بحیرہ احمر غیر محفوظ، تین پاکستانیوں کی شہادت نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

تحریر: غلام مصطفیٰ جمالی
بحیرہ احمر میں ایک تجارتی جہاز پر حوثی حملے نے ایک بار پھر پوری دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اگر عالمی تجارت کے اہم سمندری راستے جنگ اور کشیدگی کی لپیٹ میں آ گئے تو اس کے اثرات کہاں تک جائیں گے۔ اس حملے میں تین پاکستانی شہریوں کی شہادت نے اس واقعے کو پاکستان کے لیے بھی ایک گہرے قومی دکھ میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ تینوں پاکستانی اپنے روزگار کے سلسلے میں سمندر میں خدمات انجام دے رہے تھے، مگر ایک ایسے تنازع کی قیمت اپنی جان دے کر چکانی پڑی جس سے ان کا براہِ راست کوئی تعلق نہیں تھا۔
بحیرہ احمر محض پانی کا ایک وسیع ذخیرہ نہیں بلکہ دنیا کے اہم ترین تجارتی راستوں میں سے ایک ہے۔ باب المندب کے ذریعے یہ سمندری راستہ بحرِ ہند کو بحیرہ روم سے جوڑتا ہے اور ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے درمیان تجارت میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اسی راستے سے روزانہ مختلف ممالک کے تجارتی جہاز خوراک، تیل، صنعتی خام مال اور دوسری ضروری اشیا لے کر گزرتے ہیں۔ اس راستے میں پیدا ہونے والا عدم تحفظ صرف ایک خطے کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت تک پہنچتے ہیں۔
حالیہ حملے نے اس خطرے کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ جب ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کے ساتھ صرف ایک کمپنی یا ایک ملک متاثر نہیں ہوتا بلکہ جہاز کے عملے میں شامل مختلف ممالک کے شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ تین پاکستانی شہریوں کی شہادت اسی تلخ حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے خاندانوں کے لیے یہ محض ایک خبر نہیں بلکہ ایسا سانحہ ہے جس کا درد شاید کبھی ختم نہ ہو۔
پاکستانی شہری دنیا کے مختلف سمندری راستوں پر محنت کرکے اپنے خاندانوں کا سہارا بنتے ہیں۔ وہ ہزاروں میل دور سمندروں میں کام کرتے ہیں تاکہ اپنے بچوں کے مستقبل کو بہتر بنا سکیں۔ مگر جب عالمی طاقتوں اور علاقائی گروہوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو سب سے پہلے خطرہ انہی محنت کش افراد کی زندگیوں کو لاحق ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایک عام ملاح کو کسی علاقائی جنگ کی قیمت اپنی جان سے کیوں ادا کرنا پڑے؟
یہ واقعہ پاکستان کے لیے ایک اور پہلو سے بھی اہم ہے۔ حکومت کو نہ صرف جاں بحق شہریوں کے خاندانوں کی مکمل معاونت کرنی چاہیے بلکہ بیرونِ ملک سمندری جہازوں پر کام کرنے والے پاکستانی شہریوں کی سلامتی کے حوالے سے بھی ایک جامع حکمتِ عملی بنانی چاہیے۔ دنیا کے مختلف سمندری راستوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر پاکستانی شہریوں کی حفاظت کو محض سفارتی بیان تک محدود نہیں رکھا جاسکتا۔
بحیرہ احمر میں مسلسل خطرات کے باعث کئی عالمی بحری کمپنیاں ماضی میں اپنے جہازوں کے راستے تبدیل کرنے پر مجبور ہوئی ہیں۔ اگر جہاز باب المندب کے بجائے افریقہ کے گرد طویل راستہ اختیار کریں تو سفر کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے، ایندھن کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور سامان کی ترسیل مہنگی ہوجاتی ہے۔ اس اضافی قیمت کا بوجھ بالآخر دنیا کے عام صارف پر پڑتا ہے۔
پاکستان پہلے ہی مہنگائی، توانائی کی قیمتوں اور درآمدی اخراجات کے دبا کا شکار ہے۔ اگر عالمی سطح پر بحری تجارت مزید متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ درآمدی خام مال مہنگا ہوسکتا ہے، صنعتی پیداوار کی لاگت بڑھ سکتی ہے اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔ یوں بحیرہ احمر میں ہونے والا ایک حملہ ہزاروں میل دور پاکستان کے عام شہری کی زندگی کو متاثر کر سکتا ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ حوثیوں اور ان کے مخالف فریقوں کے درمیان کشیدگی کا تعلق مشرقِ وسطیٰ کے وسیع تر بحران سے ہے۔ جب خطے میں جنگ کے شعلے بھڑکتے ہیں تو ان کی چنگاریاں سمندری راستوں تک بھی پہنچ جاتی ہیں۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ایک جہاز پر حملہ ہوا، اصل خطرہ یہ ہے کہ اگر ایسے واقعات کا سلسلہ جاری رہا تو عالمی تجارت کے لیے محفوظ راستوں کا تصور ہی کمزور پڑ سکتا ہے۔
بین الاقوامی برادری کو اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ تجارتی جہاز جنگی اہداف نہیں ہونے چاہئیں۔ ان پر کام کرنے والے ملاح کسی جنگ کے فریق نہیں ہوتے۔ ان کا مقصد صرف سامان ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچانا اور اپنے خاندانوں کے لیے روزگار کمانا ہوتا ہے۔ انہیں نشانہ بنانا نہ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہے بلکہ عالمی تجارت کے بنیادی اصولوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
دنیا کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ علاقائی تنازعات کے حل کے لیے جنگ کا راستہ اختیار کیا جائے گا یا مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دی جائے گی۔ اگر ہر فریق اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے تجارتی راستوں کو دبائو کا ذریعہ بنائے گا تو اس کا نقصان کسی ایک فریق تک محدود نہیں رہے گا۔ عالمی معیشت، عام صارف اور سب سے بڑھ کر عام انسان اس کی قیمت ادا کرے گا۔
پاکستان کو بھی اس معاملے میں متوازن اور فعال سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ ایک طرف پاکستان کو اپنے شہریوں کی شہادت پر واضح احتجاج اور مذمت کرنی چاہیے، جبکہ دوسری طرف عالمی سطح پر اس اصول کی حمایت کرنی چاہیے کہ بین الاقوامی بحری راستوں کو ہر قسم کے عسکری حملوں سے محفوظ رکھا جائے۔ پاکستان کی معیشت اور تجارت بھی محفوظ عالمی سمندری راستوں سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔
تین پاکستانیوں کی شہادت ایک ایسا واقعہ ہے جسے صرف چند دن کی خبر بن کر نہیں رہنا چاہیے۔ ان شہداء کے خاندانوں کے دکھ کو محسوس کرنا ہوگا اور ان کے لیے عملی اقدامات بھی کرنا ہوں گے۔ اگر حکومت بیرونِ ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کو ملک کا قیمتی سرمایہ سمجھتی ہے تو پھر ان کی حفاظت کے لیے بھی اسی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
بحیرہ احمر میں موجودہ صورتحال دنیا کے لیے ایک واضح انتباہ ہے۔ آج ایک تجارتی جہاز نشانہ بنا ہے، کل کوئی دوسرا جہاز ہوسکتا ہے۔ آج تین پاکستانی شہری شہید ہوئے ہیں، کل کسی اور ملک کے شہری اس جنگ کی بھینٹ چڑھ سکتے ہیں۔ اگر عالمی برادری نے بروقت موثر اقدامات نہ کیے تو یہ بحران مزید خطرناک شکل اختیار کر سکتا ہے۔
دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سمندر کسی جنگی گروہ یا کسی ایک طاقت کی ملکیت نہیں۔ بحیرہ احمر، باب المندب اور دنیا کے دوسرے اہم بحری راستے عالمی تجارت کی شہ رگ ہیں۔ ان کا تحفظ پوری عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
تین پاکستانیوں کی شہادت نے ہمارے سامنے ایک بڑا سوال بھی رکھ دیا ہے کہ آخر جنگوں کا اصل بوجھ کون اٹھاتا ہے؟ فیصلے طاقتور ایوانوں میں ہوتے ہیں، حکمتِ عملیاں حکومتیں بناتی ہیں اور جنگی کارروائیاں مسلح گروہ کرتے ہیں، مگر جانیں اکثر عام لوگوں کی جاتی ہیں۔ بحیرہ احمر کا تازہ سانحہ بھی اسی تلخ حقیقت کی ایک مثال ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا طاقت کے بجائے مذاکرات، دھمکی کے بجائے سفارت کاری اور جنگ کے بجائے امن کا راستہ اختیار کرے۔ بحیرہ احمر کو جنگ کا میدان بنانے کے بجائے اسے دوبارہ عالمی تجارت کا محفوظ راستہ بنانا ہوگا۔ تین پاکستانی شہداء کا خون ہم سے یہی تقاضا کرتا ہے کہ سمندری راستوں کو جنگ کی آگ سے بچانے کے لیے عالمی سطح پر سنجیدہ اور فوری اقدامات کیے جائیں۔
اگر بحیرہ احمر غیر محفوظ رہا تو اس کا نقصان صرف جہازوں اور ملاحوں تک محدود نہیں ہوگا، بلکہ اس کی لہریں عالمی منڈیوں، قومی معیشتوں اور عام انسان کے گھر تک پہنچیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ تین پاکستانیوں کی شہادت صرف ایک سانحہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔





