ۔ نہ بطور دعویٰ، نہ بطور فیصلہ، بلکہ ایک احساس، ایک مشاہدہ، اور ایک فکری ردِعمل کے طور پر۔
جمہوریت کا بنیادی دعویٰ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ انتخابات ایک ایسا میدان ہوں جہاں تمام سیاسی قوتیں برابر کی بنیاد پر حصہ لیں ۔ اس تصور کو عام طور پر’’ ایکول لیول پلیئنگ فیلڈ‘‘ کہا جاتا ہے، یعنی ایک ایسا سیاسی ماحول جہاں ہر جماعت کو یکساں موقع، یکساں رسائی اور یکساں سیاسی آزادی حاصل ہو۔
نظریاتی طور پر یہ اصول بہت واضح اور سادہ ہے، مگر عملی سیاست میں یہ ہمیشہ ایک بحث طلب نکتہ رہا ہے ( خصوصی طور پاکستان جیسے ملک میں ) مختلف سیاسی ادوار میں مختلف جماعتیں یہ موقف اختیار کرتی رہی ہیں کہ انہیں وہ مواقع نہیں ملے جو ان کے سیاسی حریفوں کو حاصل تھے۔ کبھی یہ شکایت انتخابی مہم کے دوران سامنے آتی ہے، کبھی کاغذات نامزدگی کے مراحل میں، اور کبھی نتائج کے بعد۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں سیاست صرف مقابلے سے نکل کر ’’ اداروں، ماحول اور اثرات‘‘ کے پیچیدہ دائرے میں داخل ہو جاتی ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ بات بار بار دہرائی گئی ہے کہ بعض جماعتیں یہ سمجھتی رہی ہیں کہ انہیں مکمل طور پر آزاد ماحول نہیں ملا۔ خاص طور پر پاکستان تحریک انصاف سمیت کئی جماعتوں نے مختلف ادوار میں یہ موقف اپنایا کہ ان کے لیے سیاسی میدان برابر نہیں تھا۔
تاہم دوسری طرف یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ انتخابی کامیابی یا ناکامی صرف بیرونی عوامل پر منحصر نہیں ہوتی۔ سیاسی تنظیم، عوامی مقبولیت، امیدواروں کی مضبوطی، اور زمینی سطح پر رابطہ بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔
یوں ایک ہی واقعہ دو مختلف زاویوں سے دیکھا جاتا ہے: ایک زاویہ اسے ’’ عدم مساوات‘‘ کہتا ہے، دوسرا زاویہ اسے ’’ سیاسی حقیقت‘‘ قرار دیتا ہے، اور یہی اختلاف جمہوری بحث کا مستقل حصہ بن جاتا ہے۔
گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات میں بھی صورت حال کچھ اسی نوعیت کی دکھائی دی۔ سیاسی ماحول مجموعی طور پر بکھرا ہوا محسوس ہوا۔ بعض حلقوں میں یہ تاثر پایا گیا کہ جماعتی سطح پر مکمل تنظیمی یک جہتی موجود نہیں تھی، جس نے انتخابی مہم کے انداز کو متاثر کیا۔
اسی دوران یہ بھی ایک بحث کا حصہ رہا کہ بعض جماعتوں کو انتخابی نشان یا مکمل سیاسی سرگرمی کے حوالے سے عملی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ وہ نکات ہیں جنہوں نے انتخابی ماحول کو مزید حساس اور متنازع بنا دیا۔دوسری طرف زمینی حقیقت یہ بھی تھی کہ جہاں جہاں سیاسی سرگرمیاں ہوئیں، وہاں عوامی رجحانات واضح طور پر سامنے آئے۔ بہت سے علاقوں میں پاکستان تحریک انصاف کا نام اور اس کا اثر نمایاں طور پر دیکھا گیا، اور عوامی سطح پر اس جماعت کے حق میں زیادہ جوش و جذبہ محسوس کیا گیا ۔
یہ تضاد’’ یعنی انتظامی و سیاسی ماحول اور عوامی رجحان‘‘ ہی وہ چیز ہے جو ہر انتخاب کے بعد بحث کو جنم دیتی ہے۔ اصل بحث یہاں آ کر ایک بار پھر اسی بنیادی اصول پر آ جاتی ہے: کیا تمام سیاسی جماعتوں کو واقعی ایک جیسا میدان میسر تھا؟۔ یہ سوال آسان نہیں، کیوں کہ اس کا جواب صرف نتائج سے نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے لیے پورے انتخابی عمل کو دیکھنا پڑتا ہے: انتخابی ماحول۔ مہم کی آزادی۔ انتظامی رویہ۔ سیاسی جماعتوں کی تنظیمی حالت۔ اور عوامی رجحانات۔
یہ تمام عوامل مل کر ہی کسی بھی انتخاب کی تصویر مکمل کرتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر سیاسی فریق اپنے تجربے کی بنیاد پر نتائج اخذ کرتا ہے۔ جس فریق کو نقصان محسوس ہوتا ہے وہ اسے ’’ عدم مساوات‘‘ کہتا ہے، اور جو کامیاب ہوتا ہے وہ اسے ’’ عوامی فیصلہ‘‘ قرار دیتا ہے۔
آج کے دور میں سیاست صرف زمین پر نہیں بلکہ بیانیے پر بھی لڑی جاتی ہے۔ ایک ہی انتخاب مختلف زاویوں سے مختلف کہانیاں بن جاتا ہے۔ اسی لیے بعض اوقات: ایک ہی نتیجہ کسی کے لیے جیت ہوتا ہے، اور کسی کے لیے ناانصافی۔ یہی بیانیاتی تقسیم اعتماد کے بحران کو جنم دیتی ہے۔ جب عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ ہر انتخاب کے بعد سوالات باقی رہ جاتے ہیں، تو پھر صرف نتائج نہیں بلکہ پورے نظام پر سوال اٹھنے لگتا ہے۔
یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ سیاسی حقیقت اور عوامی تاثر ہمیشہ ایک نہیں ہوتے۔ سیاسی حقیقت اکثر اعداد و شمار اور نتائج پر مبنی ہوتی ہے، جبکہ عوامی تاثر تجربے، احساس اور مشاہدے پر، اگر دونوں میں فاصلہ بڑھ جائے تو نظام پر اعتماد کمزور ہونے لگتا ہے۔ اس پورے پس منظر میں ’’ آپریشن ردوبدل‘‘ کسی باقاعدہ منصوبے یا دعوے کا نام نہیں، بلکہ ایک علامت ہے۔ یہ اس احساس کی نمائندگی کرتا ہے کہ بعض اوقات سیاسی نظام میں چیزیں صرف ووٹوں سے نہیں بلکہ ماحول، اثر اور طاقت کے توازن سے بھی متاثر ہوتی ہیں۔
یہ علامت اس سوچ کو ظاہر کرتی ہے کہ: میدان کبھی مکمل طور پر برابر نہیں ہوتا، اور نتائج ہمیشہ صرف ظاہری مقابلے کا نتیجہ نہیں ہوتے۔
یہ ایک فکری سوال ہے، حتمی فیصلہ نہیں۔
آخر میں بات پھر اسی بنیادی حقیقت پر آ کر رکتی ہے کہ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ اعتماد کا ایک پورا نظام ہے۔
اگر اعتماد موجود ہو تو معمولی خامیاں بھی برداشت ہو جاتی ہیں، لیکن اگر اعتماد مجروح ہو جائے تو پھر مکمل عمل بھی سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات اور اس جیسے دیگر سیاسی تجربات ہمیں یہی سبق دیتے ہیں کہ: جمہوریت صرف ووٹ نہیں، بلکہ وہ احساس ہے جس میں ہر فریق یہ یقین رکھتا ہے کہ اسے برابر موقع ملا ہے۔ جب تک یہ یقین مضبوط نہیں ہوتا، تب تک ہر انتخاب کے بعد نئے سوال، نئی بحث اور نئے بیانیے جنم لیتے رہیں گے۔ اور شاید یہی اس نظام کی سب سے بڑی آزمائش ہے۔ اگر جمہوریت کے نام پر الیکشن کے ڈرامے رچائے جاتے رہے، اور آپریشن ردوبدل جاری رہا تو ملک میں ’’ ردالامن ‘‘ کا باعث بنے گا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ سیاست دانوں کو اپنی لڑائی اپنے زور پر لڑنے دی جائے۔ کسی ایک فریق کے ہاتھ باندھنے سے نہ ملک کا فائدہ ہے نہ جمہوریت کا۔ کتنے ہی طاقتور لوگ اس زعم میں منوں مٹی تلے جا سوئے جو خود کو اس ملک کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ کہ ان کے بنا تو یہ ملک چل ہی نہیں سکتا اور اس کا اللہ ہی حافظ ہے۔ پھر ہوا کیا، وہ قبر کی گہرائی میں اتر گئے۔ اب ان کا تذکرہ صرف تاریخ کی کتابوں میں درج ہے اور وہ بھی منفی صورت میں۔

جواب دیں

Back to top button