Column

سوکھے درخت، سوکھا نظام اور سبز فائلیں

سوکھے درخت، سوکھا نظام اور سبز فائلیں

شکیل امجد صادق

پاکستان میں بعض اوقات یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ زیادہ قیمتی چیز درخت ہے یا فائل۔ درخت برسوں میں جوان ہوتا ہے، سایہ دیتا ہے، آکسیجن دیتا ہے، لکڑی دیتا ہے، لیکن جب وہ اپنی عمر پوری کر لیتا ہے تو اس کی قسمت ایک سرکاری فائل سے بندھ جاتی ہے۔ فائل چل پڑے تو درخت کا فیصلہ ہوتا ہے، ورنہ وہ کھڑا کھڑا گلتا رہتا ہے، دیمک کھاتی رہتی ہے، شاخیں ٹوٹتی رہتی ہیں، لکڑی چوری ہوتی رہتی ہے اور قومی سرمایہ خاموشی سے مٹی میں مل جاتا ہے۔

یہ منظر کسی ایک ضلع، ایک سکول یا ایک کالج کا نہیں، پورے ملک کا ہے۔ سرکاری سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، ہسپتالوں، ریسٹ ہائوسز، سرکاری دفاتر، نہروں کے کناروں اور قومی شاہراہوں پر بے شمار قیمتی درخت موجود ہیں۔ ان میں شیشم، کیکر، سفیدہ اور دیگر قیمتی اقسام شامل ہیں۔ ان میں سے ہزاروں درخت سوکھ چکے ہیں یا اس مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں انہیں محفوظ طریقے سے کاٹ کر ان کی جگہ نئے پودے لگائے جا سکتے ہیں۔ مگر ہمارا سرکاری نظام انہیں قومی اثاثہ نہیں بلکہ ایک ایسا ’’ مسئلہ‘‘ سمجھتا ہے جسے ہاتھ لگانے کی سزا بھی مل سکتی ہے۔

کسی سکول کا ہیڈ ماسٹر یا کالج کا پرنسپل اگر یہ سوچ لے کہ اس سوکھے ہوئے درخت کو فروخت کرکے بچوں کے لیے بینچ خرید لیے جائیں، لائبریری میں کتابیں آ جائیں، لیبارٹری کی کمی پوری ہو جائے یا ٹوٹا ہوا فرنیچر بدل دیا جائے تو اس کی نیت سے پہلے اس کی فائل کا امتحان لیا جاتا ہے۔ درخواست لکھیے، منظوری لیجیے، محکمہ جنگلات کو بلائیے، تخمینہ لگوائیے، رپورٹ بنوائیے، پھر ایک اور رپورٹ، پھر منظوری، پھر نیلامی، پھر رقم سرکاری خزانے میں جمع کروائیے، اور آخر میں وہی سکول دوبارہ فنڈ کے لیے ہاتھ پھیلائے۔ سوال یہ ہے کہ جب درخت سکول کی زمین پر کھڑا تھا، اس کی حفاظت سکول نے کی، پانی سکول نے دیا، نگرانی سکول نے کی، تو اس سے حاصل ہونے والی آمدنی سکول کی بنیادی ضروریات پر کیوں خرچ نہیں ہو سکتی؟

اصل مسئلہ بددیانتی کا نہیں بلکہ بداعتمادی کا ہے۔ ہمارے نظام نے یہ فرض کر لیا ہے کہ ہر افسر چور ہے، اس لیے اسے کسی اختیار کا حق نہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایماندار افسر بھی ہاتھ باندھ کر بیٹھ گیا اور بے ایمان نے راستہ پھر بھی نکال لیا۔ قانون ایماندار کو روکتا ہے، چور کو نہیں۔ یہی حال قومی شاہراہوں کا ہے۔ میلوں تک سڑکوں کے کنارے کھڑے سوکھے درخت حکومت کی بے حسی کا نوحہ سناتے ہیں۔ کوئی ان کا حساب نہیں رکھتا۔ آہستہ آہستہ شاخیں کٹتی رہتی ہیں، لکڑی غائب ہوتی رہتی ہے، بعض جگہ پورا درخت ہی رات کی تاریکی میں ختم ہو جاتا ہے۔ حکومت کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ قومی سرمایہ کب ایندھن بن کر کسی چولہے میں جل گیا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر یہی درخت شفاف نیلامی کے ذریعے فروخت ہوں، ان کی جگہ فوری طور پر نئے پودے لگا دئیے جائیں اور حاصل ہونے والی رقم متعلقہ ادارے کو دے دی جائے تو کتنے سکولوں میں نئے بینچ آ سکتے ہیں، کتنی لیبارٹریاں بن سکتی ہیں، کتنے پنکھے، سولر سسٹم، کمپیوٹر اور کتابیں خریدی جا سکتی ہیں۔

ہم ہر سال تعلیمی بجٹ کی کمی کا رونا روتے ہیں، مگر جو وسائل ہمارے اپنے صحن میں کھڑے ہیں، ان سے فائدہ اٹھانے کا نظام نہیں بناتے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے گھر میں اناج سے بھرا گودام ہو اور اہلِ خانہ قرض مانگنے نکل جائیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ایک سادہ اور شفاف پالیسی مرتب کرے۔ ہر ضلع میں ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم ہو جس میں محکمہ جنگلات، تعلیم، خزانہ اور مقامی نمائندے شامل ہوں۔ یہ کمیٹی سوکھے یا ناقابلِ استعمال درختوں کی نشاندہی کرے، ان کی کھلی نیلامی کرائے اور فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا کم از کم اسی فیصد متعلقہ ادارے کے اکائونٹ میں منتقل کرے۔ باقی رقم شجرکاری اور ماحولیاتی تحفظ پر خرچ کی جائے۔

ساتھ ہی یہ شرط بھی لازم ہو کہ جتنے درخت کاٹے جائیں، ان سے زیادہ نئے پودے لگائے جائیں اور ان کی بقا کی ذمہ داری بھی طے کی جائے۔ اس طرح نہ ماحولیات متاثر ہوں گی اور نہ قومی سرمایہ ضائع ہوگا۔

آج دنیا ’’ سرکلر اکانومی‘‘ کی بات کر رہی ہے، یعنی جو چیز اپنی پہلی شکل میں قابلِ استعمال نہ رہے، اسے ضائع نہ کیا جائے بلکہ دوبارہ قومی مفاد میں استعمال کیا جائے۔ ہم اس تصور سے برسوں دور کھڑے ہیں۔ ہمارے ہاں سوکھا ہوا درخت بھی اس وقت تک کھڑا رہتا ہے جب تک وہ خود گر نہ جائے یا کوئی خاموشی سے اسے لے نہ جائے۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت اس فرسودہ طریقہ کار پر نظرثانی کرے۔ فائلوں کے جنگل کو کم کرے اور حقیقی جنگلات کی حفاظت کرے۔ اداروں پر اعتماد کیا جائے، شفاف نگرانی کا نظام بنایا جائے اور انہیں اپنے وسائل سے اپنی ضروریات پوری کرنے کا محدود مگر موثر اختیار دیا جائے۔

یاد رکھیے، قومیں صرف نئے وسائل پیدا کرکے ترقی نہیں کرتیں، بلکہ موجود وسائل کو ضائع ہونے سے بچا کر بھی خوشحال بنتی ہیں۔ ہمارے سکولوں، کالجوں اور شاہراہوں پر کھڑے سوکھے درخت دراصل لکڑی کے ڈھیر نہیں، قومی سرمایہ ہیں۔ اگر ان کا درست استعمال ہو جائے تو شاید بہت سے سرکاری اداروں کے چھوٹے چھوٹے مسائل خود بخود حل ہو جائیں۔

اب فیصلہ حکومت کے ہاتھ میں ہے۔ سوکھے درخت پہلے کاٹے جائیں گے یا پھر حسبِ روایت صرف سبز فائلیں ہی بڑھتی رہیں گی؟۔

جواب دیں

Back to top button