Columnمحمد مبشر انوار

جارحانہ حکمت عملی

جارحانہ حکمت عملی

محمد مبشر انوار

مشرق وسطیٰ میں ایک بار کسی ہلچل کے آثار دکھائی دے رہے ہیں کہ امریکہ جس نے ایران کی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے لیکن اس کی بحری طاقت میں ایک واضح کمزوری دکھائی دینے لگی ہے اور امریکہ نے اپنے طیارہ بردار جنگی جہاز یو ایس ایس ابراہم کا متبادل بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی اعلان کے مطابق، امریکہ مشرق وسطیٰ سے اپنے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم کی جگہ دوسرا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جارج بش ایران کی ناکہ بندی کے لئے بھیج رہا ہے کہ موجودہ جہاز کو مشرق وسطیٰ میں جنگی ڈیوٹی پر تعینات ہوئے کافی وقت گزر چکا ہے اور اس کا عملہ اب کافی تھک چکا ہے لہٰذا اس جہاز کو پیچھے ہٹا کر اس کا متبادل یہاں تعینات کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں! خبریں اس سے کچھ زیادہ ہیں کہ اولا تو جہاز پر موجود فوجیوں کو جنگی حالات کے باعث چھٹی نہیں مل رہی، جو ممکنہ طور زیادہ اہم مسئلہ نہیں ہوتا کہ کسی بھی ملک کی فوج، اس صورتحال سے بخوبی واقف ہوتی ہے اور اس مقصد کے لئے ہی تیار کی جاتی ہے لیکن معاملہ اس سے زیادہ ہو چکا ہے اور امریکی میڈیا کے مطابق، اس جہاز پر نہ صرف خوراک بلکہ ادویات کی بھی شدید قلت ہو چکی ہے، جبکہ یہ خبر بھی ہے کہ خوراک کے ڈبوں میں سے کیڑے بھی برآمد ہو رہے ہیں۔ یہ وہ بدترین صورتحال ہے، جس میں امریکی فوج کا مورال انتہائی سے زیادہ گر چکا ہے اور متعدد فوجیوں کے سمندر میں چھلانگیں لگا کر خودکشیوں کی خبریں بھی منظر عام پر آئی ہیں، یہ خاصی سنجیدہ و پیچیدہ صورتحال اس لئے بن جاتی ہے کہ ایسی فوج جو اس قدر ذہنی دبا اور خلفشار کا شکار ہو، وہ اک طرح میدان جنگ میں دشمن کا مقابلہ کر سکتی ہے؟ ایسی فوج کی موجودگی میں لڑنا کسی طور بھی دانشمندی نہیں کہلا سکتا کہ فوج کی اس ذہنی کیفیت کے ساتھ میدان جنگ میں اترنے کا سیدھا مطلب ہی یہ ہے کہ جنگ سے پہلے ہی شکست آپ کا مقدر ہو چکی ہے۔ اس صورتحال میں بہترین لائحہ عمل یہی ہو سکتا، اور ہوتا ہے کہ فوری طور پر تازہ دم فوج میدان میں اتاری جائے، جس کا جذبہ اور لڑنے کا حوصلہ ابھی برقرار ہو گو کہ موجودہ دور میں فوری طور پر ایسی متبادل فوج کا حصول بذات خود ایک مسئلہ ہے کہ آج کے دور میں جنگی حالات کی تازہ ترین خبروں کا حصول انتہائی سہل اور آسان ہے لہٰذا متبادل فوج کا جنگی حالات سے نا آشنا ہونا، ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ اس پس منظر میں کیا امریکی متبادل یو ایس ایس جارج بش اور اس پر تعینات فوجییوں کا مورال اتنا بلند ہو گا کہ وہ ایران کی فوج کا مقابلہ کر سکیں؟ دوسری اہم ترین بات یہ بھی ہے کہ کیا اس امریکی بحری بیڑے کا فرض صرف ناکہ بندی تک ہی محدود رہے گا؟ کیا آبنائے ہرمز کھلوانے کے لئے امریکہ ایران کے پانیوں میں داخل نہیں ہو گا اور داخل ہوئے بغیر کس طرح کامیابی حاصل کرے گا؟ تسلیم کہ ناکہ بندی سے صرف ایران ہی نہیں بلکہ دنیا کے دیگر ممالک بھی پریشان ہے اور کاروبار زندگی ہر گزرتے دن کے ساتھ ، مخدوش ہو رہا ہے، کیا امریکہ اس ناکہ بندی کے بل بوتے پر ایران سے ہتھیار ڈلوا لے گا؟ اگر ایران ہتھیار نہیں ڈالتا تو امریکہ مزید کیا کر سکتا ہے یا کرے گا؟ امریکہ کی جانب سے ایران پر مزید اور سخت پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ تو دیا گیا ہے لیکن کیا یہ پابندیاں ایران کو اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر سکیں گی؟

جنگ میں ممکنہ طور پر دو ہی آپشن ہوتے ہیں فتح یا شکست جبکہ امریکہ و ایران کے درمیان اس وقت چوہے بلی کا کھیل جاری ہے کہ امریکہ ایک طرف امن معاہدے پر زور بھی دے رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ، حیلے بہانے سے ایران کی عسکری طاقت کو یا آبنائے ہرمز میں اس کی طاقت کا وقتا فوقتا جائزہ لینے کی کوشش بھی کرتا رہتا ہے ، اسی باعث اسلام آباد مفاہمتی یادداشت بھرپور طریقے سے بروئے کار نہیں آرہی کہ اس یادداشت کی پانچویں شق کے مطابق ایران کو آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کو یقینی بنانا ہے، اس شق کی تشریح فریقین اپنے اپنے طریقے سے کر رہے ہیں۔ امریکہ کا یہ گمان ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو کھول کر اس آمد و رفت کو یقینی بنائے جبکہ ایران کے مطابق ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو ایرانی اجازت اور اس کے فراہم کردہ راستے سے گزرنے کو یقینی بنائے گا، مراد آبنائے ہرمز ، جو صدیوں سے قدرتی گزرگاہ رہی ہے جس پر کسی بھی ریاست کا کنٹرول نہیں تھا، لیکن امریکہ کے مسلط کردہ جنگ کے بعد اب ایران کو یہ اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کا باقاعدہ طور پر انتظام و انصرام چلائے، جس کا جواز امریکہ نے ایران کو فراہم کیا ہے۔ امریکہ ایران کے خلاف جن چودہ مقاصد کے ساتھ، برائے کار آیا تھا ، اس میں سے ایک مقصد بھی ابھی تک حاصل نہیں کر پایا حالانکہ امریکہ کا دفاعی بجٹ، ایران کے دفاعی بجٹ سے 100 گنا زیادہ ہے اور ایران نے اپنے محدود بجٹ کے باوجود امریکہ کو اپنی زمینی و سمندری حدود میں داخل نہیں ہونے دیا۔ جہاں تک بات ہے فضائی حدود کی، تو امریکہ نے کوششیں تو بہت کی کہ کسی طرح ایران کی کمزور ترین فضائیہ کو زیر کر لے لیکن یہاں بھی امریکہ کو شدید مایوسی اٹھانا پڑی ہے کہ ایران نے اپنی کمزور فضائیہ کی کمی کو، دفاعی نظام سے اس طرح پورا کیا کہ امریکہ کے جدید ترین، بیش قیمت اور سٹیلتھ ٹیکنالوجی کے حامل کئی طیاروں، ڈرونز کو مار گرایا، ڈرونز کے حوالے سے امریکی MQ۔9ڈرون کی قیمت 30۔50ملین ڈالر کے قریب ہے اور یہ ڈرون قریباً چالیس کے قریب، اس جنگ میں ایران نے مار گرائے ہے، اس کے علاوہ بھی کئی بیش قیمت طیارے، ایران نے فضا کے علاوہ کینگروز مین ہی نیست و نا بود کر کے نہ صرف امریکہ کی معاشی کمر توڑی ہے بلکہ اس کی ساکھ کو بھی شدید ترین نقصان پہنچایا ہے۔ ایران پر معاشی ق دیگر کئی مختلف قسم کی پابندیوں کے باوجود ایران ابھی تک نہ صرف میدان جنگ میں کھڑا ہے بلکہ مذاکرات کی میز پر بھی جھکنے کے لیے تیار نہیں، بلکہ اب ایران کے روئیی اور لب و لہجے میں امریکی پابندیوں پر خوف کی بجائے ہوا میں اڑانے کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ مذاکرات یا مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے ایران کی جانب سے مسلسل شرائط ایسے پیش کی جاتی جیسے ایک فاتح اپنے مفتوح کو اپنی شرائط سنا رہا ہو، جبکہ امریکہ بھی ایران کو شرائط پیش تو ایسے ہی کرتا ہے مگر زمینی حقائق امریکی شرائط کا پول کھول دیتے ہیں کہ امریکہ کس قدر معاہدے کے لئے بے چین ہے اور کیوں نہ ہو کہ امریکہ کو فیس سیونگ نہیں مل رہی۔

آج ایران نے دو قدم اور آگے جاتے ہوئے، یہ اعلان بھی کردیا ہے کہ ایران کو اب یہ جنگ اپنی سرحدوں سے باہر اور دشمن کے علاقوں میں لڑنے کی تیاری کرنی چاہئے۔ بظاہر تو یہ انتہائی خوبصورت مطالبہ دکھائی دیتا ہے لیکن بین السطور اس کا مفہوم انتہائی خطرناک ہے کہ دنیا اس جنگ سے بری طرح متاثر ہے اور ایران اپنی سرحدوں سے نکل کر دشمن پر وار کرنے یعنی جارحیت کے لئے تیاری کرنا چاہئے- ایران نے خود پر مسلط کردہ جنگ میں، محدود وسائل کے باوجود دشمن کے غلط اندازوں کے خلاف، بہترین کاردگی دکھاتے ہوئے اپنی سالمیت کا دفاعی کیا ہے لیکن اس جارحانہ حکمت عملی کو مناسب نہیں سمجھا جا سکتا کہ اس سے معاملات سنبھلنے کی بجائے مزید گھمبیر ہو سکتے ہیں، زیادہ مناسب یہی ہے کہ جو کامیابی مل چکی، اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے معاملات سمیٹ لئے جائیں اور مستقبل میں اپنی تازہ چھ شرائط کے مطابق، سلامتی و خودمختاری کو یقینی بنا لیا جائے نہ کہ جارحانہ حکمت عملی کا یوں اعلان کرکے شکست خوردہ فریق کو تا دلایا جائے-

جواب دیں

Back to top button