Column

روایتی بجٹ یا انقلابی اصلاحات

روایتی بجٹ یا انقلابی اصلاحات
شاہد ندیم احمد
اس وقت ملک اپنی تاریخ کے نازک ترین معاشی موڑ پر کھڑا ہے، مالی سال 2026۔27ء کا وفاقی بجٹ ایک ایسے وقت میں آرہا ہے کہ جب ملک طویل معاشی جمود، بے لگام مہنگائی اور بیرونی قرضوں کے سنگین بوجھ تلے دبا ہوا ہے، اس حد تک صورتحال تشویشناک ہو چکی ہے کہ اب بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے بھی مزید قرضے لینا پڑتے ہیں، اس خطرناک چکر سے نکلنے کے لیے ملک کے ممتاز معاشی ماہرین متفقہ طور پر آواز اٹھا رہے ہیں کہ حکومت کو اب آئی ایم ایف کے قلیل مدتی اہداف اور روایتی معاشی اقدامات کی حد سے باہر نکلنا ہوگا، معیشت کو پائیدار راستے پر گامزن کرنے کے لیے آنے والے بجٹ کا رخ انسانی ترقی، پیداواری صلاحیتوں میں اضافے اور طویل مدتی سرمایہ کاری کی طرف موڑنا، کوئی انتخاب نہیں، بلکہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکا ہے۔
اگر ماضی کی پالیسیوں پر نظر دوڑائیں تو واضح ہوجاتا ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ عارضی حل تلاش کرنا رہا ہے، ہماری پالیسیاں عرصہ دراز سے فوری ریلیف یا عارضی استحکام کے ہی گرد گھومتی رہی ہیں، اس کا نتیجہ نکلا کہ ملک کا مینوفیکچرنگ سیکٹر سکڑ گیا، برآمدات جمود کا شکار ہو گئیں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہو گیا، ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ قرضوں پر زیادہ انحصار نے پاکستان کو ایک ایسے چکر میں پھنسا دیا ہے کہ جہاں نئے قرضے صرف پرانے قرضوں کی قسطیں چکانے اور بجٹ خسارہ پورا کرنے میں ہی ختم ہو جاتے ہیں، اس کا براہِ راست اور بدترین اثر عام آدمی پر پڑتا ہی جوکہ مہنگائی کے طوفان اور بھاری ٹیکسوں کے بوجھ تلے پس رہا ہے، اس جمود کو توڑنے کے لیے آنے والے بجٹ کو روایتی اعداد و شمار کی جادوگری کے بجائے انقلابی اور مسلسل معاشی اصلاحات کا عکاس ہونا چاہیے۔
دنیا میں کسی بھی معیشت کی اصل طاقت عوام ہوتے ہیں، اس لیے معاشی ماہرین کی اولین سفارش ہے کہ تعلیم، صحت اور ہنرمندی کی ترقی کے لیے بجٹ میں مختص رقم میں خطیر اضافہ کیا جائے، ہماری افرادی قوت جب تک جدید دور کے تقاضوں، جیسے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور جدید مینوفیکچرنگ سے ہم آہنگ نہیں ہوگی، ہم عالمی مارکیٹ کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہو سکتے ،ہمیں تعلیم اور صحت پر سرمایہ کاری کو ’’ اخراجات‘‘ کے بجائے ’’ طویل مدتی منافع بخش سرمایہ کاری‘‘ سمجھنا ہوگا، کیونکہ ایک صحت مند اور ہنرمند نوجوان نسل ہی ملکی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کا اصل ذریعہ بنتی ہے، اگر افرادی قوت ہنرمند ہوگی تو اس کا براہِ راست مثبت اثر ملک کی پیداواری صلاحیتوں، بالخصوص زراعت اور صنعت پر پڑے گا۔
پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے، لیکن آج ہم اپنی خوراک کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے بھی درآمدات پر انحصار کر رہے ہیں، ماہرین کے مطابق بجٹ 2026۔27ء میں زراعت اور لائیو سٹاک کے شعبے میں انقلابی اقدامات ناگزیر ہیں، اس کے تحت کسانوں کو سستے بیج، کھاد اور جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی، زراعت کے ساتھ صنعتی شعبے کو فروغ دینے کے لیے توانائی کی قیمتوں کو منطقی بنانا اور کاروباری لاگت کو کم کرنا ہو گا، ملک کے اندر اشیاء کی پیداوار جب تک نہیں بڑھے گی، ہم مہنگائی پر قابو پا سکتے ہیں نہ ہی برآمدات میں اضافہ کر سکتے ہیں، اس لیے بجٹ کا بنیادی ہدف درآمدات کے متبادل کی مقامی تیاری ہونا چاہیے، ملک میں پیداواری صلاحیتوں کو بڑھانے اور صنعتوں کو چلانے کے لیے جہاں ایک طرف سرمائے کی ضرورت ہے، وہاں دوسری طرف حکومت کو اپنے ریونیو میں اضافے کے لیے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہوگا۔ پاکستان کا موجودہ ٹیکس نظام انتہائی غیر منصفانہ ہے، جہاں پہلے سے ٹیکس دینے والے تنخواہ دار طبقے اور مینوفیکچرنگ سیکٹر پر تو مزید بوجھ ڈال دیا جاتا ہے، مگر بڑے مگرمچھوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے، اس امتیازی سلوک کاسد باب ہو نا چاہئے اور اس بار زراعت، پراپرٹی کا کاروبار اور ہول سیل ریٹیل سیکٹر جیسے غیر دستاویزی شعبوں کو ہر صورت ٹیکس نیٹ میں لانا چاہئے، اس ملک کے اشرافیہ اور بااثر لابیوں کو جب تک ٹیکس کے دائرے میں نہیں لایا جائے گا، ٹیکس چوری کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا اور آمدن پر مبنی یہی منصفانہ ٹیکس نظام سے ہی بجٹ خسارے کو کم کر کے مزید قرضوں سے نجات کا راستہ کھولے گا۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مالی سال 2026۔27ء کا بجٹ صرف ایک سال کے نفع نقصان کا روایتی حساب کتاب نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے اگلے دس سال کے معاشی سفر کی مضبوط بنیاد رکھنا ہوگی، آئی ایم ایف کے شرائط اور قلیل مدتی اہداف کو پورا کرنا عارضی ضرورت ہو سکتی ہے، لیکن ملکی بقا اور حقیقی خود مختاری کے لیے طویل مدتی معاشی اصلاحات ہی واحد حل ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت سیاسی مصلحتوں اور عارضی فائدوں کو بالائے طاق رکھ کر معاشی ماہرین کی ان جرات مندانہ سفارشات پر عمل کرے، اگر اب بھی انسانی ترقی، ٹیکس اصلاحات اور ملکی پیداواری صلاحیتوں میں اضافے کو ترجیح نہ دی گئی تو معیشت کا گرتا ہوا ڈھانچہ سنبھالنا ناممکن ہو جائے گا، یہ بجٹ روایتی تجربات کا نہیں، بلکہ معاشی جرات مندی دکھانے کا آخری اور فیصلہ کن موقع ہے۔

جواب دیں

Back to top button