تازہ ترینخبریںسیاسیاتپاکستان

حرمین شریفین پر حملہ ریڈ لائن ہے، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ میں خطاب

وزیر اعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس سے خطاب کیا۔

 

وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب کا آغاز قرآن مجید کی آیت کی تلاوت سے کیا۔

 

اپنے خطاب کے آغاز میں وزیر اعظم نے کہا کہ 24 کروڑ امن پسند عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے اس ایوان سے چوتھی بار خطاب میرے لیے باعث اعزاز ہے۔

 

وزیراعظم نے خلیل الرحمان کو جنرل اسمبلی کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

 

وزیر اعظم نے کہا کہ امن کی تلاش انسانیت کی عظیم ترین کاوشوں میں سے ایک ہے، وزیراعظم نے سورۃ الانفال کی آیت نمبر 61 کا حوالہ دیا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’اور اگر وہ امن کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ‘۔

 

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے رواں سال فروری میں خلیج اور مشرق وسطیٰ کو جنگ نے اپنی لپیٹ میں لیا جس سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، معیشتوں کو نقصان پہنچا اور آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے شدید دباؤ میں آ گئے، اس نازک موڑ پر پاکستان نے فوری اقدامات کا فیصلہ کیا۔

 

وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کو اسلام آباد میں ایک چھت تلے بٹھایا، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں نے سفارت کاری کی گنجائش پیدا کی، سعودی عرب ، ترکیے، قطر، مصر، چین اور دیگر دوست ممالک کی امن کوشش پر ممنون ہیں۔

 

جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ امن دشمن کارروائیوں میں ایک بار پھر خطرناک اضافہ ہوا ہے، میزائل، ڈرونز اور گولیوں کے شور کے درمیان سفارتکاری کی آواز کو مزید بلند ہونا چاہیے۔

 

اپنے خطاب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کو کھلا رہنا چاہیے، انہیں تنازع کا چوک پوائنٹ نہیں بننا چاہیے۔

 

وزیر اعظم نے سعودی عرب کے خلاف حالیہ حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش نے دنیا بھر کے مسلمانوں میں غم وغصہ پیدا کیا، حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، حرمین شریفین ہمارے لیے ریڈ لائن ہے، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔

 

جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کا مشترکہ دفاعی معاہدہ امن و استحکام کا ضامن ہے،تینوں ملکوں کا اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں، یہ معاہد خطے میں دفاع، استحکام اور امن کے لیے ہمارا اجتماعی عزم ہے۔

 

معرکہ حق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت نے جھوٹا بہانہ بنا کر پاکستان پر حملہ کیا اور پاکستان نے اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنا دفاع کیا۔ پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں بھارت کا مقابلہ کیا اور اسے وہ سبق سکھایا جو وہ کبھی نہیں بھولے گا۔

 

وزیر اعظم نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت کے باعث جنوبی ایشیا کے لاکھوں عوام کی جانیں بچ گئیں، دو ایٹمی پڑوسی ملک کھلی جنگ کے دہانے پر تھے۔

 

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں یقینی بنانا ہو گا کہ جنوبی ایشیا دوبارہ اس صورت حال پر نہ پہنچے، اس کے لیے یہ یقینی بنانا ہو گا کہ مسئلہ کشمیر حل ہو جائے۔

اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل خطے میں امن کے لیے انتہائی ضروری ہے، آٹھ دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر کے عوام اقوام متحدہ کی طرف دیکھ رہےہیں، اقوام متحدہ کے تحت کشمیر میں استصواب رائے ہونا چاہیے، کشمیر میں اجتماعی سزا دی جا رہی ہے اور کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

 

وزیر اعظم نے کشمیری عوام کو یقین دہانی کروائی کہ پاکستان کشمیری بھائی بہنوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ہمیشہ رہے گی

جواب دیں

Back to top button