بجٹ، ٹیکس اور عوامی مشکلات

بجٹ، ٹیکس اور عوامی مشکلات
تحریر: رفیع صحرائی
وفاقی بجٹ سے قبل سولر پینل کی قیمتوں میں اچانک اور غیر معمولی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ عوام کے لیے یہ خبر کسی صدمے سے کم نہیں ہے۔ بدقسمتی دیکھیے کہ عوام ہر روز مہنگائی، ٹیکسوں اور منافع خوری کی نئی چکی میں پس رہے ہیں مگر حکومت کو معمولی سا احساس بھی نہیں ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں بجٹ پیش ہونے سے پہلے ہی اشیائے ضروریہ، تعمیراتی سامان، گاڑیوں، موبائل فونز اور اب سولر سسٹمز کی قیمتیں بڑھنا شروع ہو جاتی ہیں۔ گویا سرمایہ دار طبقہ اور مارکیٹ مافیا حکومت کی مجوزہ پالیسیوں کو جواز بنا کر عوام کی جیبوں پر وقت سے پہلے ہی ڈاکہ ڈالنا شروع کر دیتے ہیں۔
اس بار بھی یہی ہوا۔ وفاقی بجٹ میں سولر مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس کی شرح دس فیصد سے بڑھا کر اٹھارہ فیصد کرنے کی تجاویز سامنے آئیں تو چند ہی دنوں میں سولر پینلز کی قیمتوں میں سات سے نو ہزار روپے تک اضافہ کر دیا گیا۔ یہ اضافہ صرف پینلز تک محدود نہیں رہے گا بلکہ انورٹرز، بیٹریوں اور دیگر آلات کی قیمتیں بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جائیں گی۔ سوال یہ ہے کہ آخر عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ہر بار انہی پر بوجھ کیوں ڈالا جاتا ہی؟
پاکستان میں بجلی کے نرخ پہلے ہی آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔ لوڈشیڈنگ، اضافی فیول ایڈجسٹمنٹ، ٹیکسوں اور سرچارجز نے متوسط طبقے کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ایسے حالات میں لاکھوں لوگوں نے اپنی جمع پونجی لگا کر سولر سسٹم نصب کیے تاکہ کم از کم بجلی کے بھاری بلوں سے کچھ نجات حاصل ہو سکے۔ ان لوگوں نے حکومت سے سبسڈی یا امداد کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ اپنی مدد آپ کے تحت متبادل توانائی اپنائی۔ اس اقدام سے نہ صرف ان کے گھریلو اخراجات کم ہوئے بلکہ قومی گرڈ پر دبا بھی کم ہوا۔
دنیا بھر میں حکومتیں قابلِ تجدید توانائی کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک سولر انرجی اپنانے والوں کو ٹیکس چھوٹ، آسان قرضے اور سبسڈیز دیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مستقبل صاف اور سستی توانائی کا ہے۔ مگر پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ یہاں جس شعبے میں عوام کو تھوڑا سا سکون ملنے لگے، وہاں نئے ٹیکس، نئی پابندیاں اور نئی مشکلات کھڑی کر دی جاتی ہیں۔
اصل مسئلہ صرف سولر پینلز پر ٹیکس کا نہیں بلکہ اس سوچ کا ہے جس کے تحت حکومتیں آسان راستہ اختیار کرتے ہوئے بار بار انہی لوگوں پر ٹیکس لگا دیتی ہیں جو پہلے ہی ٹیکس دے رہے ہوتے ہیں۔ تنخواہ دار طبقہ، کاروباری حضرات، صنعت کار اور بجلی و گیس کے بل ادا کرنے والے شہری پہلے ہی بے شمار بالواسطہ اور بلاواسطہ ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ ہر بجٹ میں انہی پر مزید بوجھ ڈال دیا جاتا ہے جبکہ ملک میں ایسے لاکھوں افراد اور شعبے موجود ہیں جو اب تک ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پہلے سے موجود ٹیکس دہندگان کی کمر توڑنے کے بجائے ٹیکس دہندگان کا دائرہ وسیع کرے۔ جب تک ٹیکس کا بوجھ منصفانہ انداز میں تقسیم نہیں ہوگا، اس وقت تک معیشت میں استحکام پیدا نہیں ہو سکتا۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ہمیشہ آسان ہدف وہ طبقہ بنتا ہے جو پہلے ہی نظام کے شکنجے میں موجود ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایماندار ٹیکس دہندگان خود کو سزا یافتہ محسوس کرتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ سرمایہ دار طبقے کی بے لگام منافع خوری بھی لمحہ فکریہ ہے۔ بجٹ ابھی منظور نہیں ہوتا مگر قیمتیں پہلے بڑھا دی جاتی ہیں۔ ڈالر مہنگا ہونے کی خبر آئے تو نرخ فوراً اوپر چلے جاتے ہیں لیکن ڈالر سستا ہو جائے تو قیمتیں واپس نیچے نہیں آتیں۔ ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت اور ناجائز منافع خوری نے عوام کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ حکومت اگر واقعی عوام دوست بننا چاہتی ہے تو اسے صرف نئے ٹیکس لگانے کے بجائے مارکیٹ مافیا کے خلاف بھی سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔
توانائی بحران کے شکار ملک میں سولر انرجی جیسی سہولتوں کی حوصلہ شکنی قومی مفاد کے خلاف ہے۔ اگر عوام اپنی مدد آپ کے تحت بجلی پیدا کر رہے ہیں تو حکومت کو ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنی چاہئیں، نہ کہ ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنی چاہئیں۔ سستی اور متبادل توانائی ہی پاکستان کے معاشی مستقبل کو محفوظ بنا سکتی ہے۔
آج عام آدمی مہنگائی، بے روزگاری، بڑھتے یوٹیلٹی بلوں اور مسلسل نئے ٹیکسوں کے باعث شدید ذہنی دبا کا شکار ہے۔ ایسے میں حکومت اور سرمایہ دار دونوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی بھی معاشرے کی معیشت صرف اعداد و شمار سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد سے چلتی ہے۔ اگر یہی عوام معاشی بوجھ تلے دب کر ٹوٹ گئے تو پھر ترقی کے تمام دعوے محض کھوکھلے نعرے بن کر رہ جائیں گے۔





