جھنڈے بھی، پودے بھی!

تحریر: رفیع صحرائی
اگست کا مہینہ آتے ہی سبز ہلالی پرچم ہر طرف لہراتا دکھائی دیتا ہے۔ بازاروں، گھروں، دکانوں، گاڑیوں اور گلیوں میں سبز و سفید رنگوں کی بہار آ جاتی ہے۔ بچے ہاتھوں میں جھنڈیاں اٹھائے آزادی کا جشن مناتے ہیں، قومی نغمے گونجتے ہیں اور ہر طرف ’’ پاکستان زندہ باد‘‘ کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔ مجھے یاد ہے میری بیٹی اپنی شادی سے پہلے تک خاص اہتمام کے ساتھ 13اگست کو ہی گھر کی ہر دیوار کو پاکستانی پرچم کے ڈیزائن والی جھنڈیوں سے سجا دیا کرتی تھی۔ اگر اسے جھنڈیاں چپکانے کے لیے گوند نہ ملتی تو آٹے سے کام چلایا کرتی۔
لیکن اب گزشتہ چند برس سے اگست ہی میں ایک نیا نعرہ بھی سننے کو ملتا ہے: ’’ جھنڈے نہیں، پودے لگائیں‘‘۔ بعض لوگ ’’پاں نہیں، چھاں‘‘ جیسے خوب صورت نعروں کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ 14اگست کو قومی پرچم لہرانے کے بجائے درخت لگانا زیادہ حب الوطنی ہے۔ بظاہر یہ بات بہت دلکش محسوس ہوتی ہے۔ درخت لگانا یقیناً ایک عظیم قومی خدمت ہے۔ شجرکاری وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ قومی پرچم اور درخت کو ایک دوسرے کا متبادل کیوں بنایا جا رہا ہے؟ اگر ہم ایک ساتھ پرچم بھی لہرائیں اور درخت بھی لگائیں تو اس میں کیا مضائقہ ہے؟ کیا وطن سے محبت کا اظہار صرف ان دونوں میں سے ایک ہی طریقے سے کیا جا سکتا ہے؟۔
حقیقت یہ ہے کہ قومی پرچم محض کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں۔ یہ کسی قوم کی شناخت، خودمختاری، آزادی اور قومی وقار کی علامت ہوتا ہے۔ سبز ہلالی پرچم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کسی اتفاقی واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل جدوجہد، قربانیوں اور بے شمار لوگوں کی امیدوں کا ثمر ہے۔ اس پرچم کے سائے میں ہم ایک قوم کی حیثیت سے اپنی شناخت پاتے ہیں۔ اس لیے قومی پرچم کا درخت سے تقابل ہی درست نہیں۔ درخت زندگی کی علامت ہے اور پرچم قومی شناخت کی۔ ایک ہمیں سانس دیتا ہے اور دوسرا ہمیں اپنی شناخت کا احساس دلاتا ہے۔ دونوں اپنی اپنی جگہ ضروری ہیں۔
اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ شجرکاری کی اہمیت کم ہے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کو آج پہلے سے کہیں زیادہ درختوں کی ضرورت ہے۔ جنگلات کی کمی، بے تحاشا درختوں کی کٹائی، بڑھتی ہوئی گرمی، ماحولیاتی آلودگی، بارشوں کے بدلتے ہوئے انداز اور سیلاب جیسے مسائل ہمارے سامنے ہیں۔ درخت صرف سایہ نہیں دیتے، یہ زمین، پانی، ہوا، فصلوں، حیوانات اور انسانی زندگی کے محافظ ہیں۔
ہمیں یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ شجرکاری محض کسی ایک دن کی سرگرمی نہیں۔ یہ سلسلہ پورا سال جاری رہنا ضروری ہے۔ 14اگست کو ایک پودا لگا دینا اچھی بات ہے، لیکن سال بھر اس کی حفاظت کرنا اس سے کہیں بڑی بات ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں پودے لگانے کی تصویریں تو بہت بنتی ہیں، مگر چند ماہ بعد اکثر وہی پودے پانی اور دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث مر جاتے ہیں۔ ہمیں ’’ درخت لگانے‘‘ سے آگے بڑھ کر ’’ درخت بچانے‘‘ کی مہم شروع کرنا ہوگی۔
یہ بہت ضروری ہے کہ ہر گھر، ہر اسکول، ہر مسجد، ہر سرکاری دفتر، ہر فیکٹری اور ہر بازار کو اپنے حصے کا سبزہ پیدا کرنا چاہیے۔ اگر ہر پاکستانی اپنی زندگی میں صرف چند پودے لگا کر انہیں درخت بننے تک محفوظ رکھنے کا عزم کر لے تو چند برس میں پاکستان کا نقشہ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے قومی پرچم کو قربان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
ہم 14اگست کو پرچم بھی لہرائیں اور پودا بھی لگائیں۔ جھنڈا بھی لگائیں، درخت بھی لگائیں۔ پاکستان زندہ باد بھی کہیں اور پاکستان کو سرسبز بنانے کا عہد بھی کریں۔ یہی زیادہ خوب صورت، متوازن اور مثبت طرزِ فکر ہے۔
ویسے بھی قومی پرچم صرف 14اگست کا محتاج نہیں، لیکن 14اگست قومی پرچم کے بغیر ادھورا ضرور محسوس ہوتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے ہمارے بزرگوں نے کتنی قربانیاں دیں۔ نئی نسل کو قومی پرچم سے جوڑنا دراصل اسے پاکستان کی تاریخ اور شناخت سے جوڑنا ہے۔
یہ بات درست ہے کہ بعض اوقات لوگ قومی پرچم کے احترام کے تقاضوں کو ملحوظ نہیں رکھتے۔ جھنڈیاں سڑکوں پر پھینک دی جاتی ہیں، کاغذی پرچم کچرے میں نظر آتے ہیں اور بعض اوقات قومی پرچم کے تقدس کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ مگر اس کا حل یہ نہیں کہ پرچم لہرانا ہی چھوڑ دیا جائے۔ حل یہ ہے کہ قوم کو پرچم کا احترام سکھایا جائے۔
اس مقصد کے لیے اگست میں میڈیا، تعلیمی اداروں، سرکاری محکموں، مساجد اور سماجی تنظیموں کو مل کر ایک بھرپور آگاہی مہم چلانی چاہیے۔ بچوں کو بتایا جائے کہ قومی پرچم کیسے لہرایا جاتا ہے، اسے زمین پر نہیں گرنے دینا چاہیے، اسے بے حرمتی سے بچانا چاہیے اور قومی پرچم کو محض ایک سجاوٹی چیز نہیں بلکہ قومی امانت سمجھنا چاہیے۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ حب الوطنی صرف نعرے لگانے کا نام نہیں۔ ملک سے محبت ٹیکس ایمانداری سے ادا کرنے، قانون کی پابندی کرنے، صفائی رکھنے، درخت لگانے، پانی بچانے، بجلی ضائع نہ کرنے، رشوت سے انکار کرنے اور اپنے فرائض دیانت داری سے ادا کرنے کا نام بھی ہے۔
اگر کوئی شخص 14اگست کو اپنے گھر پر پرچم لہراتا ہے لیکن سڑک پر کچرا پھینکتا ہے تو اس کی حب الوطنی ادھوری ہے۔ اگر کوئی شخص درخت لگاتا ہے لیکن اسے پانی نہیں دیتا تو اس کی شجرکاری بھی ادھوری ہے۔ اگر کوئی شخص پاکستان زندہ باد کہتا ہے لیکن اپنے کام میں بددیانتی کرتا ہے تو اسے اپنے رویے پر بھی غور کرنا چاہیے۔ پاکستان کو آج نعروں سے زیادہ کردار کی ضرورت ہے۔
ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جو ایک ہاتھ میں قومی پرچم اٹھائے اور دوسرے ہاتھ سے پودا لگائے؛ جو آزادی پر فخر بھی کرے اور آزادی کی ذمہ داری بھی سمجھے؛ جو اپنے ماضی پر ناز کرے مگر مستقبل کی تعمیر کے لیے اپنا کردار بھی ادا کرے۔ لہٰذا اس 14اگست پر کسی ’’ جھنڈے نہیں، پودے‘‘ کے مقابلے میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ ہمارا پیغام اس سے کہیں خوب صورت ہونا چاہیے: جھنڈے بھی، پودے بھی! گھروں پر پرچم بھی لہرائیں، زمین میں پودے بھی لگائیں۔ آزادی کا جشن بھی منائیں اور آنے والی نسلوں کے لیے سایہ بھی چھوڑ جائیں۔ قومی پرچم ہماری شناخت کا محافظ ہے اور درخت ہماری زندگی کے محافظ۔ پاکستان کو دونوں کی ضرورت ہے۔
آئیے! اس یومِ آزادی ایک ایسا عہد کریں جو صرف ایک دن تک محدود نہ ہو۔ ہر سال کم از کم چند درخت لگائیں، ان کی حفاظت کریں، قومی پرچم کا احترام کریں، اپنے اردگرد صفائی رکھیں اور اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کریں۔کیونکہ پاکستان صرف نقشے پر بنی ہوئی ایک سرحد کا نام نہیں؛ پاکستان ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اور جس دن ہر پاکستانی یہ سمجھ لے گا کہ وطن کی تعمیر حکومت کی نہیں، ہم سب کی ذمہ داری ہے، اسی دن پاکستان کا مستقبل واقعی روشن ہونا شروع ہو جائے گا۔ ہمارا پرچم ہماری شان ہے، درخت ہماری جان ہیں؛ آئیے اس آزادی پر دونوں کا احترام کریں، دونوں کو پروان چڑھائیں اور اپنے پاکستان کو دل سے بھی مضبوط اور زمین سے بھی سرسبز بنائیں۔





