Column

امن ہی اصل طاقت

امن ہی اصل طاقت
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر پوری دنیا کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں، دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی۔ گزشتہ روز روسی صدر پوتن نے چین کا دورہ کیا۔ چینی ہم منصب شی جن پنگ سے انتہائی اہم ملاقات کی، جو غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے، جہاں دونوں رہنماں نے دنیا میں بڑھتی کشیدگی، طاقت کی سیاست اور امن کے قیام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ چینی صدر شی جن پنگ نے درست کہا کہ دنیا دوبارہ ’’ جنگل کے قانون‘‘ کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں طاقتور ممالک اپنی طاقت کے بل بوتے پر فیصلے مسلط کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر عالمی طاقتیں اسی روش پر چلتی رہیں تو دنیا مسلسل عدم استحکام، خوف اور تباہی کی لپیٹ میں رہے گی۔ طاقت کے استعمال سے وقتی برتری تو حاصل کی جاسکتی ہے مگر پائیدار امن کبھی قائم نہیں کیا جاسکتا۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ تنائو نے دنیا کو ایک خوفناک جنگ کے سائے میں دھکیل دیا تھا۔ اگر یہ تنازع مزید بڑھتا تو پورا مشرقِ وسطیٰ آگ کی لپیٹ میں آسکتا تھا، عالمی معیشت شدید متاثر ہوتی، تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتیں اور لاکھوں انسانوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جاتیں۔ جنگیں صرف سرحدوں کو نہیں جلاتیں بلکہ انسانیت، معیشت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بھی تباہ کر دیتی ہیں۔ اس صورت حال میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم اور قابلِ تحسین رہا۔ پاکستان نے نہایت ذمے داری اور تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی۔ پاکستان مسلسل یہ موقف اختیار کرتا رہا کہ مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ سفارت کاری اور مذاکرات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ روس نے بھی پاکستان کی ثالثی اور امن کی کوششوں کی حمایت کی، جو پاکستان کی سفارتی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ نیا کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایٹمی دور میں جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں رہی۔ آج کی جنگ صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ معیشتیں تباہ ہوتی ہیں، خوراک کا بحران جنم لیتا ہے، مہاجرین کی تعداد بڑھتی ہے اور عالمی امن خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ روس اور چین کی جانب سے مذاکرات اور جنگ بندی پر زور دینا دراصل عالمی برادری کے لیے ایک اہم پیغام ہے کہ طاقت کے بجائے دانشمندی سے فیصلے کیے جائیں۔ بدقسمتی سے آج دنیا میں طاقت کی سیاست ایک بار پھر زور پکڑ رہی ہے۔ بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے چھوٹے ممالک کو میدانِ جنگ بنا دیتی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کئی دہائیوں سے اسی پالیسی کا شکار ہے۔ عراق، شام، لیبیا اور افغانستان کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں جنگوں نے صرف تباہی اور بے یقینی کو جنم دیا۔ لاکھوں انسان مارے گئے، کروڑوں بے گھر ہوئے مگر مسائل آج بھی حل طلب ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ تنازع اگر مکمل جنگ میں تبدیل ہو جاتا تو اس کے اثرات جنوبی ایشیا تک محسوس کیے جاتے۔ پاکستان جیسے ممالک، جو پہلے ہی معاشی مشکلات سے گزر رہے ہیں، مزید دبا کا شکار ہوتے۔ اسی لیے پاکستان نے امن کے قیام کے لیے فعال کردار ادا کیا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ خطے میں استحکام ہی ترقی کی ضمانت ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ عالمی طاقتیں اب جنگ کے بجائے نئے سفارتی توازن کی تلاش میں ہیں۔ روس اور چین دونوں نے واضح کیا ہے کہ عالمی مسائل کا حل طاقت نہیں بلکہ منصفانہ عالمی نظام، مذاکرات اور تعاون میں ہے۔ یہ موقف نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔ دنیا کو اس وقت ہتھیاروں کی دوڑ نہیں بلکہ غربت، بھوک، ماحولیاتی تبدیلی اور بے روزگاری جیسے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر عالمی طاقتیں اپنی توانائیاں جنگوں کے بجائے انسانی ترقی پر صرف کریں تو دنیا ایک محفوظ اور خوشحال جگہ بن سکتی ہے۔ جنگ ہمیشہ تباہی لاتی ہے جبکہ امن ترقی، خوشحالی اور استحکام کی بنیاد بنتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ عوام کبھی جنگ نہیں چاہتے۔ جنگوں کا فیصلہ چند طاقتور حلقے کرتے ہیں مگر اس کی قیمت عام لوگ ادا کرتے ہیں۔ مائیں اپنے بیٹے کھو دیتی ہیں، بچے یتیم ہوجاتے ہیں اور پورے معاشرے نفسیاتی زخموں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ دنیا نفرت، انتقام اور طاقت کے فلسفے کو ترک کرکے امن، مکالمے اور باہمی احترام کی راہ اپنائے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے کی کوششیں اگر کامیاب ہوتی ہیں تو یہ صرف ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک امید ہوگی۔ پاکستان، روس اور چین جیسے ممالک کا کردار اس حوالے سے اہم ہے کہ وہ دنیا کو مذاکرات کی طرف لے جانے میں اپنا مثبت اثر و رسوخ استعمال کریں۔ آج انسانیت کو جنگ نہیں، امن چاہیے۔ دنیا کو میزائلوں سے زیادہ مکالمے کی ضرورت ہے۔ طاقت کے مظاہرے وقتی ہوتے ہیں مگر امن کے ثمرات نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ یہی وقت ہے کہ عالمی قیادت ہوش مندی کا مظاہرہ کرے اور دنیا کو ایک اور تباہ کن جنگ سے بچائے، کیونکہ جنگیں کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتیں، بلکہ نئے مسائل کو جنم دیتی ہیں۔
اسمگلنگ میں 80فیصد کمی
پاکستان کی ساحلی سرحدیں ملکی سلامتی، معیشت اور داخلی استحکام میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کوسٹ گارڈز کا کردار صرف سمندری نگرانی تک محدود نہیں بلکہ قومی دفاع، انسدادِ اسمگلنگ، منشیات کی روک تھام اور غیر قانونی نقل و حمل کے خاتمے تک پھیلا ہوا ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری کی جانب سے پاسنگ آئوٹ پریڈ کے موقع پر دئیے گئے بیان نے اس حقیقت کو مزید اجاگر کیا ہے کہ ملک کو درپیش کئی بڑے چیلنجز سے نمٹنے میں کوسٹ گارڈز فرنٹ لائن فورس کے طور پر کام کر رہی ہے۔ وزیر مملکت طلال چودھری کی جانب سے رواں سال اسمگلنگ میں اسی فیصد کمی کا دعویٰ بلاشبہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں اسمگلنگ نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ مقامی صنعت، تجارت اور روزگار کے مواقع کو بھی متاثر کرتی ہے۔ اس کے ساتھ منشیات کی غیر قانونی ترسیل نوجوان نسل کے مستقبل کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ ایسے حالات میں کوسٹ گارڈز کی کارروائیاں قابل تحسین ہیں جنہوں نے سمندری راستوں کو جرائم پیشہ عناصر کے لیے مشکل بنا دیا ہے۔ یہ حقیقت بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کوسٹ گارڈز نے اپنی ذمی داریاں ادا کرتے ہوئے قربانیاں بھی دی ہیں۔ ساحلی علاقوں میں امن کے قیام کے لیے 23اہلکاروں کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ فورس خاموشی سے قومی خدمت انجام دے رہی ہے۔ ان قربانیوں کو صرف تعریفی بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے سراہنے کی ضرورت ہے تاکہ جوانوں کا مورال مزید بلند ہو۔ حکومت کو چاہیے کہ کوسٹ گارڈز کو جدید ٹیکنالوجی، بہتر تربیت اور اضافی وسائل فراہم کرے تاکہ بدلتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کا موثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔ ساحلی پٹی پر امن و استحکام نہ صرف داخلی سلامتی بلکہ معیشت، تجارت اور سمندری حیات کے تحفظ کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ پاکستان کوسٹ گارڈز کی مضبوطی دراصل پاکستان کی مضبوطی ہے۔ غیر قانونی تارکین وطن کی روک تھام ایک اہم قومی ضرورت بن چکی ہے۔ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس نہ صرف پاکستان کی ساکھ متاثر کرتے ہیں بلکہ کئی خاندانوں کو مشکلات سے دوچار کرتے ہیں۔ کوسٹ گارڈز کی نگرانی اور کارروائیوں نے اس مسئلے پر قابو پانے میں مدد دی ہے۔ ضروری ہے کہ عوام ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ ساحلی علاقوں کو غیر قانونی سرگرمیوں سے پاک بنایا جا سکے اور امن مستحکم رہے۔

جواب دیں

Back to top button