مری ایکسپریس وے کا المناک سانحہ اور ہماری اجتماعی بے حسی

مری ایکسپریس وے کا المناک سانحہ اور ہماری اجتماعی بے حسی
غلام مصطفیٰ جمالی
پاکستان میں سڑک حادثات کوئی نئی بات نہیں۔ قریباً ہر روز ملک کے کسی نہ کسی حصے سے ٹریفک حادثات، قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور خاندانوں کے اجڑنے کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں، لیکن بعض سانحات ایسے ہوتے ہیں جو صرف ایک خبر نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ مری ایکسپریس وے پر ملتان سے مری جانے والے ایک خاندان کی گاڑی کو پیش آنے والا حالیہ افسوسناک حادثہ بھی انہی سانحات میں شامل ہے جس نے پورے ملک کو غمزدہ کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک ہائی ایس وین میں آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے کم از کم دس افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ تیرہ افراد زخمی ہوئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں بچوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔ یہ خبر محض چند سطروں پر مشتمل ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا انسانی المیہ ہے جس کے اثرات برسوں تک متاثرہ خاندان کے دلوں پر نقش رہیں گے۔
جب بھی کسی حادثے میں بچے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں تو اس کا درد کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ بچے کسی بھی معاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں، ان کی مسکراہٹیں گھروں کی رونق اور والدین کی امیدوں کا مرکز ہوتی ہیں۔ ایک لمحے میں ان معصوم جانوں کا بجھ جانا صرف ایک خاندان کا نقصان نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک ناقابلِ تلافی صدمہ ہے۔ مری کی حسین وادیوں میں خوشیاں تلاش کرنے نکلنے والا یہ خاندان شاید یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ سفر کے دوران ایک ایسا حادثہ ان کا منتظر ہے جو ان کی زندگیوں کو ہمیشہ کے لیے بدل دے گا۔
یہ سانحہ ایک بار پھر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آخر ہمارے ہاں سڑکوں پر انسانی جان اتنی غیر محفوظ کیوں ہے؟ ہر حادثے کے بعد چند دن تک افسوس کا اظہار کیا جاتا ہے، تحقیقات کے اعلانات ہوتے ہیں، ذمہ داروں کے تعین کی باتیں کی جاتی ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ پھر کسی اور شہر، کسی اور شاہراہ اور کسی اور خاندان کے ساتھ ایک نیا حادثہ پیش آ جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے حادثات کو اپنی اجتماعی زندگی کا معمول سمجھ لیا ہے۔
پاکستان میں ٹریفک حادثات کی وجوہات بے شمار ہیں۔ تیز رفتاری، ڈرائیوروں کی تھکاوٹ، گاڑیوں کی ناقص حالت، سڑکوں کے خطرناک موڑ، حفاظتی اقدامات کی کمی اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد میں کمزوری ان حادثات کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔ خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں سفر کے دوران اضافی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ایک معمولی غلطی بھی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔ مری، گلیات اور دیگر سیاحتی مقامات کی طرف جانے والی سڑکوں پر سالانہ لاکھوں گاڑیاں سفر کرتی ہیں۔ ایسے میں متعلقہ اداروں کی ذمہ داری کئی گنا بڑھ جاتی ہے کہ وہ مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مثر اقدامات کریں۔
اس سانحہ کا ایک اور پہلو گاڑی میں آگ لگنے کا واقعہ ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں پبلک ٹرانسپورٹ اور مسافر گاڑیوں میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے خصوصی حفاظتی انتظامات موجود ہوتے ہیں۔ آگ لگنے کی صورت میں مسافروں کے فوری انخلا کے لیے متعدد راستے اور حفاظتی نظام فراہم کیے جاتے ہیں۔ اگر کسی گاڑی کے دروازے حادثے کے باعث جام ہو جائیں تو متبادل راستوں کے ذریعے جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے اس قسم کے حفاظتی انتظامات اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے حادثات میں جانی نقصان بڑھ جاتا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سیاحتی مقامات کی طرف جانے والی سڑکوں پر اکثر مسافر گاڑیوں میں گنجائش سے زیادہ افراد سوار ہوتے ہیں۔ چھوٹی گاڑیوں میں زیادہ مسافروں کو بٹھانے کا رجحان نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی جانوں کے لیے بھی خطرہ بنتا ہے۔ جب کسی حادثے میں گاڑی الٹتی ہے یا آگ لگتی ہے تو زیادہ مسافروں کی موجودگی ریسکیو کارروائیوں کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹرانسپورٹ قوانین پر سختی سے عمل کرایا جائے اور کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کو برداشت نہ کیا جائے۔
اس سانحہ نے ایک بار پھر ریسکیو اداروں کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔ ریسکیو 1122، موٹروے پولیس اور دیگر امدادی اداروں نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر کارروائیاں شروع کیں۔ ایسے مواقع پر ہر منٹ قیمتی ہوتا ہے کیونکہ بروقت امداد سے کئی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ پاکستان میں ریسکیو سروسز نے گزشتہ برسوں میں نمایاں ترقی کی ہے لیکن اب بھی بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ جدید آلات، تربیت یافتہ عملہ اور بہتر رابطہ نظام حادثات کے اثرات کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
معاشرتی سطح پر بھی ہمیں اپنے رویوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اکثر لوگ سفر کے دوران حفاظتی اصولوں کو معمولی سمجھتے ہیں۔ سیٹ بیلٹ کا استعمال، گاڑی کی فٹنس کی جانچ، رفتار کی پابندی اور ڈرائیور کی جسمانی حالت پر توجہ جیسے عوامل کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ جب تک عوام خود اپنی حفاظت کو ترجیح نہیں دیں گے، صرف قوانین بنا لینے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکیں گے۔
مری ایکسپریس وے کا یہ حادثہ صرف ایک سڑک حادثہ نہیں بلکہ ایک قومی المیہ ہے جو ہمیں اپنی ترجیحات پر نظرثانی کا پیغام دیتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار عوامل کی نشاندہی کی جائے اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ متاثرہ خاندان کے دکھ کا مداوا تو ممکن نہیں لیکن اگر اس حادثے سے سبق سیکھ کر انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے تو شاید ان قیمتی جانوں کی قربانی رائیگاں نہ جائے۔





