Column

عزتِ نفس کے قیدی لوگ

عزتِ نفس کے قیدی لوگ!
تحریر: عابد ضمیر ہاشمی
عیدالاضحیٰ صرف ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ ایثار، قربانی، محبت اور انسانیت کا عظیم درس ہے۔ یہ دن ہمیں حضرت ابراہیمٌ اور حضرت اسماعیلٌ کی بے مثال اطاعت و قربانی کی یاد دلاتا ہے، جب ایک باپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر اپنی سب سے محبوب چیز قربان کرنے کا ارادہ کیا اور ایک بیٹے نے بھی رضا و تسلیم کا اعلیٰ ترین نمونہ پیش کیا۔ یہی وہ جذبہ ہے جو عیدالاضحیٰ کو محض خوشیوں کی عید نہیں بلکہ ایمان، وفاداری اور قربانی کی علامت بنا دیتا ہے۔
آج کے دور میں عیدالاضحیٰ کا اصل پیغام سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنی خواہشات، انا، غرور، نفرت اور خودغرضی کو اللہ کی رضا کے لیے قربان کرنے کا نام بھی ہے۔ اگر انسان اپنے اندر موجود برائیوں کو ختم نہیں کرتا تو محض رسم ادا کر لینے سے قربانی کا حقیقی مقصد حاصل نہیں ہوتا۔
عید ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ خوشیاں صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے ساتھ بانٹنے کے لیے ہوتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں بے شمار سفید پوش، غریب اور مجبور لوگ ایسے ہیں جو عید کی خوشیوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ کئی گھروں میں بچوں کی خواہشیں ادھوری رہ جاتی ہیں، کئی مائیں خاموشی سے اپنے حالات پر صبر کرتی ہیں۔ ایسے میں صاحبِ استطاعت افراد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے اردگرد موجود ضرورت مند لوگوں کو نہ بھولیں۔ قربانی کے گوشت کی تقسیم صرف ایک رسم نہیں بلکہ معاشرتی مساوات اور بھائی چارے کا عملی اظہار ہے۔
بدقسمتی سے آج عید الاضحیٰ بھی نمود و نمائش کی دوڑ کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ مہنگے جانور، سوشل میڈیا پر تصاویر اور مقابلے بازی نے اس عبادت کی روح کو کہیں نہ کہیں متاثر کیا ہے۔ حالانکہ اسلام سادگی، اخلاص اور تقویٰ کا درس دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہ جانوروں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ انسان کا تقویٰ اور نیت قبول ہوتی ہے۔ ہمارے اردگرد بے شمار ایسے لوگ موجود ہیں جو بظاہر عام زندگی گزارتے دکھائی دیتے ہیں مگر حقیقت میں شدید مالی، ذہنی اور معاشرتی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ وہ سفید پوش لوگ ہیں جو اپنی عزتِ نفس بچانے کے لیے خاموشی سے دکھ سہتے رہتے ہیں۔ نہ وہ ہاتھ پھیلاتے ہیں، نہ اپنے حالات کا رونا روتے ہیں، بلکہ ٹوٹتے ہوئے بھی خود کو سنبھالے رکھتے ہیں۔
سفید پوش طبقہ ہمارے معاشرے کا سب سے مظلوم طبقہ بن چکا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کبھی اچھی زندگی کے خواب رکھتے تھے، اپنے بچوں کو بہترین تعلیم دلانا چاہتے تھے، عزت کے ساتھ جینا چاہتے تھے، مگر مہنگائی، بے روزگاری، کم آمدنی اور حالات کی سختیوں نے ان کی کمر توڑ دی۔ ان کے گھروں میں اکثر فاقے ہوتے ہیں لیکن پردے ہمیشہ صاف نظر آتے ہیں۔ بچوں کی خواہشیں دل میں دفن ہو جاتی ہیں مگر زبان پر شکوہ نہیں آتا۔ یہ لوگ دوسروں کے سامنے مسکراتے ہیں مگر رات کی تنہائی میں آنسو بہاتے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اکثر ان لوگوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ امداد کے نام پر یا تو دکھاوا کیا جاتا ہے یا صرف اُن لوگوں تک مدد پہنچتی ہے جنہیں ہم پسند کرتے ہیں یا جن سے ہمیں مستقبل میں امیدیں وابستہ کی ہوتی ہیں۔ سفید پوش انسان اپنی خود داری کی وجہ سے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا، اسی لیے وہ اکثر امداد اور توجہ سے محروم رہ جاتا ہے۔ کئی گھروں میں بیماریاں علاج نہ ملنے سے بڑھتی رہتی ہیں، کئی باصلاحیت بچے صرف فیس نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم چھوڑ دیتے ہیں، اور کئی مائیں خاموشی سے اپنے بچوں کی خواہشوں کا گلا گھونٹ دیتی ہیں۔
یہ طبقہ معاشرے کی حقیقی توجہ کا مستحق ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اردگرد ایسے لوگوں کو پہچانیں۔ ان کی عزتِ نفس مجروح کیے بغیر ان کی مدد کریں۔ کسی کے گھر راشن پہنچا دینا، کسی طالب علم کی فیس ادا کر دینا، کسی بیمار کے علاج میں تعاون کرنا یا کسی بے روزگار کو روزگار فراہم کرنا دراصل انسانیت کی خدمت ہے۔ نیکی وہی ہے جو خاموشی سے کی جائے اور کسی کی عزت پر حرف نہ آنے دے۔
آج ہم سوشل میڈیا کے دور میں دکھاوے کے عادی ہو چکے ہیں۔ کسی غریب کی مدد بھی کی جائے تو تصویر اور ویڈیو کے بغیر مکمل نہیں سمجھی جاتی۔ حالانکہ سفید پوش انسان کو سب سے زیادہ تکلیف اسی چیز سے ہوتی ہے کہ اس کی مجبوری کو تماشا بنا دیا جائے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مدد کا اصل حسن اخلاص اور رازداری میں ہے، نہ کہ شہرت اور تعریف میں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے دلوں میں احساس پیدا کریں۔ کسی کے لباس، ظاہری حالت یا خاموشی کو اس کی خوشحالی نہ سمجھیں۔ ہوسکتا ہے جو شخص سب کے سامنے مسکرا رہا ہو، وہ اندر سے شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو۔ سفید پوش لوگ ہماری توجہ، ہمدردی اور احترام کے مستحق ہیں۔ اگر ہم نے ان کے درد کو محسوس کرنا سیکھ لیا تو یقیناً ہمارا معاشرہ زیادہ مہذب، بااخلاق اور انسان دوست بن سکتا ہے۔
عید الاضحیٰ ہمیں اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام بھی دیتی ہے۔ آج ہمارا معاشرہ نفرت، تقسیم اور بے حسی کا شکار ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس مبارک موقع پر محبت و اخوت کو فروغ دیں۔ حقیقی عید وہی ہے جس میں کسی دکھی دل کو خوشی ملے، کسی بھوکے کو کھانا نصیب ہو اور کسی ضرورت مند کی آنکھ میں امید کی روشنی جاگے۔
یہ عید ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے دی گئی ہر قربانی کبھی ضائع نہیں جاتی۔ اگر ہم اپنی ذات سے نکل کر دوسروں کے لیے جینا سیکھ لیں، معاشرے کے کمزور طبقات کا سہارا بن جائیں اور اخلاص کے ساتھ انسانیت کی خدمت کریں تو یہی عید الاضحیٰ کا اصل پیغام ہوگا۔ آئیں! اس عید پر ہم صرف جانوروں کی نہیں بلکہ اپنی منفی سوچ، خودغرضی اور بے حسی کی بھی قربانی دیں، تاکہ ہمارا معاشرہ محبت، ہمدردی اور انسانیت کا گہوارہ بن سکے۔ سفید پوش طبقے کی خاموش سسکیوں کو سننا اور ان کا سہارا بننا ہی دراصل حقیقی عید ہے۔ اس خوشی کے موقع پر انہیں یاد رکھنا چاہیے جو مانگ نہیں سکتے کیوں کہ وہ عزتِ نفس کے قیدی ہیں۔

جواب دیں

Back to top button